Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

جواب …:                       جی نہیں !  ایسا کوئی بھی نہیں جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے۔البتہ!  بعض ناعاقبت اندیش (وہ لوگ جنہیں اپنی آخرت کی فکر نہیں ) غیبت جیسے گھناؤنے گناہ میں مبتلا ہو کر گویا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے لگتے ہیں ۔چنانچہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:  

وَلَا یَغْتَبۡ بَّعْضُکُمۡ بَعْضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ  (پ ۲۶، الحجرات:  ۱۲)

ترجمۂ کنز الایمان:  اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے

تو یہ تمہیں گوارا نہ ہو گا۔

غیبت کی تباہ کاریاں

غیبت کے بے شمار نقصانات میں سے چند درج ذیل ہیں :  

٭…  غیبت اور چغلی ایمان کو اس طرح جھاڑ دیتی ہیں جس طرح چرواہا درخت (سے پتے) جھاڑتا ہے۔ )[1](

٭…  غیبت کرنے والا جہنم میں بندر کی شکل میں بدل جائے گا۔ )[2](

٭…  شبِ معراج سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہوا جو اپنے چہروں اور سِینوں کو تانبے کے ناخُنوں سے نوچ رہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ لوگوں کا گوشت کھاتے (یعنی غیبت کرتے) تھے۔)[3](

منہ سے گوشت نکلا

سوال …:   کیا کوئی ایسا واقعہ مروی ہے جس سے ثابت ہو کہ غیبت کرنے والے نے واقعی مردہ بھائی کا گوشت کھایا ہو؟

جواب …:                                          جی ہاں !  حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سلطانِ دوجہان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صَحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو ایک دِن روزہ رکھنے کا حُکم دیا اور ارشاد فرمایا:  جب تک میں اِجازت نہ دوں ، تم میں سے کوئی بھی اِفطار نہ کرے۔ لوگوں نے روزہ رکھا۔ جب شام ہوئی تو تمام صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ایک ایک کرکے حاضِرِ خدمتِ بابَرَکت ہوکر عَرض کرتے رہے:  یَارَسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!  میں روزے سے رہا ، اب مجھے اِجازت دیجئے تاکہ میں روزہ کھول دُوں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُسے اِجازت مَرحمت فرما دیتے۔ ایک صَحابی نے حاضِر ہوکر عَرض کی:  آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  دو عورتوں نے روزہ رکھا اور وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ بابَرَکت میں آنے سے حیا محسوس کرتی ہیں ، اُنہیں اجازت دیجئے تاکہ وہ بھی روزہ کھول لیں ۔ اللہ کے مَحبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن سے رُخِ انور پھیرلیا،اُنہوں نے پھرعَرض کی، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر چِہرئہ انور پَھیرلیا۔ اُنہوں نے پھریہی بات دُہرا ئی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر چِہرئہ انور پَھیر لیا وہ پھر یہی با ت دُہرانے لگے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر رُخِ انورپھیرلیا، پھر غیب دان رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (غَیب کی خبر دیتے ہوئے) ارشاد فرمایا:  اُن دونوں نے روزہ نہیں رکھا وہ کیسی روزہ دار ہیں وہ تَو سارا دن لوگوں کا گوشت کھاتی رہیں !  جاؤ، ان دونوں کو حُکْم دو کہ وہ اگر روزہ دار ہیں تَو قَے کردیں ۔ وہ صَحابی اُن کے پاس تشریف لائے اور انہیں فرمانِ شاہی سُنایا۔ اِن دونوں نے قَے کی تَو قَے سے جما ہوا خُون نِکلا۔ اُن صَحابی نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدمتِ بابَرَکت میں واپَس حاضِر ہو کر صُورتِ حال عَرض کی۔ مَدَنی آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  اُس ذات کی قَسم ! جس کے قَبضۂ قُدرت میں میری جان ہے!  اگر یہ اُن کے پیٹوں میں باقی رہتا تَو اُن دونوں کوآگ کھاتی۔ (کیوں کہ انہوں نے غِیبت کی تھی))[4]  (

            ایک رِوایَت میں ہے کہ جب سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان صَحابی سے مُنہ پھیرا تَو وہ سامنے آئے اور عَرض کی:  یا رسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! وہ دونوں پیاس کی شدت سے مَرنے کے قریب ہیں ۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حُکم فرمایا: اُن دونوں کو میرے پاس لاؤ۔ وہ دونوں حاضِر ہوئیں ۔ سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک پِیالہ منگوایا اور اُن میں سے ایک کو حُکْم فرمایا:  اِس میں قَے کرو!  اُس نے خون، پِیپ اور گوشت کی قَے کی، حتّٰی کہ آدھاپیالہ بھر گیا۔پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دُوسری کو حُکْم دیا کہ تم بھی اِس میں قَے کرو!  اُس نے بھی اِسی طرح کی قَے کی،یہاں تک کہ پیالہ بھر گیا اللہ کے پیارے رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  اِن دونوں نے اللہ کی حَلال کردہ چیزوں (یعنی کھانے، پینے وغیرہ) سے تَو روزہ رکھا مگر جن چیزوں کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے (عِلاوہ روزے کے بھی) حرام رکھا ہے ان (حرام چیزوں ) سے روزہ اِفطار کر ڈالا!  ہُوا یُوں کہ ایک دُوسری کے پاس بیٹھ گئی اور دونوں مِل کر لوگوں کا گوشت کھانے (یعنی غیبت کرنے) لگیں ۔)[5](

 



[1]    الترغیب والترھیب،   کتاب الادب وغیرہ،   باب الترھیب من الغیبۃ    الخ،   ۳ / ۳۳۲،   حدیث: ۲۸

[2]    تنبیہ المغترین،   ومنھا سر باب الغیبۃ     الخ،   ص ۱۹۴

[3]    ابوداود،   کتاب الادب،   باب فی الغیبۃ،   ۴ / ۳۵۳،   حدیث:   ۴۸۷۸  ملخصاً

[4]    ذم الغیبۃلابن ابی الدنیا،   ص۷۲،   الحدیث: ۳۱

[5]    مسند احمد،   ۹ / ۱۶۵،   الحدیث: ۲۳۷۱۴



Total Pages: 146

Go To