Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکی زندگی کا سب سے بڑا وظیفہ درس وتدریس اور مسلک حق کی ترویج واشاعت تھاآپ کا دن  قَالَ اللهُ تَعَالٰی اور قَالَ الرَّسُوۡل  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں گزرتا تورات سراپا عجز اور اظہار عبدیت میں بسر ہوتی، اس کے باوجود آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کثیر کرامات کا ظہور ہواآئیے ! حصول برکت نزول رحمت کے لئے چند کرامات  ملاحظہ کیجئے :

ٹیوب لائٹ نے اطاعت کی

شیخِ طریقت، امیرِ  اہلسنت، بانیِ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوئی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی شہرہ آفاق کتاب فیضانِ سنّت کے باب فیضان آداب طعام کے صفحہ ۴۰۱ پر فرماتے ہیں :حضرت مُحَدِّث اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان جھنگ بازار گھنٹہ گھر میں مُنعقِد ہونے والی محفلِ میلاد میں بیان فرما رہے تھے ۔ بیان کا موضوع نورانیّتِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تھا ۔ بیان جاری تھا کہ تقریباً آدھ گھنٹہ بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی توجہ دائیں طرف لگی ہوئی ایک ٹیوب لائٹ کی طرف گئی ،  یہ ٹیوب کسی فنی خرابی کی وجہ سے کبھی جلتی تھی،  کبھی بجھتی تھی ،  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے ٹیوب سے مخاطب ہو کر فرمایا: اری ٹیوب !  تو کبھی جلتی ہے ،  کبھی بجھتی ہے،  حُضُورِ اکرم،  نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نورِ مبارک سے تمام جہان روشن ہو گیا اور تو کیوں ناشکر ی بنتی ہے۔ خبردار !  خبردار ! توبُجھی تو۔۔۔۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے اس ارشاد سے نعرہ رسالت کی گونج پڑ گئی،  تمام حاضِرین نے ملا حَظہ فرمایا کہ وہ ٹیوب لائٹ اختِتامِ جلسہ تک مُتَواتَر روشن رہی۔

لنگڑے لُولوں کو بھی حصّہ ملے

مزیدآپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تحریرفرماتے ہیں :    حکیم محمد اشرف قادری چشتی انار کلی سردار آباد (فیصل آباد) لکھتے ہیں:میری شادی ہونے کے طویل عرصہ بعد تک اولاد نہ ہوئی ۔حُصُولِ اولاد کے لئے دوائیں استِعمال کیں،  دعائیں مانگیں اور وظائف پڑھے مگر گوہرِمُراد ہاتھ نہ آیا۔ بِالآخِر حضرت مُحَدِّث اعظم پاکستان حضرتِ مولیٰنا سردار احمد قُدِّسَ سِرُّہُ کی خدمتِ بابَرَکت میں محرومیِ اولاد کا تذکِرہ کر کے دُعا کا طالِب ہوا ۔ انہی دنوں میرے ہمسائے چودھری عبد الغفور نے مجھے بتایا،  تین دن سے مجھے خواب میں ایک بُزُرگ نظر آتے ہیں،  ان کے سامنے آپ کھڑے ہیں اور آپ کی گود میں چاند سا خوبصورت بیٹا ہے۔ اُن بُزُرگ نے فرمایا:حکیم صاحِب!  ایک بکرا صَدَقہ دیں جس میں سے لنگڑے لُولوں کو بھی حصّہ ملے ، چُنانچِہ میں نے حضرتِ مُحَدِّثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی جناب میں اس خواب کا ذکر کیا اور عرض کی: میراخیال ہے کہ ایک بکرا ذَبح کر کے جامِعہ رضویہ کے لنگر میں پیش کر دوں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: حکیم صاحِب !  یہاں تو اللہ تَعَالٰی کا کرم ہے ،  بکرے آتے ہی رہتے ہیں ،  بہتر یہ ہے کہ جُمُعہ کو گھر میں گوشت اور روٹیاں پکائی جائیں اور جُمُعہ کی نَماز کے بعد خَتم شریف پڑھا جائے ،  پکا ہوا گوشْتْ روٹیوں سمیت وَہیں غُرَباء میں تقسیم کیا جائے۔ تم میاں بیوی بھی کھاؤ اوراس میں سے وہاں کے لنگڑے لُولوں کو بھی حصّہ ملے۔یہ یاد رہے کہ خواب کا ذکر کرتے وَقت میں نے لنگڑے لُولوں کے مُتَعَلِّق بُزُرگ کا ارشاد قبلہ مُحَدِّث اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے عرض نہیں کیا تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے خود ہی ارشاد فرمایا اور یہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زندہ کرامت تھی کہ غیب کی بات بتا دی!  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے ارشاد کے مطابِق عمل کیا گیا ۔ اس کے بعد اللہ تَعَالٰی نے اپنے فضل و کرم اور حضرتِ مُحَدِّثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی دعاؤں کے صَدْقے بیٹا عنایت فرمایا۔ ([1])  

جنات پر رُعب ودبدبہ

حضرت محدثِ اعظم پاکستان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کا رعب و دبدبہ جنات پر بھى قائم تھا،  شرىر جنات آپ تو آپ ،  آپ سے نسبت رکھنے والى چىز وں سے بھى گھبراتے تھے،  چنانچہ مولانا ابو سعىد مفتى محمد امىن مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی بىان کرتے ہىں:لائل پورگىان ملز کے غىر آباد ہوجانے کى صورت مىں کچھ مہاجرین وہاں آباد ہوگئے،  ان میں سے ایک صاحب  سىدى محدثِ اعظم پاکستان کے مرىد تھے، ایک مرتبہ  حاضر خدمت ہو کر عرض گزار ہوئے کہ حضور!  ہمارے گھر کے صحن مىں پتھر اور اىنٹىں آکر گرتی  ہىں، ہم بڑے خوف زدہ ہىں ہمارا کچھ کىجئے،  سىدى محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نےمجھے  اور



[1]     فیضان سنت، باب آداب طعام ، ۱ / ۳۹۹



Total Pages: 22

Go To