We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور وہی اس کائنات کے نظام کو چلا رہا ہے ،نیز وہی ثواب اور عذاب دینے والا ہے کیونکہ اس دنیا کی زندگی کے بعد سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ،اس لئے تمام مخلوق کو اسی کی عبادت کرنی چاہئے۔ (1)

        نوٹ:آسمانوں اور زمینوں کو چھ دن میں پیدا کرنے اور عرش پر اِستوا فرمانے کی تفسیر سورۂ اَعراف آیت نمبر 54 میں گزر چکی ہے۔

 { مَا مِنۡ شَفِیۡعٍ اِلَّا مِنۡۢ بَعْدِ اِذْنِہٖ:اس کی اجازت کے بعد ہی کوئی سفارشی ہوسکتا ہے۔} اس میں بت پرستوں کے اس قول کا رد ہے کہ بت اُن کی شفاعت کریں گے انہیں بتایا گیا کہ شفاعت اجازت یافْتْگان کے سوا کوئی نہیں کرے گا اور اجازت یافتہ صرف اس کے مقبول بندے ہوں گے۔ (2)

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شفاعت:

         قیامت کے دن انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، اولیاء و صالحین  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اور دیگر جنتی شفاعت فرمائیں گے اور اِن شفاعت کرنے والوں کے سردار اور آقا و مولیٰ حضور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہوں گے۔ چنانچہ

        حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’میں قیامت کے دن انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا امام، خطیب اور شفیع ہوں گا اور اس پر (مجھے) فخر نہیں۔ (3)

        حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ شہید کی شفاعت اس کے ستر قریبی رشتہ داروں کے بارے میں مقبول ہوگی۔ (4)

        حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن لوگ صفیں باندھے ہوں گے ،اس وقت ایک جہنمی ایک جنتی کے پاس سے گزرے گا تو اس سے کہے گا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے ایک دن مجھ سے پانی پینے کو مانگا تو میں نے آپ کو پانی پلایا تھا؟ اتنی سی بات پر وہ  جنتی اس جہنمی کی شفاعت کرے گا۔ ایک (جہنمی) دوسرے (جنتی) کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا: آپ کو یاد نہیں کہ ایک

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۳،۶/۱۸۸، ملخصاً۔

2خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۳، ۲/۳۰۱۔

3ترمذی، کتاب المناقب، باب ما جاء فی فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ۵/۳۵۳، الحدیث: ۳۶۳۳۔

4ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی الشہید یشفع،۳/۲۲، الحدیث: ۲۵۲۲۔