Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

حسد کے متعلق فرامینِ مصطفٰے

(1)… حسد ایمان کو اس طرح خراب کردیتاہے جس طرح ایلوا (یعنی ایک کڑوے درخت کا جما ہوا رَس) شہد کو خراب کر دیتا ہے۔)[1](

(2)… حسد سے بچتے رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کوکھا جاتی ہے۔)[2](

(3)… حسد کرنے والے، چغلی کھانے والے اور کاہن کے پاس جانے والے کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میرا ان سے کوئی تعلق ہے ۔)[3](

(4)… لوگ جب تک آپس میں حسد نہ کريں گے ہمیشہ بھلائی پررہیں گے۔)[4](

(5)… ابلیس (اپنے چيلوں سے) کہتا ہے:  انسانوں سے ظلم اور حسد کے اعمال کراؤ کیونکہ یہ دونوں عمل اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نزدیک شرک کے برابر ہیں ۔)[5](

(6)اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی نعمتوں کے بھی دشمن ہوتے ہیں ۔ عرض کی گئی:  وہ کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا:  وہ جو لوگوں سے اس لئے حسد کرتے ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے اپنے فضل وکرم سے اُن کو نعمتیں عطا فرمائی ہيں ۔)[6](

حسد برے خاتمے کا باعث ہے

            حضرتِ سیِّدُنا فُضَیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے ایک شاگِرد کی نَزع کے وَقت تشریف لائے اور اُس کے پاس بیٹھ کر سورہ یٰس شریف پڑھنے لگے۔ تو اُس شاگِرد نے کہا:  سورہ یٰس پڑھنا بند کر دو۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسے کلمہ شریف کی تلقین فرمائی۔ وہ بولا:  میں ہرگزیہ کلمہ نہیں پڑھوں گا میں اِس سے بَیزار ہوں ۔ بس انہیں الفاظ پر اس کی موت واقِع ہوگئی۔ حضرتِ سیِّدُنافُضَیل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اپنے شاگِرد کے بُرے خاتِمے کا سخت صدمہ ہوا۔ چالیس روز تک اپنے گھر میں بیٹھے روتے رہے۔ چالیس دن کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے خواب میں دیکھا کہ فِرِشتے اُس شاگرد کو جہنَّم میں گھسیٹ رہے ہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اُس سے اِستِفسار فرمایا:  کس سبب سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے تیری مَعرِفَت سَلب فرما لی؟ میرے شاگردوں میں تیرا مقام تو بَہُت اونچا تھا!  اُس نے جواب دیا:  تین عُیُوب کے سبب سے:  (۱) چُغلی کہ میں اپنے ساتھیوں کو کچھ بتاتا تھا اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو کچھ اور (۲) حَسَد کہ میں اپنے ساتھیوں سے حَسَد کرتا تھا (۳) شراب نَوشی کہ ایک بیماری سے شِفاپانے کی غَرَض سے طبیب کے مشورہ پر ہر سال شراب کا ایک گلاس پِیتا تھا)[7](

٭…٭…٭

سورۂ کہف کی فضیلت

شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  مدنی پنج سورہ میں سورۂ کہف کی فضیلت میں نقل فرماتے ہیں:  (1) جو سورۂ کہف کی اوّل اور آخر سے تلاوت کرے گا اس کے سر تا پا نور ہی نور ہوگا اور جو اس کی مکمل تلاوت کرے گا، اس کے لیے آسمان اور زمین کے درمیان نُور ہوگا۔ (مسند احمد، حدیث معاذ بن انس، ۵/ ۳۱۱، حدیث: ۱۵۶۲۶)(2) جو جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھے اس کے لئے دو جمعوں کے درمیان ایک نُور روشن کردیا جاتاہے۔ایک روایت میں ہے: جو شبِ جمعہ کو پڑھے اس کے اور بیتُ العتیق (یعنی کعبۃ اللہ شریف) کے درمیان ایک نُور روشن کردیا جاتا ہے۔ (شعب الایمان، ۲/ ۴۷۴، حدیث: ۲۴۴۴)(3) جو سورۂ کہف کی پہلی دس آیتیں یاد کرے گا دَجّال سے محفوظ رہے گا اور ایک روایت میں ہے:  جو سورۂ کہف کی آخری دس آیتیں یاد کرے گا دَجّال سے محفوظ رہے گا۔ (مسلم،  ص۴۰۴، حدیث: ۸۰۹)

بُغض و کینہ

جب انسان کو غصہ آئے اور وہ اسے نافذ کرنے پر قدرت نہ پانے کی وجہ سے پی لے تو وہ غصہ دل میں بیٹھ کر بغض یعنی نفرت اور کینہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پھر اس بغض و کینہ کے نتائج یہ مرتب ہوتے ہيں کہ بندہ اپنے مغضوب (یعنی جس پر غصہ آیا اس) سے حسد کرنے لگتا ہے یعنی اس سے نعمت کے زوال کی تمنا کر کے اس نعمت سے خود نفع اٹھانا چاہتا ہے یا اس کی پریشانی پر خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ اس سے اپنا تعلق ختم کر لیتا ہے۔ اگر وہ اِس کے پاس کسی ضرورت کے تحت آ جائے تو اِس کی زبان اس کے بارے میں حرام کی مرتکب ہوتی ہے اور وہ اُس کا مذاق اڑاتا، مسخری کرتا اور دل آزاری کا باعث بنتا ہے۔ یہ تمام کام سخت گناہ اور حرام ہیں ۔

 



[1]    کنزالعمال،   کتاب الاخلاق،   الجزء الثالث،   ۲ / ۱۸۶،   حدیث:۷۴۳۷

[2]    ابو داود،   کتاب الادب،   باب فی حسد،   ۴ / ۳۶۰،   حدیث:۴۹۰۳

[3]    مجمع الزوائد،   کتاب الادب،   باب ماجاء فی الغیبۃ والنمیمۃ،   ۸ / ۱۷۲،   حدیث:۱۳۱۲۶

[4]    المعجم الکبیر،   ۸ / ۳۰۹،   حدیث:۸۱۵۷

[5]    جامع الاحادیث،   ۳ / ۶۰،   حدیث:۷۲۶۹

[6]    شعب الایمان ، باب فی الحث علی ترک الغل والحسد،   الحدیث تحت الباب،   ۵ / ۲۶۳

 

[7]    مِنھاجُ العابِدین،   ص۱۶۵



Total Pages: 146

Go To