Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اَسما کے ساتھ”رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ“ خود بھی کہتے اور دوسروں سے بھی کہلواتے،  چنانچہ جب طلبا سند حدىث پڑھتے ہوئے کسى صحابى کے نام کے ساتھ” رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ“ نہ پڑھتے  تو آپ انہىں روک لىتے اور فرماتے: آپ نے صحابی کا نام پڑھا ہے لہذا” رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ“ بھى کہیں ۔ ([1])

کتبِ احادیث کا ادب

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نہ صرف خود کتبِ احادىث کا ادب کرتے بلکہ طلبہ مىں بھى ادب کا جوہر پىدا فرماتے اورتلقین فرمایا کرتے: کتب رکھتے وقت حفظِ مراتب کا خىال کرتے ہوئے حدىث پاک کى کتاب کے اوپر قرآن حکىم کے علاوہ اور کوئى کتاب  نہىں رکھنى چاہىے۔ایک مرتبہ ایک طالب علم نے بخاری شریف پر گلاب کا پھول رکھ دیا تو آپ نے منع کرتے ہوئے فرمایا:پھول اگرچہ بڑی نرم و نازک چیز ہے بہرحال بخاری شریف سے افضل نہیں۔([2])

پیارے اسلامی بھائیو! ادب انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی اور بارگاہ الٰہی  عَزَّ  َجَلَّ میں سرخروئی اور بلند مقام پر پہنچاتا ہے جبکہ بے ادب ذلیل ورسوا  ہوجاتا ہے محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان اور دیگر بزرگان دین کی یہی مدنی سوچ ہمیں شیخِ طریقت،  امیرِ اہلسنّت،  بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی حیات طیبہ میں نظر آتی ہےاس کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیے کہ ایک مرتبہ آپ  کی نظر ايک دينی کتاب پر پڑی جس پر کسی نے ”وائٹو“ (whito، لفظ مٹانے والا قلم)  رکھ ديا تھا۔آپ نے بڑھ کر وائٹو اُس کتاب پرسے ہٹا تے ہوئے اس طرح ارشادفرمايا:دينی کتاب پر کسی شے کا رکھنا اَدَب کے خلاف ہے، اس کا خيال رکھنا سعادت مندی ہے،  جو اس طرف توجہ نہیں دیتا اس کی بے احتياطياں بڑھ جاتی ہيں۔پھر فرمانے لگے: دعوتِ اسلامی کے قيام سے پہلے کی بات ہے،  کم و بيش 27سال قبل ميں ايک صاحب سے ملاقات کے لئے پہنچا،  دورانِ گفتگو انہوں نے ہاتھ ميں لی ہوئی احادیثِ مبارکہ کی مشہور کتاب ”مشکوٰۃ شریف“ کو اس طرح اُوپر سے میز پر ڈالاکہ اچھی خاصی ”دھمک “ پیدا ہوئی ۔مجھے اس بات کا اس قدر صدمہ ہوا کہ آج کافی عرصہ گزر جانے کے با وُجود بھی جب وہ واقعہ ياد آتا ہے تو اس ”دَھْمَک“ کا صدمہ مَحسوس ہوتا ہے۔ ([3])

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                        صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

وظیفہ شب وروز

حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفجرکا وقت  شروع ہونے سے پہلے ہی بىدار ہوتےاور ضرورىات سے فارغ ہو کر ذکر و مناجات میں مصروف ہو جاتے،  شاہى مسجد مىں نماز با جماعت  تکبىرِ اولىٰ کے ساتھ ادا کرتے اورصبح سے دوپہر تک پھر ظہر سے عصر تک پڑھاتےرہتے ، عصر ومغرب کے درمیان استفتاء اور خطوط کے جوابات عطا فرماتےپھر مہمانوں سےملاقات،  آنے والو ں کى پذىرائى، بعد عشاء اہم معاملات پر غور،  خدامِ دىن ،  خدامِ رضا کو دىنى مشورے،  مسجد و مدرسہ کے تعمىرى منصوبے،  ىہاں تک کہ چادرِ شب ہر کس و ناکس پر تَن جاتى،   دن بھر کے تھکے ہارےطلبہ مطالعہ کَر کَرکے  سوجاتے،  مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے کام ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتے مطالعہ کرنے بیٹھتے تو رات گئے  تک مطالعہ جاری رہتا۔ ([4])

معمولاتِ زندگی

محدثِ اعظم پاکستان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکا کھانا سادہ اور قلىل مقدار مىں ہوتا  گھر مىں جو  پکتا کھالىتے ،  کسى خاص کھانے کى فرمائش کبھى نہ کرتے البتہ سردىوں مىں شلجم اور گرمىوں مىں کدوشریف  ر غبت سے کھاتے، ڈَلیا  (چنگیری) میں جو روٹی اوپر موجود ہوتی وہی کھالیتے نیچےسے گرم روٹی نہ نکالتے،



[1]     حیات محدث اعظم، ص۱۶۱ملخصاً

[2]     حیات محدث اعظم ، ص۱۶۳ملخصاًوغیرہ

[3]     تذکرہ امیر اہلسنت، قسط ۴، ص۳۴  تا  ۳۵

[4]     حیات محدث اعظم ، ص ۱۹۷ملخصاًوغیرہ



Total Pages: 22

Go To