We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

 

مُّسَوَّمَۃً عِنۡدَ رَبِّکَ ؕ وَمَا ہِیَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ بِبَعِیۡدٍ ﴿٪۸۳

ترجمۂکنزالایمان: جو نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس ہیں اور وہ پتھر کچھ ظالموں سے دور نہیں۔

ترجمۂکنزُالعِرفان: جن پر تیرے رب کی طرف سے نشان لگے ہوئے تھے اور وہ پتھر ظالموں سے کچھ دور نہیں۔

{ مُّسَوَّمَۃً عِنۡدَ رَبِّکَ:جن پر تیرے رب کی طرف سے نشان لگے ہوئے تھے۔} ان پتھروں پر ایسا نشان تھا جس سے وہ دوسروں سے ممتاز تھے۔ حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ان پر سرخ خطوط تھے ۔حضرت حسن  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور مفسر سدی کا قول ہے کہ ان پر مہریں لگی ہوئی تھیں اور ایک قول یہ ہے کہ جس پتھر سے جس شخص کی ہلاکت منظور تھی اس کا نام اس پتھر پر لکھا تھا۔ (1)

{ وَمَا ہِیَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ بِبَعِیۡدٍ:اور وہ پتھر ظالموں سے کچھ دور نہیں۔} امام مجاہد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں کفارِ قریش کو ڈرایا گیا ہے، آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ پتھر آپ کی قوم کے ظالموں سے کچھ دور نہیں۔ حضرت قتادہ اور حضرت عکرمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اس امت کے ظالموں سے وہ پتھر کچھ دور نہیں۔ خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ کسی ظالم کو ان پتھروں سے نہیں بچائے گا۔ (2)  امام رازی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی ذکر کی ہے کہ وہ بستیاں جن میں یہ واقعہ رونما ہوا کفارِ مکہ سے دور نہیں کیونکہ وہ بستیاں ملک شام میں تھیں اور شام مکہ سے قریب ہے۔ (3)

لواطت کی مذمت پر دو معروضات:

         اس رکوع میں چونکہ بدفعلی یعنی لواطت کا بیان ہوا ہے لہٰذا یہاں اس کی مذمت پر کچھ معروضات پیش کی جاتی ہیں۔

(1)…بد فعلی یعنی لواطت کبیرہ گناہوں میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ایسا شخص مستحقِ لعنت ہے اور بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت سے محروم رہے گا ۔ چنانچہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکاقول ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۸۳، ۲/۳۶۵۔

2قرطبی، ہود، تحت الآیۃ: ۸۳، ۵/۵۹، الجزء التاسع۔

3تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۸۳، ۶/۳۸۴۔