Book Name:Ba kirdar Attari

اِسلام ہی دین ہے

        اِسلام دینِ فطرت اور قراٰنِ مجید مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ دین انسانی فلاح و بہبود کا ضامن  (ذمے دار) دنیاوی زندگی میں امن و سکون اور اخروی زندگی میں راحت وآرام کا پیامبر  (پیغام دینے والا) ہے۔ اسلام کی عظمت و برتری قراٰنِ مجید میں یوں بیان کی گئی:  

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ  (پ۳، اٰلِ عمرٰن: ۱۹)

ترجمۂ  کنزالایمان: بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔

          معلوم ہوا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک دین صرف  ’’ اسلام  ‘‘  ہے۔ ایک دوسرے مقام پر اس بات پر بھی تنبیہ فرمادی کہ اسلام کے علاوہ کسی بھی دین کو اختیار کرنا ناقابلِ قبول اور آخرت میں حِرْمان و نقصان کا باعث ہے۔

چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:  

وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُۚ-وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (۸۵)  (پ۳، اٰلِ عمرٰن: ۸۵)

ترجمۂ کنزالایمان:  ’ ’ اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگزاس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زِیاں کاروں  (نقصان اُٹھانے والوں میں ) سے ہے۔  ‘‘  

 سُورَۃُ المَائِدَۃ میں ارشاد ہوتا ہے:  

اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ-  (پ۶، المائدۃ: ۳)

ترجمۂ کنز الایمان:  آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔

        یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جو بھی غیر مسلم دینِ اسلام کی حقانیت اور اس کی تعلیمات میں غور و فکر کرتا ہے وہ بالآخر اسلام قبول کر کے مسلمان ہو جاتا ہے۔ سیرت و تاریخ کی کُتُب میں اس طرح کے واقعات کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ دلوں کو راحت بخشنے اور اسلام کی چاہت بڑھانے کے لیے قبولِ اسلام کا  ایک ایمان افروز واقعہ ملاحظہ فرمائیے چنانچہ

          شیخِ محقق حضرت علامہ شاہ عبدالحق محدثِ دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی حضرت سیّدنا عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنہ کے قبولِ اسلام کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ’ ’  حضرت سیّدنا عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنہ حضرت سیّدنا یوسف عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی اولاد میں سے تھے۔ ان کا شمار اکابر علمائے یہود میں ہوتا تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب مدینۂ منوّرہ میں جلوہ فرما ہوئے، عرب لوگ آپ کی مجلس مبارک کی حاضری میں سبقت کرنے لگے تو میں بھی ان کے ہمراہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا جب میری پہلی نظر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رخِ انور پر پڑی تو  مجھے یقین ہو گیا کہ یہ کذّابوں  (جھوٹوں ) کا چہرہ نہیں ہو سکتا، پھر میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبانِ اقدس سے پند و نصیحت کے کلمات سماعت کئے، گھر لوٹا تو بے حد متأثر ہو چکا تھا۔ دوسری مرتبہ خلوت  (تنہائی) میں حاضری دی۔ اس وقت کی حاضری میں مَیں نے غیب بتانے والے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تین سوال کئے۔ نبی ٔکریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے نہایت شافی اور کافی جواب ارشاد فرمائے تو میں بآواز بلند کلمۂ شہادت پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گیا۔  ‘‘  (مدارج النبوت، قسم سوم، ذکر عبد اللہ بن سلام، ۲ / ۶۶، بتصرف)

          اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے لہلہاتے گلشن کو شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ نے اپنا خون پسینہ ایک کر کے پروان چڑھایا ہے اور یہ انہی کی اَنتھک محنتوں اور اِخلاص کا ثمرہ  (پھل)  ہے کہ پیغامِ اسلام روز بروز عالَم میں رعنائیاں بکھیر رہا ہے۔  ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘  جیسے عظیم مدنی مقصد کی برکت سے بے نمازی نمازی، والدین کے نافرمان فرمانبردار، غافل و نادان اور بدکاریوں کے شکار تقویٰ و پرہیز گاری کا پیکر بن گئے، بیماروں پریشان حالوں کے دکھوں کا مُداوا  (علاج) ہو گیا۔ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کی برکت سے جہاں گنہگاروں کو توبہ نصیب ہوئی وہیں اسلام کی سچی تعلیمات اور دعوتِ اسلامی والوں کے سنّتوں پر عمل کے جذبے کو دیکھ کر کئی کفار نے اسلام کے چراغ کے ذریعے کفر و شرک کی اندھیریوں سے چھٹکارا حاصل کر لیا۔ اَ



Total Pages: 10

Go To