Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

تلامذہ اور خلفاء

ایک معمار کى اصل صلاحىت اس کى عمارت سے اور فنکار کى عظمت اس کے فن سے ظاہر ہوتى ہے اسى طرح مدرس کى کامىابى اس کے تلامذہ کى استعداد اور تعداد سے پہچانى جاتى ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے تلامذہ اور خلفاء کى فہرست طوىل ہے جن مىں چند اىک کے نام ىہ ہىں۔ فقیہ اعظم ہند، شارح بخاری حضرت مفتی محمدشریف  الحق امجدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   (الجامعۃ الاشرفیہ  مبارک پور یوپی ، ہند ) ، مفسرِ اعظم حضرت مولانا ابراہیم رضا خان  (شیخ الحدیث جامعہ رضویہ منظرالاسلام بریلی شریف ) ، مفتی اعظم پاکستان مفتی  وقار الدینرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (دارالعلوم امجدیہ باب المدینہ کراچی ) ، شیخ الحدیث،  شارح بخاری حضرت علامہ غلام رسول رضوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (شیخ الحدیث دارالعلوم سراجیہ رسولیہ رضویہ،  سردار آباد) آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو حضرت محدث اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے خلافت کا شرف بھی حاصل ہے۔مفسرِ قرآن حضرت مولانا جلال الدین قادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ، حافظ الحدیث،  اُستاذالعلماءحضرت مولاناسیّد محمد جلال الدین شاہ  (شیخ الحدیث دارالعلوم محمدیہ نوریہ رضویہ، بھکھی شریف) آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو حضرت محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے خلافت سے بھی نوازا تھا۔شیخ الحدیث حضرت  علامہ عبد المصطفٰے اعظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ، مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی عبد القیوم ہزاروی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   (ناظم اعلی جامعہ رضویہ مرکز الاولیاء لاہور ) ،  استاذالعلماء حضرت علامہ تحسین رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   (شیخ الحدیث جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف) ، فیض ملت حضرت مولانافیض احمد اویسیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (شیخ الحدیث جامعہ اویسیہ بہاول پور ) ،  حضرت مولانا عبدالرشىدرضویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   (شیخ الحدیث غوثیہ رضویہ سمندری سردارآباد ) ، شہزادۂ محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا قاضى محمد فضل رسول حىدر رضوى مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی  ( خلف اکبر) ،  فقیہ عصرحضرت مولانا الحاج مفتى ابوسعید محمد امىن مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی  (مہتمم جامعہ امىنىہ رضوىہ سردارآباد) ،   نائب محدثِ اعظم پاکستان نباض قوم حضرت مولانا ابوداؤد محمد صادق قادری رضوی مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی  (مہتمم  دارالعلوم سراج العلوم گوجرنوالہ ) ، عالمی مبلغِ اسلام حضرت مولانا محمد ابراہیم خوشتر صدیقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ، حضرت علامہ ابوالشاہ عبدالقادر احمد آبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (بانی دارالعلوم جامعہ قادریہ سردارآباد)  آخرالذکر پانچوں ہستیوں کو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے شرفِ تلمذ کے ساتھ ساتھ خلافت کا شرف بھی حاصل ہے۔  ([1])

جانشینِ محدثِ اعظم پاکستان

محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکےخلیفہ و جانشین آپ کے بڑے صاحبزادے قاضى محمد فضل رسول حىدر رضوى مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی ہیں جنہیں حضور محدثِ اعظم پاکستان  نےوصال سے ایک سال قبل ۱۳۸۱ھ میں عرسِ قادری رضوی کے موقع پرعلما ومشائخ کی موجودگی میں جمیع سلاسل کی خلافت عطا فرماکر اپنا جانشین مقرر کیا ۔نیز دستارِفضیلت سے مشرف  فرماتے ہوئے جملہ علوم وفنون کی روایات کی سند بھی عطا فرمائی ۔ ([2])  

اولاد مجاز

محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے چار صاحب زادے اور چھ صاحب زادیاں عطا فرمائی تھیں صاحبزادگان کے نام یہ ہیں ۔مولانا محمد فضل رسول حیدررضویمَدَّظِلُّہُ الْعَالِی، مولانا فضل احمد رضارضوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ،  مولانا محمد فضل کریم رضوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ،  چوتھے صاحب زادے مولانا محمد فضل رحیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال بچپن میں ہوگیا تھا ۔ ([3])  

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اِن سب پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔

اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



[1]     تذکرہ جمیل حجۃ الاسلام شاہ حامد رضا ، ص۲۵۴ تا ۲۵۵ملتقطاًوغیرہ

[2]     حیات محدث اعظم، ص ۳۷۹ملخصاً

[3]     حیات محدث اعظم ، ص ۳۷۸



Total Pages: 22

Go To