Book Name:Ihtiram e Muslim

ج۱۶ص۱۴۸)

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! عاشقانِ رسول کے ساتھ  مَدَنی قافِلوں  میں  مسلسل سنتوں  بھرے سفرکی سعادت اورہر مَدَنی ماہ کے پہلے دن مَدَنی اِنعامات کا رسالہ پرکر کے جمع کروانے کی برکت سے  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  بطفیل مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجلس کے آداب ،   دوسروں  کی حق تلفیوں اور دِل آزاریوں  سے اِجتناب اور احترام مسلم بجالانے کا ذِہن بنے گا اور اِس مَدَنی تربیت کی برکت سے  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  حج و زیارتِ مدینہ کا شرف حاصِل ہوگا اور وہاں  بھی اِن سنّتوں  پر عمل نصیب ہو گا۔   ؎       

تیرے دیوانے سب،   آئیں  سوئے عَرَب

دیکھیں  سارے حرم،   تاجدارِ حرم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !                      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دل نہ دُکھائیے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! احترامِ مسلم کا تقاضَا یہ ہے کہ ہر حال میں  ہر مسلمان کے تمام حقوق کا لحاظ رکھا جائے اور بلا اجازتِ شرعی کسی بھی مسلمان کی دل شکنی نہ کی جائے ۔ ہمارے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے کبھی بھی کسی مسلمان کا دل نہ دکھایا،  نہ کسی پر طنز کیا،  نہ کسی کا مذاق اڑایا نہ کسی کو دُھتکارا نہ کبھی کسی کی بے عزتی کی بلکہ ہر ایک کو سینے سے لگایا ،  بلکہ      ؎  

لگاتے ہیں  اُس کو بھی سینے سے آقا

جو ہوتا نہیں  منہ لگانے کے قابل

اُسوۂ حَسَنَہ

          احترام مسلمبجالانے کیلئے ہمیں  اپنے پیارے پیارے آقا،   مد ینے والے مصطَفیٰ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اُسوئہ حسنہ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کی پیروی کرنی ہوگی ۔ پارہ21 سُوْرَۃُ الْاَحْزَابآیت نمبر 21 میں  ارشاد ہوتا ہے :

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

ترجَمۂ کنزالایمان :  بے شک تمہیں رسولُ اللہ کی پیروی بہتر ہے۔

اَخلاقِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی جھلکیاں

         میٹھے میٹھے آقا،  مکّے مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  یقیناتمام مخلوقات میں  سب سے زیادہ مکرم ،   معظم اورمحترم ہیں اور ہر حال میں  آپ کا احترام کرنا ہم پر فرض اعظم ہے ۔اب آپ حضرات کی خدمت میں سیِّدُ المُرسَلِین،  جنابِ رحمۃٌ  لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کے اَخلاقِ حسنہ کی چند جھلکیاں  پیش کرنے کی کوشش کروں  گا جو بالخصوص احترام مسلمکیلئے ہماری رہنما ہیں۔ 

٭سلطانِ دو جہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہر وقت اپنی زبان کی حفاظت فرماتے اور صرف کام ہی کی بات کرتی٭آنے والوں  کو مَحبت دیتے،   ایسی کوئی بات یاکام نہ کرتے جس سے نفرت پیدا ہو٭قوم کے معزز فرد کالحاظ فرماتے اور اُس کو قوم کا سردار مقرر فرما دیتے ٭ لوگوں  کو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے خوف کی تلقین فرماتی٭صَحابۂ کرام  عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی خبر گیری فرماتے ٭لوگوں  کی اچھی باتوں  کی اچھائی بیان کرتے اور ا س کی تقویت فرماتے،  بری چیز کو بری بتاتے اور اُس پر عمل سے روکتے ٭ ہر معاملے میں  اِعتدال (یعنی میانہ روی)سے کام لیتے ٭لوگوں  کی اِصلاح سے کبھی بھی غفلت نہ فرماتے ٭ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   اٹھتے بیٹھتے (یعنی ہر وقت )ذِکْرُاللہ کرتے رہتے ٭ جب کہیں  تشریف لے جاتے تو جہاں  جگہ مل جاتی وَہیں  بیٹھ جاتے اور دوسروں کوبھی اسی کی تلقین فرماتے ٭ اپنے پاس بیٹھنے والے کے حقوق کا لحاظ رکھتے ٭آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی خدمت میں  حاضر رہنے والے ہر فرد کو



Total Pages: 14

Go To