Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

کام کرنے ہیں ان میں سے ایک مدنی کام بعد نماز فجر ”مدنی حلقہ“ میں شرکت  کرنا ہےیعنی نگرانِ ذیلی مشاورت /ذیلی ذمہ دار مدنی انعامات  روزانہ بعد نماز فجر تا اشراق و چاشت  ”کنز الایمان شریف“ سے تین آیات کا ترجمہ و تفسیر ”خزائن العرفان “، ”نور العرفان“ یا” صراط الجنان “سے سنائیں،  مسجد درس،  منظوم ”شجرہ شریف “، اورادوظائف کی ترکیب اور فکر مدینہ کا اجتماعی حلقہ لگائیں نیز ذیلی مشاورت آج کے مدنی کاموں کے لئے مشورہ کرے۔

عاجزی ہو تو ایسی !

محدثِ اعظم پاکستانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکے وجودِ مسعود میں عاجزی و انکساری کوٹ کر بھری ہوئی تھی یہاں تک کہ  فارسی کی ابتدائی کتب پڑھنے والےطالب علم کو بھى” مولانا“ کہہ کرمخاطب فرماتے ۔ ([1])

طلبہ کی تربیت کا خصوصی اہتمام

حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانتعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تربیت بھی فرماتے جب صداقت و امانت ، تقوی و طہارت،  جہاد و شجاعت ، صبر و قناعت،  تبلیغ و توکل اوراخلاق وغیرہ کا بیان ہوتا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان کی خوب وضاحت فرماتے، طلبہ کی تربیت کرتے ہوئے ان اخلاق سے مُتَّصِف ہونے کی ہدایت فرماتےاور انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے نیز آج کل بعض کاروباری اور پیشہ وردینداروں میں جو تکلفات اور نزاکتیں پائی جاتی ہے اس کا خوب رَد فرماتے اور طلبہ کو ایسی باتوں سے بچنے اور توکل و خلوص کے ساتھ شیر بن کر پرخلوص اور بےلوث  ہوکر خدمت دین اور اتباعِ شریعت و سنت کی تلقین فرماتے ۔ ([2])

سزا سے گریز

حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان طلبہ کونہ تو  جسمانی سزا  دیتے اور نہ ہی جھڑکتے چنانچہ حضرت علامہ مولاناابو داؤد محمد صادق مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی  فرماتے ہیں :

آپ کو کبھی کسی طالب علم کو جھڑکتے ، گالی دیتے اورمارتے نہ دیکھا گیا اس کے برعکس زبانی تنبیہ کا ایسا انداز اختیار فرماتے جس سے طالب علم خود بخود اصلاح کی جانب مائل ہوجاتا۔ اس خوبصورت اندازِاصلاح کو بیان کرتے ہوئے حضرت علامہ مفتی عبد القیوم ہزاروی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: دورِ طالب علمی کے ایک ساتھی کو اسباق سے فارغ  ہوکر بازار میں گھومنے پھرنے کی عادت تھی ایک دن عصر کے بعدسیر سپاٹاکرکے لوٹے تو حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے انہیں اپنے  قریب بلوایا اور فرمایا: بتائیے !  فلاں بازار کی کتنی گلیاں ہیں یا فلاں گلی میں کل کتنی اینٹیں ہیں؟ بس آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے اس اشارے پر ہمارے اس ساتھی نے اپنی عادت ترک کردی ۔ ([3])

سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  !  کتنا پیارا اور سادہ انداز  ہے کہ سزا دینے کی ضرورت پڑی نہ سخت جملے کہنے پڑے اورطالب علم کی  اصلاح  ہوگئی۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ حضور محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا انداز شیخِ طریقت،  امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی ذات بابرکت میں نمایا ں نظر آتا ہے آپدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ طلبہ پر نہایت شفیق اورمہربان ہیں،  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی وقتاً فوقتاًجامعات و مدارس المدینہ کے اساتذہ و ناظمین کی تربیت فرماتے رہتے ہیں کہ طلبہ کو جسمانی سزا نہ دی جائے۔آپ  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  فرماتے ہیں:

٭…اساتذہ کو تاکید ہے کہ طالبِ علم کیسا ہی جُرم کرے ڈنڈی سے مارنا کُجا اس کو ہاتھ بھی نہ لگائیں۔

٭…مار دھاڑ کے علاوہ بھی ہر گز کوئی ایسی سزا مت دیجئے جو طالبِ علم کو آپ سے باغی بنادے۔
٭…باربار ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے طالبِ علم ڈھیٹ ہوجانے کے ساتھ ساتھ اپنے اُستاذ سے مُتنفر بھی ہوسکتا ہے۔

 



[1]     تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲ /  ۲۷۰ملخصاً

[2]     حیات محدث اعظم، ص۵۴ملخصاً

[3]     حیات محدث اعظم، ص۵۳ملخصاً



Total Pages: 22

Go To