Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

 

 

 

اس باب میں آپ پڑھیں گے:

نیکی کی دعوت، دعوتِ اسلامی کی مدنی بہاریں ، فیضانِ سنت سے درس دینے کا طریقہ

بلحاظِ موصوعاتی ترتیب 40مدنی انعامات اور دعوتِ اسلامی کی اصطلاحات

نیکی کی دعوت

فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:  

خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ   تَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  تَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ  وَ  تُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰهِؕ- (پ ۳، ال عمران: ۱۱۰ )

ترجمۂ کنز الایمان:  تم بہتر ہو اُن سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

        پیارے مدنی منو!  دیکھا آپ نے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے ہمیں سابقہ تمام امتوں میں بہتر امت ارشاد فرمایا ہے مگر یاد رکھیں ہمیں بہتر امت اس لئے نہیں کہا کہ اس امت میں بڑے بڑے انجینئر، ڈاکٹرز، دانشور اور دولت مند ہوں گے۔ نہیں نہیں بلکہ ہم کو تو بہتر امت اس لئے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ امت آپس میں نیکی کی دعوت دیتی ہے یعنی اچھی بات کا حکم کرتی اور بری بات سے منع کرتی ہے۔

                                                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ہر دور میں ایک ایسا بندہ پیدا فرماتا ہے جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی عطا سے نیکی کی دعوت کی دھوم مچاتا ہے، انہیں نیک بندوں میں ایک نام شیخ طریقت، امیر اہلسنت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا بھی ہے۔ آپ نے ذوالقعدۃ الحرام ۱۴۰۱ھ؁ بمطابق ستمبر عَزَّ وَجَلَّ 981ء میں نیکی کی دعوت کی دھوم مچانے کے عظیم مقصد کے تحت غیر سیاسی تحریک  ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘  کی بنیاد رکھی اور دیکھتے ہی دیکھتے نیکی کی دعوت کی یہ عظیم تحریک دنیا کے عَزَّ وَجَلَّ 72سے زائد ممالک میں پھیل چکی ہے۔

اس مدنی تحریک نے ہر خاص و عام کے سینے میں یہ عظیم جذبہ بیدار کر دیا ہے کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  چنانچہ اس مقصد کی تکمیل اور نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے تحت بے شمار مدنی قافلے راہِ خدا میں گھرگھر،  شہر بہ شہر، گاؤں بہ گاؤں، ملک بہ ملک سفر کرکے بے نمازیوں کو نماز کی، غافلوں کو بیداری کی، جاہلوں کو علم و معرفت کی، فاسقوں کو تقویٰ کی، بروں کو بھلائی کی اور غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے میں مصروفِ عمل ہيں۔

سُبْحَانَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  !  وہ لوگ کس قدر خوش نصیب ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں کو نیکی کی دعوت دیتے ہیں ۔ ان خوش نصیبوں کے لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے:  

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللہِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیۡ مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ)۳۳( (پ ۲۴، حم السجدۃ:  ۳۳)

ترجمۂ کنز الایمان:  اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں ۔

جب کوئی مسلمان نیکی کی دعوت دیتاہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رحمت جوش میں آجاتی ہے ۔ چنانچہ امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی:  اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  !  جو اپنے بھائی کو بلائے اسے نیکی کا حکم کرے اور برائی سے منع کرے اس کی جزا کیا ہے؟ فرمایا:  میں اس کی ہر بات کے بدلے ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہوں اور اسے جہنم کی سزا دیتے ہوئے مجھے حیا آتی ہے۔)[1](

نیکی کی دعوت عام کرنے کے اس سچے جذبے کے تحت امیر اہلسنت نے اپنے مریدین، محبین، متعلقین اور اپنی پیاری تحریک دعوت اسلامی کو ایک مدنی مقصد عطا فرمایا ہے:  

مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  آئیے ہم سب دعوت اسلامی کے ساتھ مل کر ساری دنیا میں نیکی کی دعوت پہنچانے کا عزم کریں ۔

٭…٭…٭

دعوت اسلامی کی مدنی بہاریں

(1) دعائے مدینہ کی برکت

مرکز الاولیاء (لاہور، پاکستان) کے مقیم ایک اسلامی بھائی اپنی توبہ کا تذکرہ کرتے ہیں کہ میں دعوتِ اسلامی کے مُشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل بہت بگڑا ہوا انسان تھا۔ لڑائی جھگڑا مول لینا، دوسروں کو بلاوجہ تنگ کرنا میرا پسندیدہ کام تھا۔ میری بری عادتوں کی وجہ سے میرے گھر والے اور اہل محلّہ سب ہی پریشان تھے مگر مجھے کسی کی کوئی



[1]    مكاشفة القلوب،   الباب الخامس عشر فی الامر بالمعروف    الخ،   ص۴۸



Total Pages: 146

Go To