Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

کیلئے نصیحت ہے، اب یہاں آج کے مومنین و مسلمین سے بھی عرض ہے کہ ذرا اپنے احوال و اعمال پر غور کریں کہ کیا یہ قرآن سے نصیحت حاصل کررہے ہیں ؟ یا انہیں قرآن کھولنے، پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق ہی نہیں ہوتی؟

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآىٕلُوْنَ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کیں تو ان پر ہمارا عذاب رات میں آیا یا جب وہ دوپہر کو سوتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا تو ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت آیا، یا (جب) وہ دوپہر کو سورہے تھے۔

{ وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا:اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کیں۔} اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیات میں اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو ڈر سنانے اور تبلیغ جاری رکھنے کا حکم فرمایا اور امت کو قرآنِ پاک کی پیروی کا حکم دیا، اب حکمِ الہٰی کی پیروی چھوڑ دینے اور اس سے اعراض کرنے کے نتائج پچھلی قوموں کے انجام کی صورت میں بتائے جا رہے ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا تو ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت آیا یاجب وہ دوپہر کو سورہے تھے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارا عذاب ایسے وقت آیا جب کہ انہیں خیال بھی نہ تھا یا تو رات کا وقت تھا اور وہ آرام کی نیند سوتے تھے یا دن میں قَیلولہ کا و قت تھا اور وہ مصروفِ راحت تھے۔ نہ عذاب کے نزول کی کوئی نشانی تھی اور نہ کوئی قرینہ کہ پہلے سے آگاہ ہوتے بلکہ اچانک آگیا اور وہ بھاگنے کی کوشش بھی نہ کرسکے۔ اس سے کفار کو مُتَنَبِّہ کیا جارہا ہے کہ وہ اسباب ِامن و راحت پر مغرور نہ ہوں عذابِ الہٰی جب آتا ہے تو دفعتہً آجاتا ہے۔

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ(۵)

ترجمۂ کنزالایمان:   تو ان کے منہ سے کچھ نہ نکلا جب ہمارا عذاب ان پر آیا مگر یہی بولے کہ ہم ظالم تھے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو جب ان پر ہمارا عذاب آیا توان کی پکار اس کے سوا اور کچھ نہ تھی کہ بیشک ہم (ہی)ظالم تھے۔

{ فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ:تو ان کے منہ سے کچھ نہ نکلا۔} یعنی بستی والوں پر جب اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک آیا تو اس وقت ان کی پکار اس کے سوا اور کچھ نہ تھی کہ بیشک ہم ہی ظالم تھے اور وہ لوگ اپنے اوپر آنے والے عذاب کو دور نہ کر سکے، خلاصہ یہ ہے کہ عذاب آنے پر اُنہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا لیکن اس وقت اعتراف بھی فائدہ نہیں دیتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عذاب دیکھ کر توبہ کرنا یا ایمان لانا قبول نہیں ہوتا۔ ایمانِ یا س قبول نہیں۔

فَلَنَسْــٴَـلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْــٴَـلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ(۶)

ترجمۂ کنزالایمان:تو بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے ان سے جن کے پاس رسول گئے اور بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے رسولوں سے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو بیشک ہم ضرور ان لوگوں سے سوال کریں گے جن کی طرف (رسول) بھیجے گئے اور بیشک ہم ضرور رسولوں سے سوال کریں گے۔

{ فَلَنَسْــٴَـلَنَّ:تو بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے۔} یعنی ان امتوں سے پوچھا جائے گا جن کی طرف رسول بھیجے گئے کہ تمہیں تمہارے رسولوں نے تبلیغ کی یا نہیں اور تم نے رسولوں کی د عوت کا کیا جواب دیا اور ان کے حکم کی کیا تعمیل کی۔ اور رسولوں سے دریافت کیاجائے گا کہ  کیاآپ نے اپنی اُمتوں کو ہمارے پیغام پہنچائے  اور تمہاری قوم نے تمہیں کیا جواب دیاتھا۔ یہاں علماء نے فرمایا ہے کہ یہ سوال و جواب ہمارے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے متعلق نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ وَ لَا تُسْــٴَـلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ ‘‘ (البقرہ:۱۱۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورآپ سے جہنمیوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔

            اور نہ کوئی بد باطن کافر یہ کہہ سکے گا کہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے تبلیغ نہیں فرمائی۔

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآىٕبِیْنَ(۷)

ترجمۂ کنزالایمان:     تو ضرور ہم ان کو بتادیں گے اپنے علم سے اور ہم کچھ غائب نہ تھے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:      تو ضرور ہم ان کو اپنے علم سے بتادیں گے اور ہم غائب نہ تھے۔

{ فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ:تو ضرور ہم ان کو بتادیں گے۔} یعنی قیامت میں ہمارا کفار سے اور ان کے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پوچھ گچھ فرمانا قانونی کارروائی کیلئے ہوگا نہ کہ اس لئے کہ ہمیں اصل واقعہ کی خبر نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا کے واقعۂ تہمت میں لوگوں سے دریافت فرمانا امت کی تعلیم کے لئے قانونی کاروائی تھی۔

وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّۚ- فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس دن تول ضرور ہونی ہے تو جن کے پلے بھاری ہوئے وہی مراد کو پہنچے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس دن وزن کرنا ضرور برحق ہے تو جن کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے۔

{ وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّ:اور اس دن وزن کرنا ضرور برحق ہے۔} اس سے پہلی آیت میں قیامت کے دن کا ایک حال بیان ہوا کہ اس دن انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی امتوں سے سوال کیا جائے گا، اور اس آیت میں قیامت کے دن کا دوسرا حال یعنی میزان پر اقوال اور اعمال کا وزن ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔

وزن اور میزان کا معنی:

            وزن کا معنی ہے کسی چیز کی مقدار کی معرفت حاصل کرنا اور عرفِ عام میں ترازو سے کسی چیز کے تولنے کو وزن کرنا کہتے ہیں۔(مفردات امام راغب، کتاب الواو، ص۸۶۸) اور جس آلے کے ساتھ



Total Pages: 191

Go To