Book Name:Guldasta e Durood o Salam

اور کہا جائیگا اگر تُونے دُرُست جواب دئیے ہوتے تو تیرے لئے وہ  جنَّت کی کھِڑکی تھی ۔ یہ سن کر اُسے حسرت بالائے حسرت ہوگی ، کَفَن کو آگ کے کَفَن سے تبدیل کردیا جائیگا ، آگ کا بچھونا قَبر میں بچھا دیا جائیگا ، سانپ اور بچھُّو لپٹ جائیں گے ۔

ڈَنک مچھر کا بھی مجھ سے تو سَہا جاتا نہیں                    قبر میں بچھُّّو کے ڈَنک کیسے سہوں گا یارَبّ!

گُھپ اندھیرا ہی کیا وَحشت کا بسیرا ہوگا                   قبر میں کیسے اکیلا میں رہوں گا یارَبّ!

گر کَفَن پھاڑ کے سانپوں نے جمایا قبضہ                     ہائے بربادی! کہاں جا کے چھپوں گا یارَبّ!(وسائلِ بخشش، ص ۹۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اِمتِحان سر پر ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے ! قَبر وحشر کامُعامَلہ نِہایت سخت ہے ، اس اِمتحان میں وہی کامیاب ہوگا جس نے دُنیا میں اس کی تیاری کی ہوگی ۔  ہمارے اسکول یا کالج کے اِمتحانات قریب آتے ہیں تو ہم اس کی تیاریوں میں بہت زِیادہ مشغول ہوجاتے ہیں ۔ ہمارے ذِہنوں پر رات دِن بس ایک یہی دُھن سوار ہوتی ہے کہ ِامتحا ن سر پر ہے اِمتحان سر پر ہے ۔ اِمتحان کیلئے محنت بھی کرتے ہیں ، پاس ہونے کے لیے دُعائیں بھی کرتے ہیں اَوْراد و وَظائف بھی پڑھتے ہیں تقریباً ہر ایک کی خَو اہش ہوتی ہے کہ کسی طرح میں امتحان میں اچھّے نمبروں سے پاس ہوجاؤں ۔ ایک امتحان وہ بھی ہے جو قبر میں ہونے والا ہے ۔ اے کاش ! قبر کے اِمتحان کی تیاری ہمیں نصیب ہوجاتی ۔ آج اگر اِمکانی سُوالات یعنی (IMPORTANTS ) مل جائیں توطا لبِ علم اُس پر ساری ساری رات سر کھپاتے ہیں ، اگر نیند کُشا گولیاں کھانی پڑجائیں تووہ بھی کھاتے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم صرف اِمکانی سُوالات اور (IMPORTANTS) پر بَہُت زِیادہ محنت کرتے ہیں ، اے کا ش صَد کروڑ کاش ہمیں اس بات کا احساس بھی ہوجاتا کہ قبر  کے سُوالات اِمکانی نہیں بلکہ یقینی ہیں جو ہمیں اللّٰہعزَّوَجَلَّ کے پیا ر ے رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پیشگی ہی بتادئیے ہیں ۔ مگر اَفسوس !  قبر  کے سُوالات و جوابات کی طرف ہماری کوئی توجُّہ ہی نہیں ۔ آج ہم دُنیا میں آکر دُنیا کی رنگینیوں میں کچھ اس طرح گُم ہوگئے کہ ہمیں اس بات کا بالکل احساس تک نہ رہا کہ ہمیں مرنا بھی پڑیگا ۔ خُداراہوش کیجئے اورقَبر کے اِمتحان کی تیاری میں مشغول ہو جائیے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نَقْل کرنے والا ہی کامیاب

