Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

اس کے مشرق ومغرب کا تمام حصہ دیکھ لیا اور عنقریب میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک کہ زمین میرے لیے سمیٹی گئی)[1]( معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک مقام پر موجودہوتے ہوئے پوری رُوئے زمین کو ملاحظہ فرمارہے تھے۔

2 :     حضرت سیدتنا اسماء بنت ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نمازِ کسوف ادا فرمائی، فراغت کے بعد اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی حمد وثنا کی، پھر ارشاد فرمایا:  ہر وہ شے جس کو میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا اسے میں نے اس مقام پر دیکھ لیا یہاں تک کہ جنت و دوزخ کو بھی دیکھ لیا۔)[2](معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زمین پر تشریف فرما ہوکر جنت ودوزخ کوملاحظہ فرمایا۔

3 :    ام المومنین حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ ایک شب سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیدار ہوئے اور فرمایا:  سبحان ﷲ!  اس رات میں کس قدر فتنے اور خزانے اتارے گئے ہیں ۔)[3](معلوم ہواکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آئندہ ہونے والے فتنوں کو بچشم ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔

4 :     حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جنگِ موتہ میں شریک حضرت سیِّدُنا زید، حضرت سیِّدُنا جعفر اور حضرت سیِّدُنا ابن رواحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی شہادت کی خبر لوگوں کو اس طرح دی گویا کہ موتہ جو کہ مدینہ منورہ سے بہت ہی دور ہے وہاں جو کچھ ہورہا ہے اس کو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ شریف سے دیکھ رہے ہیں ۔)[4](

5 :    ام المومنین حضرت سیدتنا میمونہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا روایت کرتی ہیں کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک رات میرے پاس تشریف فرما تھے کہ آپ حسبِ معمول نمازِ تہجد کے لیے اُٹھے اور وضو کرنے کی جگہ تشریف لے گئے ۔ میں نے سُنا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین مرتبہ  فرمایا کہ میں تیرے پاس پہنچا اور تو مدد کیا گیا۔ جب سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وضو کرکے باہر تشریف لائے تو میں نے عرض کی:  یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں نے سُنا ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین مرتبہ  لَـبَّیْك اورتین مرتبہ  نُصِرْتَ  فرمایا، گویا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی سے کلام فرمارہے ہیں کیا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس کوئی تھا؟ تو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: راجزمجھ سے فریاد کررہا تھا۔)[5]( حضرت سیِّدُنا راجز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مکہ مکرمہ میں اور حضور ِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ منورہ میں تھے۔

٭…٭…٭

نورانیت و بشریتِ مصطفٰے

سوال …:                     کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی نور بھی ہو اور بشر بھی؟

جواب …:                       جی ہاں !  ایسا بالکل ممکن ہے کیونکہ نورانیت اور بشریت ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں ۔ حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نوری مخلوق ہونے کے باوجود حضرت سیدتنا مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سامنے انسانی شکل میں جلوہ گر ہوئے تھے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:  فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا(۱۷) (پ۱۶، مریم: ۱۷) ترجمۂ کنز الایمان:   تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا ۔

سوال …:                    نور وبشر ہونے کے اعتبار سے  سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے متعلق ہمارا عقیدہ کیا ہے؟

جواب …:                       نور وبشر ہونے کے اعتبار سے  سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے متعلق ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ہمارے مدنی آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نور بھی ہیں اور بشر بھی۔ یعنی حقیقت کے اعتبار سے نور اور صورت کے اعتبار سے بے مثل بشر ہیں ۔

سوال …: کیا سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نور ہونا قرآنِ پاک سے ثابت ہے؟

جواب …:   جی ہاں !  سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نور ہونا قرآنِ پاک سے ثابت ہے۔ چنانچہ پارہ 6 سورۂ  ما ئدہ کی آیت نمبر 15 میں ارشاد ہوتا ہے:  قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ(۱۵)ترجمۂ کنز الایمان:   بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔ تفسیر روح المعانی میں اس آیت کے تحت



[1]    مسلم،   کتاب الفتن واشراط الساعۃ،   باب ھلاک ھذہ الامۃ بعضھم ببعض،   ص ۱۵۴۴،   حدیث: ۲۸۸۹

[2]    بخاری،   کتاب الوضوء،   باب من لم یتوضأ الا من الغشی المثقل،   ۱ / ۸۷،   حدیث: ۱۸۴

[3]    بخاری،   کتاب التھجد،   باب تحریض النبی علی صلاۃ اللیل     الخ،   ۱ / ۳۸۳،   حدیث: ۱۱۲۶

[4]    بخاری،   کتاب المغازی،   باب غزوۃ موتۃ من ارض شام،   ۳ / ۹۶،   حدیث: ۴۰۴۲ ماخوذاً

[5]    المعجم الصغیر،   الجزء الثانی،   ص ۷۳



Total Pages: 146

Go To