$header_html

Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عمدہ خوشبو استعمال فرماتے اور اسی کی لوگوں کو بھی تلقین فرماتے۔

سر میں خوشبو لگانا سنت ہے

سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادتِ کریمہ تھی کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ’’ مشک ‘‘  سر اقدس اور داڑھی مبارک میں لگایا کرتے۔)[1](

خوشبو کا تحفہ قبول کرنا

حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ نبیوں کے سردار، معطر معطر سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت بابرکت میں جب خوشبو تحفۃً پیش کی جاتی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رد نہ فرماتے۔)[2](

کون کیسی خوشبو استعمال کرے؟

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ مکی مدنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  مردانہ خوشبو وہ ہے جس کی خوشبو ظاہر ہو مگر رنگ نہ ہو اور زنانہ خوشبو وہ ہے جس کا رنگ تو ظاہر ہو مگر خوشبو ظاہر نہ ہو۔)[3](

خوشبو کی دھونی لینا سنت ہے

حضرت سیدنا نافع عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّافِع فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کبھی کبھی خالص عود (یعنی اَگر) کی دھونی لیتے۔ یعنی عود کے ساتھ کسی دوسری چیز کی آمیزش نہیں کرتے اور کبھی عود کے ساتھ کافور ملا کر دھونی لیتے اور فرماتے کہ میٹھے میٹھے مدنی آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی اسی طرح دھونی لیا کرتے تھے۔)[4](

اے ہمارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !  ہمیں پیارے سرکار، دو عالم کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صدقے میں مدینہ منورہ کی معطر معطر فضاؤں اور معنبر معنبر ہواؤں میں سانس لینے کی سعادت نصیب فرما اور پھر انہی معطر معطر فضاؤں میں سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جلووں میں عافیت کے ساتھ ایمان پر موت نصیب فرما اور جنت البقیع کی مہکی مہکی سرزمین میں مدفن نصیب فرما۔  ؎

کیجئے گا نہ مایوس ماہِ مبیں                                               آپ کے واسطے کوئی مشکل نہیں

بس بقیع مبارک میں دو گز زمیں                   ہم کو یا سید الانبیاء چاہیے

ٹوٹ جائے دم مدینے میں مرا یا رب بقیع      کاش!  ہوجائے میسر سبز گنبد دیکھ کر

٭…٭…٭

مسواک شریف کے مدنی پھول

مسواک کی شرعی حیثیت

سوال …:                     مسواک کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب …:                                          وضو سے پہلے مسواک شریف کرنا پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عظیم سنت ہے اور اگر منہ میں بدبو ہو تو اس وقت مسواک کرنا سنت مؤکدہ ہے۔

مسواک کی موٹائی و لمبائی

سوال …:                     مسواک کتنی موٹی اور لمبی ہونی چاہئے؟

جواب …:                       مسواک کی موٹائی چھُنگلیا یعنی چھوٹی انگلی کے برابر ہو اور لمبائی ایک بالشت سے زیادہ نہ ہو، ورنہ اس پر شیطان بیٹھتا ہے۔

سوال …:                     مسواک کے ریشے کیسے ہونے چاہئیں ؟

جواب …:                       مسواک کے ریشے نرم ہوں کہ سخت ریشے دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان خلا (Gap) کا باعث بنتے ہیں اور مسواک تازہ ہو تو خوب ورنہ کچھ دیر پانی کے گلاس میں بھگو کر نرم کر لیجئے۔ اس کے ریشے روزانہ کاٹتے رہئے کہ ریشے اس وقت تک کار آمد رہتے ہیں جب تک ان کی تلخی باقی رہے۔

مسواک کرنے اور پکڑنے کا طریقہ

٭…  دانتو ں کی چوڑائی میں مسواک کیجئے۔ ٭…  جب بھی مسواک کرنا ہو کم از کم تین بار کیجئے۔ ٭…  ہر بار دھو لیجئے۔

٭…  مسواک سیدھے ہاتھ میں اس طرح لیجئے کہ چھنگلیا اسکے نیچے، بیچ کی تین انگلیاں اوپر اور انگوٹھا سرے پر ہو۔

 



[1]    وسائل الوصول،   الباب الثانی،   الفصل الخامس،   ص۸۷

[2]    شمائل محمدية،   باب ماجاء فی تعطر رسول الله صلی الله تعالی عليه واله وسلم ،  ص ۱۳۰،   حدیث: ۲۰۸

[3]    ترمذی ،  کتاب الادب ،  باب ما جآء فی طیب الرجال والنسآء،   ۴ / ۳۶۱،   حدیث: ۲۷۹۶

[4]    مسلم،  کتاب الالفاظ من الادب وغیرہ،   باباستعمال المسک     الخ،   ص۱۲۳۷،   حدیث: ۲۱ - (۲۲۵۴)



Total Pages: 146

Go To
$footer_html