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ سبھی جانتے ہیں کہ دُنیا کے اِمتِحان میں نقل کرنا جُرم ہے مگر قَبر و آخِر ت کا اِمتحان بھی کیا خُوب ہے کہ اس میں  نقل کرناضَروری ہے ۔ اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے ہمیں ایسا پاکیزہ نُمُونہ عطا فرمادیا ہے کہ جومُسلمان اُس کی جتنی زِیادہ سے زِیادہ نقل کرے گا اُتنا ہی وہ کامیابی کے اَعلی مَراتب پر فائز ہوتا جائے گا ۔ چُنانچِہ خُدائے رحمن عَزَّوَجَلَّ اُس مُقَدَّس نُمُونے کا بیان اپنی پاک کتاب قرآنِ مجید میں اِرشاد فرماتا ہے ۔ چُنانچہ پارہ 21، سُوْرَۃُالْاَحْزَاب میں ارشادِباری تعالیٰ ہے  :  

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (پ۲۱، الاحزاب : ۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان :  بیشک تمہیں رسولُ اللّٰہ کی پیروی بہتر ہے  ۔

حضرتِ صدر ا لْافاضِل مولانا سیِّدمحمد نعیم ُالدِّین مُراد آبادی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی خَزائنُ العرفانمیں اس آیتِ کریمہ کے تَحت فرماتے ہیں  : ’’ان کا اچھی طرح اِتّباع کرو اور دینِ الٰہی کی مَدد کرو اور رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ساتھ نہ چھوڑو اور مَصائِب پر صَبر کرو اور رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سُنَّتوں پر چلو یہ بہتر ہے ۔ ‘‘

شہا! ایسا جَذْبہ پاؤں کہ میں خُوب سیکھ جاؤں               تری سُنَّتیں سکھانا مَدَنی مدینے والے

تِری سُنَّتوں پہ چل کر مری رُوح جب نکل کر            چلے تم گلے لگانا مَدَنی مدینے والے (وسائلِ بخشش، ص ۲۸۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! ہمیں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اُسوۂ حَسَنہ پر عمل کرتے ہوئے قَبر کے اِمتحان کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما اور سرکار عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام  سیمَحَبَّت رکھتے ہوئے آپ کی ذاتِ طیبہ پر زِیادہ سے زِیادہ دُرُودِپاک پڑھنے کی توفیق عطافرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 51

رَحْمت کے سَتَّر دروازے

          حضرتِ سیِّدُنا ابو المظفَّر محمد بن عبدُاللّٰہ خَیّامسَمرقَنْدی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی فرماتے ہیں  :  میں ایک روز راستہ بُھول گیا، اچانک ایک صاحِب نظر آئے اور اُنہوں نے کہا :  ’’میرے ساتھ آؤ ۔ ‘‘ میں ان کے ساتھ ہولِیا ۔  مجھے گُمان ہوا کہ یہ حضرتِ سیِّدُنا خِضَرعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام ہیں ۔ میرے اِستِفسار پر اُنہوں نے اپنا نام خِضَربتایا، ان کے ساتھ ایک اور بُزُرگ بھی تھے ، میں نے ان کا نام دریافت کیا تو فرمایا : ’’ یہ اِلیاسعَلَیْہِ السَّلام  ہیں ۔ ‘‘ میں نے عرض کی  :  ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّآپ پررَ حمت فرمائے ، کیا آپ دونوں حَضَرات نے سرورِ کائنات ،  شَہَنشاہِ موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت کی ہے ؟‘‘ اُنہوں نے فرمایا : ’’ ہاں !‘‘ میں نے عرض کی :  ’’سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سُنا ہوا (کوئی) ارشادِ پاک بتایئے تاکہ میں آپ سے رِوایت کر سکوں  ۔ ‘‘ اُنہوں نے فرمایا :  ’’ ہم نے رسولِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ جو شخص مجھ پردُرُود ِ پاک پڑھے اُس کا دل نِفاق سے اِسی طرح پاک کیاجاتا ہے جس طرح پانی سے کپڑا پاک کیا جاتا ہے ۔ نیز



Total Pages: 141

Go To