Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

(2)… جوئے بازی کی وجہ سے مالدار انسان لمحوں میں غربت و افلاس کا شکار ہو جاتا ہے، خوشحال گھر بدحالی کا نظار ہ پیش کر نے لگتے ہیں ، اچھا خاصا آدمی کھانے پینے تک کا محتاج ہو کر رہ جاتا ہے ، معاشرے میں اس کا بنا ہو اوقار ختم ہو جاتا ہے اور سماج میں اس کی کوئی قدرو قیمت اور عزت باقی نہیں رہتی۔

(3)… جوئے باز نفع کے لالچ میں بکثرت قرض لینے اور کبھی کبھی سودی قرض لینے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے اور جب وہ قرض ادا نہیں کر پاتا یا اسے قرض نہیں ملتا تو وہ ڈاکہ زنی اور چوری وغیرہ میں مبتلا ہو جاتا ہے حتّٰی کہ جوئے باز چاروں جانب سے مصیبتوں میں ایسا گھر جاتا ہے کہ بالآخر وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے اور انہیں اس شیطانی عمل سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

(3)…انصاب۔ حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ پتھر ہیں جن کے پاس کفار اپنے جانور ذبح کرتے تھے ۔ (ابن کثیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۰، ۳ / ۱۶۱)

                امام عبداللہ بن احمد نسفیرَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اس سے مراد بت ہیں کیونکہ انہیں نصب کر کے ان کی پوجا کی جاتی ہے۔ (مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۰، ص۳۰۲)

            علامہ ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ اگر انصاب سے مراد وہ پتھر ہوں جن کےپاس کفار اپنے جانور ذبح یا نَحر کرتے تھے تو ان پتھروں کوناپاک ا س لئے کہا گیا تاکہ کمزور ایمان والے مسلمانوں کے دلوں میں اگر ان کی کوئی عظمت باقی ہے تو وہ بھی نکل جائے، اور اگر انصاب سے مراد وہ بت ہوں جن کی اللہ تعالیٰ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے(ان کے پاس جانور ذبح کئے جاتے ہوں یا نہیں ) تو انہیں ناپاک ا س لئے کہا گیا تاکہ سب پر اچھی طرح واضح ہو جائے کہ جس طرح اصنام سے بچنا واجب ہے اسی طرح انصاب سے بچنا بھی واجب ہے۔ (البحر المحیط، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۰، ۴ / ۱۶)

(4)… ازلام۔ زمانۂ جاہلیت میں کفار نے تین تیر بنائے ہوئے تھے، ان میں سے ایک پر لکھا تھا ’’ہاں ‘‘ دوسرے پر لکھا تھا ’’نہیں ‘‘ اور تیسرا خالی تھا ۔ وہ لوگ ان تیروں کی بہت تعظیم کرتے تھے اور یہ تیر کاہنوں کے پاس ہوتے اور کعبہ معظمہ میں کفارِ قریش کے پاس ہوتے تھے(جب انہیں کوئی سفر یا اہم کام درپیش ہوتا تو وہ ان تیروں سے پانسے ڈالتے اور جو ان پر لکھا ہوتا اس کے مطابق عمل کرتے تھے) ۔پرندوں سے اور وحشی جانوروں سے برا شگون لینا اور کتابوں سے فال نکالنا وغیرہ بھی اسی میں داخل ہے۔(البحر المحیط، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۹۰، ۴ / ۱۶)

کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جانے کی مذمت:

احادیث میں کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جانے کی شدید مذمت کی گئی ہے،ان میں سے 3احادیث درج ذیل ہیں :

(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو کسی نجومی یا کاہن کے پاس گیا اور اس کے قول کی تصدیق کی تو گویااِس نے اُس کا انکار کردیا جو (حضرت) محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر نازل کیا گیا۔ (مستدرک، کتاب الایمان، التشدید فی اتیان الکاہن وتصدیقہ، ۱ / ۱۵۳، الحدیث: ۱۵)

(2)…حضرت واثلہ بن اسقع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ، سرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو کاہن کے پاس آیا اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو چالیس (40) راتوں تک اس کی توبہ روک دی جاتی ہے اور اگر اُس نے اِس کی تصدیق کی تو کفر کیا۔( معجم ا لکبیر ، ابوبکر بن بشیر عن واثلۃ، ۲۲ / ۶۹، الحدیث: ۱۶۹)

(3)…حضرت قبیصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’خط کھینچنا، فال نکالنا اور پرندے اُڑا کر شگون لینا جِبْت (یعنی شیطانی کاموں )  میں سے ہے۔ (ابوداؤد، کتاب الطب، باب فی الخط وزجر الطیر، ۴ / ۲۲، الحدیث: ۳۹۰۷)

آیت’’ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

             اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے :

(1)… صرف نیک اعمال کرنے سے کامیابی حاصل نہیں ہوتی بلکہ برے اعمال سے بچنا بھی ضروری ہے۔ یہ دونوں تقویٰ کے دو پر ہیں ، پرندہ ایک پر سے نہیں اڑتا۔

(2)… نیکیاں کرنا اور برائیوں سے بچنا دنیا اور دکھلاوے کے لئے نہ ہونا چاہئے بلکہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہونا چاہئے۔

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)

ترجمۂ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا وے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: شیطان تویہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض وکینہ ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم باز آتے ہو؟

{ اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ:بیشک شیطان تو چاہتا ہے ۔} اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خوری اور جوئے بازی کا ظاہری دنیوی وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں جبکہ ظاہری دینی وبال یہ ہے کہ جوشخص اِن برائیوں میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الہٰی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر اور نماز سے روکے ، وہ بری ہے اور چھوڑنے کے قابل ہے، اسی لئے جمعہ کی اذان کے بعد تجارت حرام ہے۔[1]

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْاۚ-فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(۹۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ہوشیار رہو پھر اگر تم پھر جاؤ تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف واضح طور پر حکم پہنچا دینا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانواور ہوشیار رہوپھر اگر تم پھر جاؤ تو جان لو کہ ہمارے رسول پر تو صرف واضح طور پرتبلیغ فرمادینا لازم ہے۔

{ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ:اوراللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو۔} یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے جس کام کا تمہیں حکم دیا اور جس کام سے منع کیا اس میں ان کا حکم مانو اور احکامات اور ممنوعات میں اللہتعالیٰ اور ا س کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی مخالفت کرنے سے ڈرو،پھر اگر تم اُس سے منہ موڑ لو جس کا تمہیں حکم دیا گیا اور جس سے



[1]     بغض کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’بغض و کینہ‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔



Total Pages: 191

Go To