Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

(4) … ایک گھڑی رات میں پڑھنا، پڑھانا ساری رات عبادت کرنے سے افضل ہے۔ )[1](

(5)… مومن کبھی خیر (یعنی علم) سے سَیر نہیں ہوتا اسے سنتا یعنی حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جاتا ہے۔)[2](

(6)… علم کو خوب پھیلاؤ اور لوگوں میں بیٹھو تاکہ علم نہ جاننے والے علم حاصل کریں کیونکہ جب تک علم کو راز نہیں بنایا جائے گا علم نہیں اٹھے گا ۔)[3](

(7)… جو علم طلب کرے پھر اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے تو اس کے لیے دوگنا اجر ہے۔ اگر حاصل نہ کر سکے تو ایک اجر ہے ۔ )[4](

(8)… جسے موت اس حال میں آئے کہ وہ اسلام زندہ کرنے کے لیے علم سیکھ رہا ہو تو جنت میں اس کے اور انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے درمیان ایک درجہ کا فرق ہو گا۔)[5](

(9)… کیا تم جانتے ہو بڑا سخی کون ہے؟ عرض کی گئی:  اَللهُ وَرَسُوْلُهٗ اَعْلَمُ یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زیادہ جانتے ہیں ۔ فرمایا:  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  بڑا جواد ہے، پھر اولادِ آدم میں مَیں بڑا سخی ہوں اور میرے بعد وہ شخص بڑا سخی ہے جو علم سیکھے اورپھر اسے پھیلائے وہ قیامت کے دن ایک جماعت ہو کر آئے گا۔ )[6](

(10)مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ تَکَفَّلَ اللّٰهُ لَهٗ بِرِزْقِهٖ جو شخص علم کی طلب میں رہتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس کے رزق کا ضامن ہے۔  )[7](

(11)… تھوڑا سا علم کثیر عبادت سے اچھا ہے ۔)[8](

(12)… طالب علم کو اس حال میں موت آئی کہ وہ طلبِ علم میں مصروف تھا تو وہ شہید ہے ۔)[9](

(13)… افضل صدقہ یہ ہے کہ کوئی مسلمان شخص علم حاصل کرے پھر اپنے مسلمان بھائی کو بھی سکھائے۔)[10](

(14)اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک صحابی سے محوِ گفتگو تھے کہ وحی نازل ہوئی:  اس صحابی کی زندگی کی ایک ساعت (یعنی گھنٹہ بھر) باقی رہ گئی ہے۔ یہ وقت ِ عصر تھا۔ رحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب یہ بات اس صحابی کو بتائی تو انہوں نے مضطرب ہو کر التجا کی:   ’’ یا رسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو اس وقت میرے لئے سب سے بہتر ہو۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ علم سیکھنے میں مشغول ہو جاؤ۔ ‘‘  چنانچہ وہ صحابی علم سیکھنے میں مشغول ہوگئے اور مغرب سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا۔ راوی فرماتے ہیں کہ اگر علم سے بہتر کوئی شے ہوتی تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسی کا حکم ارشاد فرماتے۔)[11](

اصحابِ صفہ

ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن علم دین حاصل کرنے کا بہت شوق رکھتے تھے، اس بات کا اندازہ ہم یوں لگاسکتے ہیں کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا معمول تھا کہ ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہوکر علمِ دین بھی حاصل کیا کرتے تھے مگر مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ساٹھ سے 70 صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ایسے تھے جو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے درِ اقدس پر پڑے رہتے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت میں رہ کر علم دین سیکھنے کے ساتھ ساتھ راہِ خدا میں سفر کر کے کافروں کو دعوتِ اسلام پیش کرتے اور عام مسلمانوں کو شرعی احکامات سکھایا کرتے۔ ان کی رہائش مسجد نبوی سے متصل ایک چبوترے میں تھی جس پر چھت ڈال دی گئی تھی، عربی زبان میں چونکہ چبوترے کو صُفَّہ کہتے ہیں ، لہٰذا ان پاکیزہ ہستیوں کو اصحابِ صفہ کہا جاتا۔ سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والے صحابی حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی انہی خوش نصیبوں میں شامل تھے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  اصحابِ صفہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بعد بھی کثیر مسلمان ان پاکیزہ ہستیوں کے نقش قدم پر چلتے رہے اور اپنے علاقے اور گھر وغیرہ کو چھوڑ کر کسی مدرسہ یا جامعہ



[1]    دارمی،   باب مذاکرۃ العلم،   ۱ / ۱۵۷،   حدیث: ۶۱۴

[2]    ترمذی،  کتاب العلم،   باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ،   ۴ / ۳۱۴،   حدیث: ۲۶۹۵

[3]    بخاری،   کتاب العلم،   باب کیف یقبض العلم،   ۱ / ۵۴

[4]    دارمی،   باب فی فضل العلم والعالم،   ۱ / ۱۰۸،   حدیث:۳۳۵

[5]    دارمی،   باب فی فضل العلم والعالم،   ۱ / ۱۱۲،   حدیث:۳۵۴

[6]    شعب الایمان للبیھقی،   الثامن عشر من شعب الای



Total Pages: 146

Go To