We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

(2)…اچھے طریقے سے خواب سنے اور تعبیر بیان کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لے۔

(3)…خواب سن کر ا س میں غور کرے ،اگر خواب اچھا ہو تو خواب بیان کرنے والے کو خوشخبری دے کر اس کی تعبیر بیان کرے اور اگر برا ہو تو اس کے مختلف اِحتمالات میں جو سب سے اچھا احتمال ہو وہ بیان کرے اور اگر خواب کا اچھا یا برا ہونا دونوں برابر ہوں تو اصول کی روشنی میں جسے ترجیح ہو وہ بیان کرے اور اگر ترجیح دینا ممکن نہ ہو تو خواب بیان کرنے والے کا نام پوچھ کر ا س کے مطابق تعبیر بیان کر دے اور خواب بیان کرنے والے کو تعبیر سمجھا دے۔

(4)…سورج طلوع ہوتے وقت، زوال کے وقت اور غروب آفتاب کے وقت تعبیر بیان نہ کرے ۔

(5)…تعبیر بیان کرنے والے کو بتائے گئے خواب اس کے پاس امانت ہیں اس لئے وہ ان خوابوں کو کسی اور پر بلا ضرورت ظاہر نہ کرے۔

خواب کی تعبیر بیان کرنے والے مشہور علما اورتعبیر پر مشتمل کتابیں :

        خوابوں کی تعبیر بیان کرنے میں مہارت رکھنے والے علما نے اس موضوع پر کئی کتابیں تصنیف کی ہیں ،ان میں سے ایک امام المعبرین حضرت امام محمد بن سیرین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی کتاب’’ تَفْسِیْرُ الْاَحْلَامِ الْکَبِیرْ‘‘ہے جو کہ’’ تعبیرُ الرُّؤیا‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور ایک کتاب علامہ عبد الغنی نابُلسیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی ہے جو کہ ’’تَعْبِیْرُ الْمَنَامْ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔

خواب کی تعبیر سے متعلق نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا معمول اور دو خوابوں کی تعبیریں :

        اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں احادیثِ صحیحہ سے ثابت کہ حضورِ اقدس، سید عالَم صَلَّیاللہُ تَعَالٰیعَلَیْہ وَسَلَّمَ اسے (یعنی خواب کو) امرِ عظیم جانتے اور اس کے سننے، پوچھنے، بتانے، بیان فرمانے میں نہایت درجے کا اہتمام فرماتے ۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے، حضور صَلَّیاللہُ تَعَالٰیعَلَیْہِوَسَلَّمَ نمازِ صبح پڑھ کر حاضرین سے دریافت فرماتے: آج کی شب کسی نے کوئی خواب دیکھا؟ جس نے دیکھا ہوتا (وہ ) عرض کرتا (اور) حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،اس خواب کی ) تعبیر فرماتے ۔ (1)

        اسی سلسلے میں دو اَحادیث ملاحظہ ہوں ،چنانچہ

        حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1بخاری، کتاب الجنائز، ۹۳-باب، ۱/۴۶۷، الحدیث: ۱۳۸۶،فتاوی رضویہ، ۲۲/۲۷۰-۲۷۱۔