Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد اِلیاس عطّارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مدنی مذاکرے کے دوران ایک سوال کے ضمن میں ارشادفرمایاکہ برسوں پہلے گوجرانوالہ (پنجاب)  کے دورے کے دوران اسلامی بھائیوں کے ہمراہ استاذالعلماء حضرت علامہ مفتی ابوسعید محمد عبد اللطیف قادری رضوی رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  (صدر مدرس دارالعلوم عطائے مصطفی جگنہ گوجرانوالہ)  سے ملاقات کے لیے آپ کے درِدولت پر حاضرہواتودورانِ گفتگوارشادفرمایا : میرے استاذ ی المکرم حضرت محدثِ اعظم  پاکستان  اپنے نعلین مبارکین بھی قبلہ رخ رکھاکرتے تھے۔

شیخِ طریقت ،  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے جنات کا بادشاہ صفحہ 23 پر فرماتے ہیں: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنا چہرہ بھی مُمکِنہ صُورت میں قِبلہ رُخ رکھنے کی عادَت بنانی چاہئے کہ اِس کی بَرَکتیں بے شُمار ہیں چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا امام بُرہانُ الدّین ابراہیم زَرنوجی  رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نقل فرماتے ہیں :دو طَلَبہ علمِ دین حاصِل کرنے کیلئے پردیس گئے،  دونوں ہم سبق رہے ، جب چند سالوں کے بعد وطن لوٹے تو ان میں ایک فَقِیہ  (یعنی زبردست عالم ومُفتی )  بن چکے تھے جبکہ دوسرا عِلم و کمال سے خالی ہی رہا تھا ۔اُس شہر کے عُلَمائے کرام  نے اِس اَمر پر خوب غَور و خَوض کیا،  دونوں کے حُصولِ علم کے طریقۂ  کار ، اندازِ تکرار اوراُٹھنے بیٹھنے کے اطوار وغیرہ کے بارے میں تحقیق کی تو ایک بات نُمایاں طور پر سامنے آئی کہ جو فَقِیہ بن کرپلٹے تھے اُن کا معمول یہ تھا کہ وہ سبق یاد کرتے وَقْت قِبلہ رُو بیٹھا کرتے تھے جبکہ دوسرا جو کہ کَورے کاکَورا پلٹا تھا وہ قبلے کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھنے کا عادی تھا ۔چُنانچِہ تمام عُلَماء و فُقَہاء  اِس بات پر مُتَّفق ہوئے کہ یہ خوش نصیب اِستِقبالِ قِبلہ (یعنی قبلے کی طرف رُخ کرنے )  کے اِہتِمام کی بَرَکت سے فَقِیہ بنے کیوں کہ بیٹھتے وقت کعبۃُ اللہ شریف کی سَمْت مُنہ رکھنا سنّت ہے۔ ([1])

مبلغ ہر جگہ مبلغ ہے

حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان سفر وحضر ہر جگہ تبلیغ و اصلاح کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ چنانچہ تانگے والوں کی عموماً عادت ہوتی ہےکہ وہ اپنے گھوڑے کو یا تو گالیاں دیتے ہیں یا پیار سے انہیں بیٹا کہتے ہیں آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  انہیں تاکید فرماتے کہ کسی جانور کو گالی دینا جائز نہیں اور کسی جانور کو بیٹا کہنا بھی جائز نہیں ۔ ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی سیرت مبارکہ سے ایک اور مدنی پھول یہ ملا کہ مبلغ ہر جگہ مبلغ ہوتا ہے گھر میں ہو یا باہر،  سفرہو یا حضر ، شادی بیاہ کی تقریبات ہو یا کسی سے ملاقات ، خلافِ شریعت کام کوئی بڑا آدمی کرے یا چھوٹا آدمی، اسے چاہیے کہ شرعی تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے احسن انداز میں اس فريضہ کو ضرور سر انجام دےاور اصلاح  کا کوئی موقع اپنے ہاتھ سے نہ جانے دے۔

مسجد صرف اللہ کے لئے ہے

ایک مرتبہحضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانحضرت داتا گنج بخش سیّدعلی ہجویری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دربار گہر بار  (مرکزالاولیاء لاہور) میں حاضرتھے اور  دعا مانگ رہے تھےکہ ایک اجنبی شخص آیا اور دربار کی طرف منہ کرکے سجدہ کیا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے دعا چھوڑکر اس کو تنبیہ فرمائی کہ سجدہ صرف اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے ہوتا ہے مخلوق میں سے کسی کو سجدہ جائز نہیں  اگر کوئی شخص مخلوق میں سے کسی کو معبود سمجھ کر سجدہ کرے تو کفر ہےاور اگر اسے معبود نہ سمجھے صرف تعظیم کے لئے سجدہ کرے پھر بھی ہماری شریعت میں حرام اور ممنوع ہے۔پھر آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نےدربار شریف کےمنتظمین سے فرمایا: اس مضمون کی ایک تختی بنواکر یہاں لگادی جائے کہ مزارات کو سجدہ جائز نہیں چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی ہدایت پر وہاں جَلی حروف میں ایک تختی آویزاں کردی گئی ۔ ([3])

مجلس مزاراتِ اولیا

 



[1]     تَعلِیمُ الْمُتعلّم ، ص١١٤

[2]     حیات محدث اعظم ، ص۸۸ملخصاً

[3]     حیات محدث اعظم ، ص۸۶ملخصاً



Total Pages: 22

Go To