We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

اس شخص کے ساتھ خاص ہے یا تمام مومنوں کے لئے ہے؟ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’نہیں ، بلکہ یہ تمام مومنوں کے لئے عام ہے۔ (1)

نیکیاں صغیرہ گناہوں کے لئے کفارہ ہوتی ہیں :

        اس آیت سے معلوم ہوا کہ نیکیاں صغیرہ گناہوں کے لئے کفارہ ہوتی ہیں خواہ وہ نیکیاں نماز ہوں یا صدقہ یا ذکر و اِستغفار یا اور کچھ ۔  (2)اَحادیث میں متعدد ایسے اعمال کا بیان جو صغیرہ گناہوں کے لئے کفارہ بنتے ہیں ، یہاں ان میں سے چند ایک بیان کئے جاتے ہیں۔

(1)…حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ پانچوں نمازیں اور جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک یہ سب ان گناہوں کے لئے کفارہ ہیں جو ان کے درمیان واقع ہوں جب کہ آدمی کبیرہ گناہوں سے بچے ۔ (3)

(2)…حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس نے رمضان کا روزہ رکھا اور اُس کی حدود کو پہچانا اور جس چیز سے بچنا چاہیے اُس سے بچا تو جو پہلے کر چکا ہے اُس کا کفارہ ہوگیا۔ (4)

(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،حضور پُر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’عمرہ سے عمرہ تک اُن گناہوں کا کفارہ ہے جو درمیان میں ہوئے اور حجِ مَبرور کا ثواب جنت ہی ہے۔ (5)

(4)…حضرت سِخْبَرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سیّد المرسَلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس نے علم تلاش کیا تو یہ تلاش اس کے گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہو گی۔ (6)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ ہود، ۵/۷۹، الحدیث: ۳۱۲۴۔

2خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ۲/۳۷۵۔

3مسلم، کتاب الطہارۃ، باب الصلوات الخمس والجمعۃ الی الجمعۃ ورمضان الی رمضان مکفرات لما بینہنّ۔۔۔ الخ، ص۱۴۴، الحدیث: ۱۶(۲۳۳)۔

4شعب الایمان، الباب الثالث والعشرون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فضائل شہر رمضان، ۳/۳۱۰، الحدیث: ۳۶۲۳۔

5بخاری، کتاب العمرۃ، باب العمرۃ، وجوب العمرۃ وفضلہا، ۱/۵۸۶، الحدیث: ۱۷۷۳۔

6ترمذی، کتاب العلم، باب فضل طلب العلم، ۴/۲۹۵، الحدیث: ۲۶۵۷