Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

میں ساتھ جماعت کے پڑھوں ساری نَمازیں

اللہ!  عبادت میں مِرے دل کو لگا دے

پڑھتا رہوں کثرت سے دُرُود اُن پہ سدا مَیں

اور ذِکْر کا بھی شوق پئے غوث ورضاؔ دے

ہر کام شریعت کے مطابِق میں کروں کاش!

یاربّ!  تو مُبلّغ مجھے سُنّت کا بنا دے

میں جھوٹ نہ بولوں کبھی گالی نہ نِکالوں

اللہ!   مَرَض سے تُو گناہوں کے شِفا دے

میں فالتو باتوں سے رہوں دُور ہمیشہ

چُپ رہنے کا اللہ!  سلیقہ تُو سِکھا دے

اَخلاق ہوں اچّھے مِرا کردار ہو سُتھرا

محبوب کا صَدقہ تُو مجھے نیک بنا دے

اُستاذ ہوں ، ماں باپ ہوں ، عطّارؔ بھی ہو ساتھ

یُوں حج کو چلیں اور مدینہ بھی دکھا دے

٭…٭…٭

 

صلٰوۃ و سلام)[1](

اے مدینے کے تاجدار تجھے

اہلِ ایماں سلام کہتے ہیں

تیرے عشاق تیرے دیوانے

جانِ جاناں سلام کہتے ہیں

جو مدينے سے دور رهتے هيں

هِجر و فُرقت كا رنج سهتے هيں

وہ طلب گارِ دید رو رو کر

اے مِري جاں سلام کہتے ہیں

جن کو دنیا کے غم ستاتے ہیں

ٹھوکریں در بدر کی کھاتے ہیں

غم نصیبوں کے چارہ گر تم کو

وہ پریشاں سلام کہتے ہیں

دور دنیا کے رنج و غم کردو

اور سینے میں اپنا غم بھر دو

اُن کو چشمانِ تر عطا کردو

جو بھی سلطاں سلام کہتے ہیں

جو تِرے عشق میں تڑپتے ہیں

 



[1]    وسائل بخش،  ص۵۸۴



Total Pages: 146

Go To