We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

ان کے گناہوں کے سبب انہیں پکڑلیا، بیشک اللہ بڑی قوت والا، سخت عذاب دینے والا ہے۔

{ کَدَاۡبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ:جیسا فرعونیوں کا طریقہ۔} اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں کفار کی ذلت آمیز شکست اور آخرت میں ان کے لئے سخت عذاب تیار کرنے کا ذکر فرمایا جبکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ کفارِ قریش کو جو دنیا و آخرت میں عذاب دیا ہے وہ ان کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ تما م کفار اور سب منکروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہی طریقہ ہے۔آیت کا معنی یہ ہے کہ ان کافروں کی اپنے کفر وسرکشی میں عادت فرعون اور ان سے پہلوں کی طرح ہے تو جیسے فرعونیوں کو غرق کر کے ہلاک کیا اسی طرح یہ بھی غزوہ ٔ بدر کے دن قتل ا ور قید میں مبتلا کئے گئے۔ (1)

           حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ آیت کا معنی یہ ہے کہ جس طرح فرعونیوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کو یقین کے ساتھ جان لیا پھر بھی ان کی تکذیب کی یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کو جان پہچان کر تکذیب کرتے ہیں۔ (2)

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمْ ۙ وَاَنَّ اللہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۵۳

ترجمۂکنزالایمان: یہ اس لیے کہ اللہ کسی قوم سے جو نعمت انہیں دی تھی بدلتا نہیں جب تک وہ خود نہ بدل جائیں اور بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔

 

 

ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ کسی نعمت کو ہرگز نہیں بدلتا جو اس نے کسی قوم کو عطا فرمائی ہو جب تک وہ خود ہی اپنی حالت کو نہ بدلیں اور بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

{ ذٰلِکَ:یہ۔} یعنی کافروں کو عذاب دینے کا سبب یہ ہے کہ اللہتعالیٰ نے کسی قوم کو جو نعمت عطا فرمائی ہے اسے ہر گز نہیں بدلتا جب تک وہ خود ہی اپنی حالت کو نہ بدلیں ا ور زیادہ بدتر حال میں مبتلا نہ ہوں جیسے اللہ تعالیٰ نے کفارِ مکہ کو روزی

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۵۲، ۵/۴۹۵۔

2خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۵۲، ۲/۲۰۳۔