Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

سوال …:                    شبِ معراج کس آسمان پر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ملاقات کس نبی عَلَیْہِ السَّلَام سے ہوئی؟

جواب …:                                         شبِ معراج سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ملاقات

1 :   پہلے آسمان پر حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام سے ہوئی۔

2 :   دوسرے آسمان پر حضرت سیِّدُنا یحییٰ و حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِمَا السَّلَام سے ہوئی۔

3 :   تیسرے آسمان پر حضرت سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام سے ہوئی۔

4 :    چوتھے آسمان پر حضرت سیِّدُنا ادریس عَلَیْہِ السَّلَام سے ہوئی۔

5 :   پانچویں آسمان پر حضرت سیِّدُنا ہارون عَلَیْہِ السَّلَام سے ہوئی۔

6 :   چھٹے آسمان پر حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے ہوئی۔

7 :   ساتویں آسمان پر حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام سے ہوئی۔)[1] (

سوال …:   سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس آسمانی سفر کا انکار کرنے والے کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب …:   سفرِ مِعراج کے تین حصّے ہیں :  (1)اسرٰی (2)مِعراج (3)اِعراج یا عُرُوج۔ چنانچہ،

                                                (1)اسریٰ یعنی مکّۂ مکرَّمہ سے حُضُور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بَیْتُ المقدَّس تک شب کے تھوڑے سے حصے میں تشریف لے جانا نصِّ قرآنی (یعنی قرآنِ پاک کی واضح آیت اور روشن دلیل) سے ثابِت ہے۔ اِس کا مُنکِر (انکار کرنے والا) کافِر ہے۔

                                                (2)مِعراج یعنی آسمانوں کی سَیر اور مَنازِلِ قُرب میں پہنچنا احادیثِ صَحِیْحَہ (صَحِی۔ حَہ) مُعتَمَدہ (مُع۔تَ۔ مَدَہ) مَشہُورَہ (مَش۔ہُورَہ) سے ثابِت ہے، اس کا مُنکِر (انکار کرنے والا) گمراہ ہے۔

                        (3)اِعراج یا عُرُوجیعنی سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سر کی آنکھوں سے دیدارِ الٰہی کرنے اور فوقَ العرش (عرش سے اوپر) جانے کا منکِر (انکار کرنے والا) خاطی یعنی خطا کار ہے۔)[2] (

سوال …:                     شبِ معراج سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بیت المقدس میں کس نماز کی امامت فرمائی؟

جواب …:   شبِ معراج سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بیت المقدس میں جس نماز کی امامت فرمائی وہ نماز تحیۃ المسجد تھی۔ چنانچہ حضرت علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں :  مدنی آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کی اور ظاہر یہی ہے کہ یہی وہ نماز ہے جس میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اقتدا کی اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اصفیا کے امام بنے۔)[3] (

٭…٭…٭

شفاعتِ مُصطفٰے

سوال …:                    شفاعت سے کیامراد ہے؟

جواب …:                                         شفاعت سے مراد سفارش ہے یعنی قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نبی و رسول اور دیگر نیک بندے گناہ گاروں کی بخشش کے لیے بارگاہِ خداوندی میں سفارش فرمائیں گے۔

سوال …:                      قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کون کرے گا؟

جواب …:                                          قیامت کے دن سب سے پہلے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شفاعت فرمائیں گے۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو قیامت کے دن شفاعتِ کبریٰ اور مقامِ محمود کا شرف عطا فرمایا ہے۔ جب تک ہمارے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شفاعت کا دروازہ نہیں کھولیں گے کسی کو بھی مجالِ شفاعت نہ ہوگی، پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت کے بعد تمام انبیا و اولیا وصلحا و شہدا وغیرہ سب شفاعت کریں گے۔)[4] (

سوال …:                      مقامِ محمود سے کیا مراد ہے؟

 



[1]    سیرتِ مصطفٰے ، ص ۷۳۳

[2]    کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،   ص ۲۲۶،   ۲۲۷ ماخوذاً

[3]    مرقاۃ،   کتاب الفضائل،   باب فی المعراج،    ۱۰ / ۱۶۷،   تحت الحدیث: ۵۸۶۳

[4]    بہارِ شریعت،   عقائد متعلقہ نبوت،   ۱ / ۷۰ ماخوذاً



Total Pages: 146

Go To