Book Name:Ihtiram e Muslim

                            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! بیان کواختتام کی طرف لاتے ہوئے سنت کی فضیلت اور چند سنتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں۔ تاجدارِ رسالت،   شہنشاہِ نُبُوَّت،   مصطَفٰے جانِ رَحمت شمع بزم ہدایت ،  نوشۂ بز م جنت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ جنت نشان ہے :  جس نے میری سنت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی ا و ر  جس نے مجھ سےمَحَبَّت کی وہ  جنت  میں  میرے ساتھ ہو گا ۔ (اِبنِ عَساکِر ج۹ص۳۴۳)

سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا

جنت میں  پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !                      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

’’قطعِ رحمی حرام ہے‘‘ کے13 حُرُوف کی نسبت سے  صِلۂ رِحْمی کے13مَدَنی پھول

        ٭فرمانِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ  :  وَ  اتَّقُوا  اللّٰهَ  الَّذِیْ  تَسَآءَلُوْنَ  بِهٖ  وَ  الْاَرْحَامَؕ- ([1])

ترجَمۂ کنز الایمان : ’’ اوراللہ  سے ڈرو،   جس کے نام پر مانگتے ہو اور رِشتوں  کا لحاظ رکھو ۔‘‘

 اس آیت ِ مبارَکہ  کے تحت’’ تفسیرمظہری ‘‘میں  ہے :  یعنی تم قطع رِحم( یعنی رشتے داروں  سے تعلق توڑنے) سے بچو ([2])؎  ٭ 7فرامِینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم {۱}جو اللہعَزَّوَجَلَّ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے اُسے چاہئے کہ صلہ ٔرِحمی کرے ([3]){۲} قیامت کے دن اللہعَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سائے میں  تین قسم کے لوگ ہوں  گے ،   (ان میں  سے ایک ہے) صلۂ رِحمی کرنے والا([4]){۳} رِشتہ کاٹنے والا جنت میں  نہیں  جائے گا ([5]){۴} لوگوں  میں  سے وہ شخص سب سے اچھا ہے جو کثرت سے قراٰنِ کریم کی تِلاوت کرے ،   زیادہ متقی ہو،  سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے والا ہو اور سب سے زیادہ صلۂ رِحمی (یعنی رشتے داروں  کے ساتھ اچھا برتاؤ) کرنے والا ہو([6]){۵}بے شک افضل ترین صَدقہ وہ ہے جو دشمنی چھپانے والے رشتے دار پر کیا جائے ([7]){۶} جس قوم میں قاطِعِ رِحم(یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہو،   اُس قوم پراللہکی رَحمت کا نزول نہیں  ہوتا ([8]){۷}جسے یہ پسند ہوکہ اُس کے لیے(جنّت میں )  محل بنایا جائے اوراُس کے دَرَجات بلند کیے جائیں ،   اُسے چاہیے کہ جو اِس پرظلم کرے یہ اُسے معاف کرے اورجو اِسے محروم کرے یہ اُسے عطا کرے اورجو اِس سے قطع تعلق کرے یہ اُس سے ناطہ(یعنی تعلق) جوڑے  (اَلْمُستَدرَک ج۳ ص۱۲حدیث ۳۲۱۵)٭حضرتِ سیِّدُنا فقیہابواللیث سمرقندی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں ،   صلۂ رحمی کرنے کے 10 فائدے ہیں   :   اللہعَزَّوَجَلَّ  کی رِضا حاصل ہوتی ہے ،   لوگوں  کی خوشی کا سبب ہے،   فرشتوں  کو مسرت ہو تی ہے ،  مسلمانوں  کی طرف سے اس شخص کی تعریف ہوتی ہے،   شیطان کو اس سے رَنج پہنچتا ہے،  عمربڑھتی ہے،  رِزق میں  برکت ہو تی ہے،   فوت ہوجانے والے آباء و اجداد(یعنی مسلمان باپ دادا) خوش ہوتے ہیں  ،   آپس میں  مَحَبَّتبڑھتی ہے،  وفات کے بعداس کے ثواب میں  اِضافہ ہو جا تا ہے،  کیونکہ لوگ اس کے حق میں  دعائے خیر کرتے ہیں  (تَنبیہُ الغافِلین ص۷۳) ٭دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ1196 صفحات پر مشتمل کتاب ،   ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد3 صَفْحَہ 558تا560پرہے : صِلَۂ رِحْمکے معنیٰ رِشتے کو جوڑنا ہے یعنی رشتے والوں  کے ساتھ نیکی اور سلوک کرنا۔ ساری اُمت کا اس پر اتفاق ہے کہصِلَۂ رِحْم ’’ واجِب ‘‘ہے اورقطع رِحم(یعنی رشتہ توڑنا)’’ حرام ‘‘ہے۔جن رشتے والوں  کے ساتھ صلۂ(رِحم) واجب ہے وہ کون ہیں  ؟  بعض علما نے فرمایا :  وہ ذو رِحم محرم ہیں  اور بعض نے فرمایا :  اس سے مراد ذو رحم ہیں ،  محرم ہوں  یا نہ ہوں۔ اور ظاہر یہی قولِ دوم ہے،   احادیث میں مطلقاً (یعنی بغیر کسی قید کے ) رشتے والوں  کے ساتھ صلہ(یعنی سلوک )  کرنے کا حکم آتا ہے،   قرآنِ مجید میں  مطلقاً



[1]    پ۴،  اَلنّساء

[2]    تفسیرِمظہری ج۲ ص۳   ۔ 

[3]    بخاری ج۴ص۱۳۶ حدیث ۶۱۳۸

[4]   اَلْفِردَوس بمأثور الْخِطاب ج۲ص۹۹حدیث۲۵۲۶۔ 

[5]    بُخاری ج۴ ص۹۷ حدیث۵۹۸۴۔ 

[6]    مُسندِ اِمام احمد ج۱۰ ص۴۰۲حدیث۲۷۵۰۴۔

[7]

Total Pages: 14

Go To