Book Name:Ihtiram e Muslim

          حضرت سیِّدُنا عبدُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ   کا بیان ہے کہ رسولِ اکرم،   رَحمتِ عالم،   نورِ مجسم،  شاہِ بنی آدم،  نبیِّ مُحتَشم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا :  ’’جب تم تین ہو تو دوشخص تیسرے کو چھوڑ کر چپکے چپکے باتیں  نہ کریں  جب تک مجلس میں  بہت سے لوگ نہ  آ جائیں  ،   یہ اِس وجہ سے کہ اس تیسرے کو رنج پہنچے گا۔‘‘ (بُخاری ج۴ ص۱۸۵ حدیث ۶۲۹۰ ) (کہ شاید میرے متعلق کچھ کہہ رہے ہیں  یا یہ کہ مجھے اِس لائق نہ سمجھا جواپنی گفتگو میں  شریک کرتے وغیرہ)

گردن پھلانگنا

           جو لوگ جمعہ کو پہلے سے اگلی صفوں  میں  بیٹھ چکے ہوں ،   دیر سے آنے والے کو اُن کی گردنوں  کو پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں۔چنانچِہ سرکارِ  مدینۂ منوّرہ،   سردارِ مکّۂ مکرمہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا فرمانِ عبرت نشان ہے   : ’’ جس نےجُمُعہ کے دن لوگوں  کی گردنیں  پھلانگیں  اُس نے جہنَّم کی طرف پل بنایا۔‘‘  (تِرمِذی ج۲ص۴۸حدیث۵۱۳) اس کے ایک معنیٰ یہ ہیں  کہ اس پر چڑھ چڑھ کر لوگ جہنَّم میں  داخِل ہو ں  گے۔ (حاشیۂ بہارِ شریعت ج۱ص۷۶۱،  ۷۶۲)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  نمازِ جمعہ کیلئے جلدمسجد میں  حاضر ہوجانا چاہئے،   اگر دیر ہو گئی ،  خطبہ شروع ہو گیا تو مسجد میں  جہاں  پہنچا تھا وہیں  رُک جائے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت ،   اِمامِ اَہلسنّت،  مولاناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  : بحالتِ خطبہ چلنا حرام ہے۔ یہاں  تک علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  فرماتے ہیں  کہ اگر ایسے وقت آیا کہ خطبہ شروع ہو گیا تو مسجد میں  جہاں  تک پہنچا وَہیں  رُک جائے ،   آگے نہ بڑھے کہ یہ عمل ہو گا اور حالِ خطبہ میں  کوئی عمل رَوا( یعنی جائز ) نہیں۔(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۸ص۳۳۳)مزیدفرماتے ہیں  : خطبے میں  کسی طرف گردن پھیر کر دیکھنا ( بھی) حرام ہے۔ (اَیضاًص۳۳۴)

دو کے بیچ میں  گھسنا

        اگر دوآدمی پہلے سے بیٹھے ہوں  تو ان کی اجازت کے بغیر ان کے درمیان جاگھسنا سخت بداَخلاقی اور احترام مسلم کی سراسر خلاف ورزی ہے۔چنانچہ شہنشاہِ مدینہ ،  راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  ’’کسی شخص کیلئے یہ حلال نہیں  کہ دو آدمیوں  کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر جدائی کردے۔‘‘  ([1]) ( یعنی ان کی اجازت کے بغیر ان کے درمیان بیٹھ جانا حلال نہیں )  حضرتِ سَیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ   کی رِوایت کے مطابق جوحلقے کے بیچ جابیٹھے ایسا آدمی سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی زَبانی ملعون ہے۔([2]) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا یہ بھی فرمان ہے کہ ایک شخص دوسرے کو اُس کی جگہ سے اُٹھاکر خود نہ بیٹھ جائے مگر بیٹھنے والے کشادگی کردیا کریں۔( مُسلِم ص۱۱۹۹ حدیث۲۱۷۷)

          اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب،   دانائے غُیُوب،   مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کافرمانِ عالیشان ہے : جوشخص اپنی مجلس سے اُٹھے اور پھر واپس آجائے تو اپنی جگہ کا وہی زِیادہ حقدار ہے۔( ایضاً حدیث۲۱۷۹)

 صف میں  چادر رکھ کر جگہ روکنا

      میرے آقا اعلیٰ حضرت ،   اِمامِ اَہلسنّت،   مولاناشاہ امام اَحمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں  :  کوئی شخص مسجد میں  آیا ایک جگہ بیٹھا پھر وُضو کیلئے گیا اور اپنا کپڑا وہاں  چھوڑ کر گیا،  دوسرا شخص اُس کپڑے کو اُٹھا کر وہاں  نہ بیٹھے کہ بیٹھنے والے کا قبضہ سابق (یعنی پہلے سے) ہو گیا ہے۔(مگر یہ قبضہ تھوڑی دیر کیلئے ہے جیسا کہ آگے چل کراعلیٰ حضرت فرماتے ہیں  : ) ایسا قبضہ تھوڑی دیر کیلئے مسلم(یعنی مانا جاتا )ہے جیسا (کہ) کپڑا رکھ کر وضو کو جانے میں ،   نہ یہ کہ مسجد میں  اپنی کوئی چیز رکھ دیجئے اور وہ جگہ ہمیشہ آپ کیلئے مخصوص ہو جائے کہ جب آیئے دوسروں  پرتَقدیم(یعنی فوقیت) پایئے،  یہ ہرگز نہ جائز نہ مقبول۔(فتاوٰی رضویہ  



[1]    ابوداوٗد ج۴ ص۳۴۴ حدیث۴۸۴۵ 

[2]    تِرمِذی ج۴ ص۳۴۶ حدیث ۲۷۶۲

 



Total Pages: 14

Go To