We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

پارہ نمبر…12

وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّہَا وَ مُسْتَوْدَعَہَا ؕکُلٌّ فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶

ترجمۂکنزالایمان: اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمۂ کرم پر نہ ہو اور جانتا ہے کہ کہاں ٹھہرے گا اور کہاں سپرد ہوگا سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب میں ہے۔

 

 

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو اور وہ ہرایک کے ٹھکانے اور سپرد کئے جانے کی جگہ کو جانتا ہے ۔ سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب میں موجود ہے۔

{ وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ:اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں۔} ’’دَآ بَّۃ‘‘ کا معنی ہے ہر وہ جانور جو زمین پر رینگ کر چلتا ہو، عُرف میں چوپائے کو ’’دَآ بَّۃ‘‘ کہتے ہیں جبکہ آیت میں اس سے مُطْلَقا ًجاندار مراد ہے لہٰذا انسان اور تمام حیوانات اس میں داخل ہیں۔ (1)

کسی جاندار کو رزق دینا اللہ تعالیٰ پر واجب نہیں :

        علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اس آیت سے یہ مراد نہیں کہ جانداروں کو رزق دینا اللہ تعالیٰ پر واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس پر کوئی چیز واجب ہو بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ جانداروں کو رزق دینا اور ان کی کفالت کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمۂ کرم پر لازم فرما لیا ہے اور ( یہ اس کی رحمت اور اس کا فضل ہے کہ) وہ اس کے خلاف نہیں فرماتا۔ رزق کی ذمہ داری لینے کو ’’ عَلَی‘‘ کے ساتھ اس لئے بیان فرمایا تاکہ بندے کا اپنے رب عَزَّوَجَلَّ پر توکل مضبوط ہو اور اگر وہ (رزق حاصل کرنے کے) اَسباب اختیار کرے تو ان پر بھروسہ نہ کر بیٹھے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی پر اپنا اعتماد اور بھروسہ رکھے ، اسباب صرف اس لئے اختیار کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۶، ۲/۳۴۰۔