We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

لاکھ نمازوں کا ثواب ہے۔ (1)

(3)…حضرت اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’میرے اس منبر کے پائے جنت میں نَصب ہیں۔ (2)

مسجدِ قبا کے3 فضائل:

        مسجدِ قبا کو بھی بہت فضیلت حاصل ہے ،چنانچہ اس کے بھی تین فضائل ملاحظہ ہوں ،

(1)…حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہر ہفتے  مسجدِ قبا میں (کبھی) پیدل اور (کبھی) سوار ہو کر تشریف لاتے تھے ۔ (3)

(2)…حضرت سہل بن حُنَیف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جو شخص اپنے گھر سے نکلے، پھر مسجد ِقبا میں آ کر نماز پڑھے تو اسے ایک عمرے کا ثواب ملے گا۔ (4)

(3)…حضرت اُسَید بن ظُہَیر انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’مسجدِ قبا میں نماز پڑھنے کا ثواب عمرہ کے برابر ہے ۔ (5)

{ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا:وہ لوگ خوب پاک ہونا پسند کرتے ہیں۔} شانِ نزول: یہ آیت مسجدِ قبا والوں کے حق میں نازل ہوئی، سیّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اُن سے فرمایا : اے گروہِ انصار! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہاری تعریف فرمائی ہے، تم وضو اور استنجے کے وقت کیا عمل کرتے ہو؟ اُنہوں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم بڑا استنجا تین ڈھیلوں سے کرتے ہیں ،اس کے بعد پانی سے طہارت کرتے ہیں۔ (6)

 اسلام میں صفائی کی اہمیت:

        ہر صاحب ِذوق شخص اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ امیری ہو یا فقیری ہر حال میں صفائی ، ستھرائی انسان

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنّۃ فیہا، باب ما جاء فی الصلاۃ فی المسجد الجامع، ۲/۱۷۶،  الحدیث: ۱۴۱۳۔

2نسائی، کتاب المساجد، فضل مسجد النبی صلی اللہ علیہ وسلم والصلاۃ فیہ، ص۱۲۱، الحدیث: ۶۹۳۔

3بخاری، کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ، من اتی مسجد قباء کلّ سبت، ۱/۴۰۲، الحدیث: ۱۱۹۳۔

4نسائی، کتاب المساجد، فضل مسجد قباء والصلاۃ فیہ، ص۱۲۱، الحدیث: ۶۹۶۔

5ترمذی، ابواب الصلاۃ، باب ما جاء فی الصلاۃ فی مسجد قبائ، ۱/۳۴۸، الحدیث: ۳۲۴۔

6مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ص۴۵۵۔