We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

فَاعْلَمُوۡۤا اَنَّکُمْ غَیۡرُ مُعْجِزِی اللہِ ؕ وَبَشِّرِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ۙ﴿۳

ترجمۂکنزالایمان: اور منادی پکار دینا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں بڑے حج کے دن کہ اللہ بیزار ہے مشرکوں سے اور اس کا رسول تو اگر تم توبہ کرو تو تمہا را بھلا ہے  اور اگر منہ پھیرو تو جان لو کہ تم اللہ کو نہ تھکا سکو گے اور کافروں کو خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی۔

 

 

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (یہ) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمام لوگوں کی طرف بڑے حج کے دن اعلان ہے کہ اللہ مشرکوں سے بری ہے اور اس کا رسول بھی تو اگر تم توبہ کروتو تمہا رے لئے بہتر ہے اور اگر تم منہ پھیروتو جان لو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے اور کافروں کو دردناک عذاب کی خوشخبری سناؤ ۔

{ یَوْمَ الْحَجِّ الۡاَکْبَرِ: بڑے حج کے دن۔} حضرت حسن  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جس سال حضرت ابو بکر صدیق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حج کیا تھا تو اس میں مسلمان اور مشرکین سب جمع تھے ،اس لئے اس حج کو حجِ اکبر فرمایاگیا۔ (1)

        امام عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’یَوم سے مراد عَرفہ کا دن ہے کیونکہ وُقوف ِعرفہ حج کے اَ رکان میں سے رکنِ اعظم ہے یا اس سے مراد یومِ نَحر ہے کیونکہ حج کے زیادہ تر اَفعال جیسے طواف، قربانی، سر منڈانا اور رَمی وغیرہ اسی دن ہوتے ہیں اور اسحج کو حجِ اکبر اس لئے فرمایا گیاکہ اس زمانہ میں عمرہ کو حجِ اصغر کہا جاتا تھا۔ (2)

حجِ اکبر کسے کہتے ہیں ؟

        اَحادیث اور آثارِ صحابہ میں مختلف دنوں کو حجِ اکبر کہا گیا ہے جبکہ عوام میں یہ مشہور ہے کہ جب یومِ عرفہ جمعہ کے دن تو ہو وہ حجِ اکبر ہوتا ہے، اس کے ثبوت میں اگرچہ کوئی صریح حدیث موجود نہیں تاہم یہ کہنا غلط بھی نہیں کیونکہ بکثرت

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1تفسیر طبری، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۶/۳۱۷۔

2مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۳، ص۴۲۵۔