We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

عرش پانی کے اوپر ہونے کے معنی:

        علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ عرش کے پانی کے اوپر ہونے کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’یعنی عرش اور پانی کے درمیان کوئی چیز حائل نہ تھی بلکہ عرش اسی مقام میں تھا جہاں اب ہے یعنی ساتویں آسمان کے اوپر اور پانی اسی جگہ تھا جہاں اب ہے یعنی ساتویں زمین کے نیچے (اگرچہ اس وقت سات آسمان اور سات زمینیں نہ تھیں ) (1)

قدرت ِالٰہی کے دلائل:

        اما م فخر الدین رازی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کئی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظمت اور کمال پر دلالت کرتی ہے۔

(1)… عرش کے زمین و آسمان سے بڑا ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ا سے پانی پر قائم فرمایا لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ کسی ستون کے بغیر وزنی چیز کو رکھنے پر قادر نہ ہوتا تو عرش پانی پر نہ ہوتا۔

(2)…پانی کو بھی بغیر کسی سہارے کے قائم کیا۔

(3)…عرش جو کہ تمام مخلوقات سے بڑا ہے اسے اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان کے اوپر قائم کیا ہوا ہے، اس کے نیچے کوئی ستون ہے نہ اوپر کوئی اور علاقہ۔ (2)

{ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا:تا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے ۔} یعنی آسمان و زمین اور ان میں تمہارے جو مَنافع اور مَصالح ہیں ، انہیں پیدا کرنے میں حکمت یہ ہے کہ ان نعمتوں کی وجہ سے نیک وبد میں اِمتیاز ہو جائے اور یہ ظاہر ہو جائے کہ کو ن (ان نعمتوں کے باوجود) فرمانبردار ہے تاکہ آخرت میں اسے اس کی اطاعت گزاری کا ثواب دیا جائے اور کون (ان نعمتوں کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے غافل ہوتا ہے اور) گناہگار بنتا ہے تاکہ آخرت میں اسے اس کے گناہوں کی سزا دی جائے ۔ (3)

نعمتیں پیدا کئے جانے میں بھی ہماری آزمائش مقصود ہے:

        اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے جو نعمتیں پیدا فرمائی ہیں اِن کے ذریعے بھی اُنہیں

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۷، ۳/۹۰۱۔

2تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۷، ۶/۳۱۹-۳۲۰۔

3جلالین مع صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۷، ۳/۹۰۱۔