We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

قیامت کے دن کافروں اور منافقوں کی رسوائی:

        اس سے معلوم ہوا کہ بروزِ قیامت کفار و منافقین کی بڑی رسوائی ہو گی، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ روزِ قیامت کفار اور منافقین کو تمام مخلوق کے سامنے کہا جائے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربعَزَّوَجَلَّ پر جھوٹ بولا تھا اور ظالموں پر خدا کی لعنت ہے، (1)اس طرح وہ تمام مخلوق کے سامنے رسوا کئے جائیں گے۔

الَّذِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَ یَبْغُوۡنَہَا عِوَجًا ؕ وَہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمْ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۹

ترجمۂکنزالایمان: جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہی آخرت کے منکر ہیں۔

 

 

ترجمۂکنزُالعِرفان:وہ جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھا پن تلاش کرتے ہیں اور وہی لوگ آخرت کا انکار کرنے والے ہیں۔

{ الَّذِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ:وہ جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔} یعنی ان ظالموں کا طریقہ یہ ہے کہ  وہ  اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے اور حق کی پیروی کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اسلام کے خلاف شکوک و شُبہات ڈالنے، صاف اور واضح دلائل میں ٹیڑھا پن تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ (2)

آیت’’الَّذِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ ‘‘ کے مِصداق لوگ:

        اس آیت میں وہ کفار و مشرکین بھی شامل ہیں جو ایمان کا سیدھا راستہ چھوڑ کر کفر والا ٹیڑھا راستہ اختیار کرتے ہیں اور وہ مُرْتَدّین بھی شامل ہیں جو قرآن کی مَعنوی تحریف کر کے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور عام مسلمانوں کے خلاف راستہ اختیار کرتے ہیں اور آیات کے وہ معنی کرتے ہیں جو متواتِر معانی کے خلاف ہیں اگر انہیں آخرت کا ڈر ہوتا تو یہ جرأت کبھی نہ کرتے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب قول اللہ تعالی: الا لعنۃ اللہ علی الظالمین، ۲/۱۲۶، الحدیث: ۲۴۴۱، مسلم، کتاب التوبۃ، باب قبول توبۃ القاتل وان کثر قتلہ، ص۱۴۸۱، الحدیث: ۵۲(۲۷۶۷)۔

2تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۱۹، ۶/۳۳۲