Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں جماؤ  دیا اور تمہارے لیے اس میں زندگی کے اسباب بنائے بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں ٹھکانا دیا اور تمہارے لیے اس میں زندگی گزارنے کے اسباب بنائے، تم بہت ہی کم شکر اداکرتے ہو۔

{ وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ:اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں ٹھکانا دیا۔} یہاں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی عظیم نعمتوں کو یا د دلایا کہ جن کی وجہ سے نعمتیں عطا فرمانے والے کا شکر ادا کرنا لازم ہوتا ہے چنانچہ ارشاد ہوا ’’ہم نے تمہیں زمین میں ٹھکانہ دیا اور تمہارے لئے اس میں زندگی گزارنے کے اسباب بنائے اور اپنے فضل سے تمہیں راحتیں مہیا کیں ، غذا، پانی، ہوا، سورج کی روشنی سب یہاں ہی بھیجی کہ تمہیں ان کے لئے آسمان پر یا سمندر میں جانے کی حاجت نہیں۔ زمین میں رہنے کا ٹھکانہ دینا اور زندگی گزارنے کے اسباب مہیا فرمانا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے کیونکہ اس نعمت میں زندگی کی تمام تر نعمتیں آگئیں ، کھانے پینے، پہننے، رہنے وغیرہ کے لئے تمام مطلوبہ چیزیں اس میں داخل ہیں لیکن اس کے باوجود لوگوں میں ناشکری غالب ہے۔ لوگوں کی کم تعداد شکر ادا کرتی ہے اور جو شکر کرتے ہیں وہ بھی کما حقہ ادا نہیں کرتے۔

شکر کی حقیقت اور ا س کے فضائل:

             شکر کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی نعمت کواللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف منسوب کرے اور نعمت کا اظہار کرے جبکہ ناشکری یہ ہے کہ آدمی نعمت کو بھول جائے اور اسے چھپائے۔ قرآن و حدیث میں شکر کا حکم اورا س کے فضائل بکثرت بیان کئے گئے ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:

’’ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ‘‘ (بقرہ:۱۵۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور میراشکرادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔

            اور ارشاد فرماتاہے

’’ مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا ‘‘ (النساء:۱۴۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اوراگر تم شکر گزار بن جاؤاور ایمان لاؤتو اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اور اللہ قدر کرنے والا، جاننے والاہے۔

            نیز ارشاد فرمایا:

’’ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ ‘‘(ابراہیم:۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔

            حضرت صہیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’مجھے مومن کے حال پر تعجب ہوتا ہے، اس کے ہر حال میں بھلائی ہے اگر اس کو راحت پہنچے تو وہ شکر ادا کرتا ہے اور یہ اس کی کامیابی ہے اور اگر اس کو ضرر پہنچے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کی کامیابی ہے۔ (مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب المؤمن امرہ کلہ خیر، ص۱۵۹۸، الحدیث: ۶۴(۲۹۹۹))

            امام محمد بن محمدغزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’دل کا شکر یہ ہے کہ نعمت کے ساتھ خیر اور نیکی کاا رادہ کیا جائے اور زبان کا شکر یہ ہے کہ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی جائے اور باقی اعضا کا شکر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں خرچ کیا جائے اور ان نعمتوں کواللہ تعالیٰ کی معصیت میں صرف ہونے سے بچایا جائے حتّٰی کہ آنکھوں کا شکر یہ ہے کہ کسی مسلمان کا عیب دیکھے تو ا س پر پردہ ڈالے(احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، الرکن الاول فی نفس الشکر، بیان فضیلۃ الشکر، ۴ / ۱۰۳-۱۰۴)۔[1]

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ ﳓ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہارے نقشے بنائے پھر ہم نے ملائکہ سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو وہ سب سجدے میں گرے مگر ابلیس یہ سجدہ والوں میں نہ ہوا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری صورتیں بنائیں پھر ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ ہوا۔

{ وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ:اور بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا۔} یہاں سے ایک اور عظیم نعمت یاد دلائی جارہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی تمام اولاد پر فرمائی اور یہ نعمت ایسی ہے کہ صرف یہی نعمت ادائے شکر کے لازم ہونے کے لئے کافی ہے چنانچہ ارشاد ہوا کہ بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا۔ یہاں یا تو یہ مراد ہے کہ ہم نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پیدا کیا اور ان کی پشت میں ان کی اولاد کی صورت بنائی یا یہاں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کا تذکرہ ہے کہ ہم نے آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پیدا کیا، ان کی صورت بنائی اور پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ انہیں سجدہ کریں۔ بقیہ تفصیلی واقعہ آیتِ مبارکہ میں بھی موجود ہے اور تخلیقِ آدم و سجدہ ِ آدم کاواقعہ سورۂ بقرہ آیت34 میں بھی مذکور ہوچکا ہے۔ یہاں اس قصے کے بیان کا مقصد ایک مرتبہ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظیم نعمت کو یاد دلانا ہے۔ شرف ِانسانیت کو بیان کرنا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دوست اور دشمن کی روِش کو دکھانا ہے کہ دیکھو دوست بھول کر بھی خطا کرتا ہے تو کس طرح گریہ و زاری کرتا ہے اور محبوب ِ حقیقی کو منانے کی کوشش کرتا ہے اور دشمنِ خدا قصداً تکبرسے حکمِ الہٰی کی خلاف ورزی کرتا ہے اور توبہ و معافی طلب کرنے کی بجائے غرور و تکبر اور حیلہ و تاویل کی راہ اپناتا ہے اور اپنا قصور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا بلکہ الٹا تقدیر کا بہانا بنا کر خود کو قصور وار قرار دینے کی بجائے کہتا ہے کہ یا اللہ! یہ میرا نہیں بلکہ تیرا قصور ہے کیونکہ تو نے ہی مجھے گمراہ کیا ہے۔ یہ مضمون چند آیات کے بعد موجود ہے۔ گویا اِس قصے کے ذریعے فرمانبردار اور نافرمان کا راستہ بالکل واضح ہوجاتا ہے۔

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَؕ-قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُۚ-خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: فرمایا کس چیز نے تجھے روکا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا ۔

 



[1]    شکر کے مزید فضائل جاننے کے لئے کتاب’’شکر کے فضائل‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )کا مطالعہ فرمائیں۔



Total Pages: 191

Go To