We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

جو پرہیزگار ایمانداروں کو قرآنِ کریم میں جا بجادی گئی ہے یااس سے اچھے خواب مراد ہیں جو مومن دیکھتا ہے یا اس کے لئے دیکھا جاتا ہے جیسا کہ کثیر اَحادیث میں وارد ہوا ہے، اور اس کا سبب یہ ہے کہ ولی کا قلب اور اس کی روح دونوں ذکرِ الٰہی میں مستغرق رہتے ہیں تو بوقت ِخواب اس کے دل میں سوائے ذکر و معرفتِ الٰہی کے اور کچھ نہیں ہوتا، اس لئے ولی جب خواب دیکھتا ہے تو اس کا خواب حق اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے حق میں بشارت ہوتی ہے۔ بعض مفسرین نے اس بشارت سے دنیا کی نیک نامی بھی مراد لی ہے۔ (1) جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عرض کیا گیا :اس شخص کے لئے کیا ارشاد فرماتے ہیں جو نیک عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں ؟ فرمایا: یہ مومن کے لئے جلد خوشخبری ہے۔ (2)

         علماء فرماتے ہیں کہ یہ بشارتِ عاجلہ یعنی جلد خوشخبری رضائے الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے محبت فرمانے اور خلق کے دل میں محبت ڈال دینے کی دلیل ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اس کو زمین میں مقبول کردیا جاتا ہے۔ (3)

         حضرت قتادہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ملائکہ ،مومن کو اس کی موت کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت دیتے ہیں۔ حضرت عطا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا قول ہے کہ دنیا کی بشارت تو وہ ہے جو ملائکہ موت کے وقت سناتے ہیں اور آخرت کی بشارت وہ ہے جو مومن کو جان نکلنے کے بعد سنائی جاتی ہے کہ اس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ راضی ہے۔ (4)

اولیاءِ کرام کے فضائل:

        یہاں آیت کی مناسبت سے اولیاءِ کرام کے فضائل پر مشتمل 4 اَحادیث ملاحظہ ہوں

(1)…حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’جو میرے کسی ولی سے دشمنی کرے، اس سے میں نے لڑائی کا اعلان کردیا اور میرا بندہ کسی شے سے میرا اُس قدر قرب حاصل نہیں کرتا جتنا فرائض سے کرتا ہے اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے ہمیشہ قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں اور جب اس سے محبت کرنے لگتاہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۶۴، ص۴۷۸، خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۶۴، ۲/۳۲۳، ملتقطاً ۔

2مسلم، کتاب البرّ والصلۃ والآداب، باب اذا اثنی علی الصالح فہی بشری ولا تضرہ، ص۱۴۲۰، الحدیث: ۱۶۶ (۲۶۴۲)۔

3شرح النووی علی المسلم، کتاب البرّ والصلۃ والآداب، باب اذا اثنی علی الصالح فہی بشری ولا تضرہ، ۸/۱۸۹، الجزء السادس عشر۔

4خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۶۴، ۲/۳۲۳-۳۲۴۔