Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

سے اتنا پیارا نیکیوں بھرا مدنی ماحول کیوں چھوٹ گیا۔ پھر کچھ اسلامی بھائیوں نے بھی انفرادی کوشش کی۔ یوں میں دوبارہ مدرسۃ المدینہ میں داخل ہوگیا اور دل جمعی سے قرآن پاک حفظ کرنے میں مشغول ہوگیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  حفظ مکمل کرنے کے بعد ایک عر صے تک مدرسۃ المدینہ میں مدرس کے فرائض سرانجام دینے کی سعادت حاصل کی اور تادمِ تحریر مدرسۃ المدینہ میں ناظم کے منصب پر فائز ہوں اور ایک حلقے کا ذمہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ امامت کی بھی سعادت حاصل کررہا ہوں ۔

(8) مَدَنی منے کی دعوت

مرکز الاولیاء (لاہور) کے علاقے نیونیشنل ٹاؤن میں مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کا لُبِّ لُباب ہے کہ میں ایک ورکشاپ میں ملازم تھا۔ ایک روز میری ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی تو اسے دیکھ کر حیرت کے مارے میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ میرا وہ دوست جو کل تک نت نئے فیشن کا شوقین اور ٹھٹھہ مسخری کرنے والا تھا، بالکل ہی بدل چکا ہے۔ ان کے سر پر سبز سبز عمامے کا تاج سجا ہوا تھا اور جسم پر سنّت کے مطابق آدھی پنڈلی تک سفید کرتا، چہرے پرایک مُشت داڑھی شریف نے مزید ان کی شخصیت کو نکھار دیا تھا۔ میرے چہرے پر حیرانی کے آثار دیکھ کر انہوں نے اپنی اس تبدیلی کا راز یوں آشکار کیا کہ کچھ عرصہ قبل میری ملاقات ایک ایسے نوجوان سے ہوئی جو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ تھے۔ ان کا انداز کچھ ایسا دل موہ لینے والا تھا کہ میں ان سے وقتاً فوقتاً ملنے لگا۔ اس عاشقِ رسول کی صحبت میں مجھے اصلاح کے پیارے پیارے مدنی پھول ملتے۔ کئی بار انہوں نے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت بھی پیش کی۔ آخر ایک روز مجھے شرکت کی سعادت مل ہی گئی۔ ان دنوں مرکز الاولیاء (لاہور) میں ہفتہ وار اجتماع ہر جمعرات کو جامع مسجد حنفیہ (سوڈیوال ملتان روڈ) میں ہوتا تھا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ   اجتماع میں شرکت، مدنی قافلوں میں سفر اور عاشقانِ رسول کی صحبت نے میری زندگی میں مدنی انقلاب برپا کردیا۔ جسے دیکھ کر آپ حیرت زدہ ہیں ۔ میرا تو آپ کی خدمت میں مدنی مشورہ ہے کہ آپ بھی دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کر کے دیکھیں ، کیسی بہاریں نصیب ہوتی ہیں ۔ اس اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں نے نیت تو کی مگر بدقسمتی سے جا نہ سکا۔ میرے چھوٹے بھائی نے دعوتِ اسلامی کے قائم کردہ مدرستہ المدینہ میں قرآنِ پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی تھی۔ ان کو پڑھانے والے استاد صاحب کے عَزَّ وَجَلَّ 2 سالہ بیٹے جو میرے بھائی سے ملاقات کے لیے آتے رہتے تھے۔ وہ جمعرات کو جب کبھی ہمارے گھر آتے تو بڑی اپنائیت سے اجتماع کی دعوت پیش فرماتے۔ میں ٹال مٹول کر دیتا مگروہ جمعرات کو آپہنچتے اور اصرار کرتے۔ آخرکار ایک روز وہ کامیاب ہو ہی گئے اور میں ان کے ہمراہ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں جا پہنچا۔ میں نے پہلی بار اتنے نوجوان سنتوں بھرے لباس میں ملبوس سبز عمامہ سجائے دیکھے تھے۔ ان کی مسکراہٹ و ملاقات کا پیار بھرا انداز میں بھلا نہ سکا پھر جب سنّتوں بھرا بیان سنا اور رِقَّت انگیز دُعا میں شرکت کی تو میرے تاریک دل میں عشقِ رسول کی ایسی شمع روشن ہوئی کہ کچھ ہی عرصہ میں نہ صرف چہرے پر سنّت کے مطابق داڑھی سجالی بلکہ سبز عمامے کا تاج بھی سر پر سج گیا۔ میں سلسلۂ نقشبندیہ میں مرید تھا مزید فیوض و برکات کے حصول کے لیے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے سلسلۂ قادریہ رضویہ میں طالب بھی ہوگیا ہوں ۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول کی برکتوں کو دنیا بھر میں عام کرے کہ جس نے مجھ سے گنہگار انسان کوعمل کاجذبہ عطافرمایا اور میں اپنے دوست اور اپنے بھائی کے دوست مَدَنی منے کا بہت شکرگزار ہوں جن کی انفرادی کوشش سے میں ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوا اور میری زندگی اعمالِ صالحہ کے نور سے منور ہو گئی۔

