We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

تھا مگر تھوڑا جو بچالو ۔پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینھ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر اس کے بعد سات برس سخت آئیں گے جو اس غلے کو کھا جائیں گے جو تم نے ان سالوں کے لیے پہلے جمع کر رکھا ہوگا مگر تھوڑا سا (بچ جائے گا) جو تم بچالو گے۔ پھر ان سات سالوں کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں کو بارش دی جائے گی اور اس میں رس نچوڑیں گے۔

{ ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعْدِ ذٰلِکَ:پھر اس کے بعد آئیں گے۔} یعنی ان سات سرسبز سالوں کے بعد لوگوں پر سات سال سخت قحط کے آئیں گے جن کی طرف دبلی گائیوں اور سوکھی بالیوں میں اشارہ ہے، جو غلہ وغیرہ تم نے ان سات سالوں کے لئے جمع کر رکھا ہو گا وہ سب ان سالوں میں کھا لیا جائے گا البتہ تھوڑا سا بچ جائے گا جو تم بیج کے لئے بچا لو گے تاکہ اس کے ذریعے کاشت کرو۔ (1)

حفاظتی تدابیر کے طور پر کچھ بچا کر رکھنا تو کل کے خلاف نہیں :

        اس سے معلوم ہوا کہ حفاظتی تدابیر کے طور پر آئندہ کے لئے کچھ بچا کر رکھنا تو کل کے خلاف نہیں بلکہ حکومت کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ اناج اور دیگر ضروریات کے حوالے سے ملکی ذخائرکا جائزہ لیتے رہیں اور اس کے مطابق حکمتِ عملی ترتیب دیں بلکہ زرِ مبادلہ کے جو ذخائر جمع کر کے رکھے جاتے ہیں ان کی اصل بھی اس آیت سے نکالی جاسکتی ہے۔

        اسی طرح کسی شخص کا ان لوگوں کے لئے کچھ بچا کر رکھنا جن کا نان نفقہ اس کے ذمے ہے ،یہ بھی توکل کے خلاف نہیں۔جیسا کہ امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’جہاں تک عیال دار کا تعلق ہے تو بال بچوں کے لئے ایک سال کا خرچ جمع کرنے سے توکل کی تعریف سے نہیں نکلتا۔ (2)

         اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’عیال کی کفایت (کفالت)شرع نے اس پر فرض کی، وہ ان کو توکل و تبتل و صبر علی الفاقہ پر مجبور نہیں کرسکتا، اپنی جان کو جتنا چاہے کُسے مگر اُن کو خالی چھوڑنا اس پر حرام ہے۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں ’’کَفٰی بِالْمَرْئِ اِثْمًا اَنْ یُضَیِّعَ مَنْ یَقُوْتُ‘‘ آدمی کے گناہگار ہونے کیلئے اتنا ہی

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۴۸، ۳/۲۴، ملخصاً۔

2احیاء العلوم، کتاب التوحید والتوکل، الفن الثانی فی التعرّض لاسباب الادخار، ۴/۳۴۳۔