Book Name:Ihtiram e Muslim

بالخصوص والدین کے حق میں  نہایت ہی تند مزاج و بداَخلاق ہوتے ہیں۔ایسوں  کی توجہ کیلئے عرض ہے ،  حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے،   سرکارِدو عالم،  نورِ مجسم،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ معظَّم ہے :  ’’تین شخص جنت میں  نہیں  جائیں  گے ،  ماں  باپ کو ستانے والا اور دَیوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت۔ ‘‘(مَجْمَعُ الزَّوائِد ج۸ ص۲۷۰ حدیث۱۳۴۳۲)

دَ یُّوث کی تعریف

   بیان کردہ حدیثِ پاک میں  ماں  باپ کو ایذاء دینے والے کے ساتھ ساتھ دَیوث کے بارے میں  بھی وَعیدہے کہ وہ جنت سے محروم کردیا جائے گا۔’’ دَیوث ‘‘1 یعنی وہ شخص جواپنی بیوی یا کسی محرم پرغیرت نہ کھائے ۔(دُرِّمُختارج۶ ص ۱۱۳ ) مطلب یہ کہ  باوجودِ قدرت اپنی زوجہ ،  ماں ،   بہنوں اور جوان بیٹیوں  وغیرہ کو گلیوں  بازاروں  ،   شاپنگ سینٹروں   اور مَخْلُوط  تفریح گاہوں  میں  بے پردہ گھومنے پھر نے،   اجنبی پڑوسیوں  ،   نامَحرم رِشتے داروں  ،   غیرمحرم.1 ملازِموں ،   چوکیدار وں  اور ڈرائیوروں  سے بے تکلفی اور بے پر دَ گی سے منع نہ کرنے والے دَیُّوث،   جنت سے محروم اور جہنم کے حقدار ہیں۔

          یاد رکھئے ! دیگر نامحرموں  کے ساتھ ساتھ تایازاد،   چچازاد ،  ماموں  زاد،   خالہ زاد،   پھوپھی زاد ،  چچی،  تائی،  ممانی ،  بہنوئی،  خالو اورپھوپھا نیز دَیور و جیٹھ او ر بھابھی کے درمیان بھی شریعت نے پردہ رکھا ہے۔ اگر عورت مذکورہ رشتے داروں  سے بے تکلف رہے گی اور ان سے شرعی پردہ نہیں  کریگی توجہنم کی حق دار ہے اور شوہر اپنی اِستطاعت کے مطابق بیوی کو اِس گناہ سے نہیں  روکے گا تو شرعاً وہ ’’دَیوث ‘‘ ابتداء ً جنت سے محروم اور عذاب نار کا مستحق ہے ۔ جو علانیہ دیوث ہے وہ فاسق معلن،  ناقابل امامت ومردودُ الشَّہادۃ (یعنی گواہی کیلئے نالائق ) ہے ۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  عاشِقانِ رسول کے مَدَنی قافلوں  میں  سنتوں  کی تربیت کے لیے سفر اورروزانہ فکرِ مدینہ کے ذریعے مَدَنی انعامات کا رسالہ پر کر کے ہر مدنی ماہ کے پہلے دن اپنے یہاں  کے ذمے دار کو جمع کروانے کا معمول بنائیے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بے حَیائی کا مرض دیوثی اوردیگرگناہوں  کے اَمراض بھی اُن میٹھے میٹھے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صَدقے میں  دور ہوں گے جن کی حیا سے جھکی ہوئی مبارَک نگاہوں  کا واسطہ پیش کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ رب العزت میں  عرض کرتے ہیں   :   ؎

یا الٰہی رنگ لائیں  جب مِری بے باکیاں

                    اُن کی نیچی نیچی نظروں  کی حیا کا ساتھ ہو (حدائقِ بخشش)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مَردانہ لباس والی جنّت سے محروم

          حدیث پاک میں  مردانی وَضع بنانے والی عورت کوبھی جنت سے محروم قرار دیاگیا ہے۔تو جو عورت مردانہ لباس ،  یا مردانہ جوتے پہنے یا مردانہ طرزکے بال کٹوائے وہ بھی اِس وَعید میں داخل ہے۔آج کل بچوں  میں  اس بات کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا،   لڑکے کو لڑکی کا لباس پہنادیا جاتا ہے جس سے وہ لڑکی معلوم ہوتا ہے جبکہ لڑکی کو مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ  لڑکے کا لباس مَثَلاً پینٹ شرٹ،   لڑکے کے جوتے اور ہیٹ وغیرہ پہنادیتے ہیں ،   بال بھی لڑکے جیسے رکھوائے جاتے ہیں  کہ دیکھنے میں  بالکل لڑکا معلوم ہوتی ہے۔ صَدرُالشَّریعہ،  بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی   لکھتے ہیں  : ’’ بچّوں  کے ہاتھ پاؤں  میں  بلا ضَرورت مہندی لگانا ناجائز ہے۔ عورت خود اپنے ہاتھ پاؤں  میں  لگاسکتی ہے مگر لڑکے کو لگائے گی تو گنہگار ہوگی۔ ‘‘   (بہار شریعت ج ۳ص۴۲۸)

             اپنے بچّوں  کو ایسے بابا سوٹ بھی مت پہنائیے جن پر انسان یا جانور کی تصویر بنی ہو،   بچوں  کو نیل پالش بھی نہ لگائیے اور بچوں  کی ماں  بھی ہرگز نہ لگائے کہ نیل پالش لگی ہونے کی صورت میں  اس کے نیچے ناخن پر پانی نہیں  بہتا،   لہٰذا وضوو غسل نہیں  ہوتا۔

 



Total Pages: 14

Go To