(9) بابِ رحمت کھلا

          باب المدینہ (کراچی) کے علاقے کھوکھرا پار ملیر توسیعی کالونیکے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے :  مجھ پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا بڑا فضل و کرم تھا کیونکہ مجھے دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول میسر تھا اور میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابو بلال محمد الیاس عطّارقادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مرید بھی تھا یہی وجہ تھی کہ میں نماز روزوں کا پابند ،باعمامہ ،باریش، سفید لباس میں ملبوس، سنّتوں سے نہ صرف محبت کرنے والا بلکہ سنّتیں اپنانے والا معاشرے کا ایک باکردار مسلمان بن چکاتھا۔ دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں پابندی سے شرکت کیا کرتا تھا اور صرف یہی نہیں بلکہ فیضانِ سنّت سے درس دینا اور سننا میرے روز مرّہ کے معمولات کا ایک حصہ تھا، علاقے میں کتنے ہی لوگ تھے جومیری انفرادی کوشش سے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سنّتوں کی چلتی پھرتی تصویر بن چکے تھے، لیکن اس کے باوجود جب میں اپنے بڑے بھائی کو دیکھتا تو بہت کڑھتا کیوں کہ وہ یادِ الٰہی سے غافل دنیا کی رنگینیوں میں مست زندگی گزار رہے تھے، نماز روزوں کی ادائیگی تو دور کی بات وہ تو عید کی نماز پڑھنے کے لئے بھی تیار نہ ہوتے تھے، بلکہ فلموں ، ڈراموں اور گانے باجوں میں ہی دلچسپی رکھتے تھے، میں نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطاکردہ عظیم مدنی مقصد  ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘  کے تحت بارہا ان کی اصلاح کے لئے انفرادی کوشش کی مگر ان پر میری باتوں کا کوئی خاص اثر نہ ہوا ایک مرتبہ  ہمارے گھر میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیان کی کیسٹ   ’’ قبر کی پکار ‘‘  چل رہی تھی، اس دن بڑے بھائی بھی اپنے کمرے میں بیٹھے بیان سن رہے تھے ایک ولیٔ کامل کے درد مندانہ اور پر تاثیر الفاظ ان کے دل پراثر کر گئے، انہوں نے اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کی اور نماز روزوں کا اہتمام شروع کر دیا میں نے ان کے اندر یہ تبدیلی دیکھی توموقع غنیمت جانتے ہوئے انہیں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کے لئے اپنے ساتھ لے جانے لگا اور یوں آہستہ آہستہ وہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگئے ، سر پر عمامہ شریف کا تاج، چہرے پر سنّت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی شریف



Total Pages: 146

Go To