Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ یہ گواہی اس لئے طلب کی گئی کہ ظاہر ہوجائے کہ کفار کے پاس کوئی شاہد نہیں ہے اور جو وہ کہتے ہیں وہ ان کی اپنی تَراشیدہ باتیں ہیں۔

{ فَاِنْ شَهِدُوْا:پھر اگر وہ گواہی دے بیٹھیں۔} یعنی مشرکین اگر اپنی جھوٹی بات پر کوئی گواہ لے ہی آئیں تو اے سننے والے! توان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور وہ بتوں کواپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے برابر ٹھہراتے ہیں یعنی بتوں کو معبود مانتے ہیں اور شرک میں گرفتار ہیں۔ اس میں تنبیہ ہے کہ اگر کوئی ایسی شہادت دے بھی دے تو وہ محض خواہش کی اتباع اور کذب و باطل ہوگی۔

جھوٹی گواہی اور ا س کی تصدیق حرام ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹی گواہی بھی حرام ہے اور اس کی تصدیق و تائید بھی اور جھوٹے آدمی کی وکالت بھی کیونکہ گناہ کے کام میں مدد کرنا بھی گنا ہ ہے اور احادیث میں اس کی سخت وعیدیں بھی بیان ہوئی ہیں ، چنانچہ

            حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس نے کسی ظالم کے باطل کام پر اس کی مدد کی تاکہ وہ اس کے باطل کام کے اِرتِکاب کی وجہ سے حق کو باطل کر دے تو وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ذمہ سے بری ہے۔ (معجم الاوسط، من اسمہ ابراہیم، ۲ / ۱۸۰، الحدیث: ۲۹۴۴)

            حضرت عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جس نے کسی جھگڑے پر ناحق مدد کی تو وہ تب تک اللہ تعالیٰ کے شدید غضب میں رہے گا جب تک (اس مدد کو) چھوڑ نہیں دیتا۔(مستدرک، کتاب الاحکام، لا تجوز شہادۃ بدوی علی صاحب قریۃ، ۵ / ۱۳۵، الحدیث: ۷۱۳۳)

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاۚ-وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْۚ-وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَۚ-وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ(۱۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ آؤ میں تمہیں پڑھ سناؤں جو تم پر تمہارے رب نے حرام کیا یہ کہ اس کا کوئی شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی اور اپنی اولاد قتل نہ کرو مفلسی کے باعث ہم تمہیں اور انہیں سب کو رزق دیں گے اور بے حیائیوں کے پاس نہ جاؤ جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور جس جان کی اللہ نے حرمت رکھی اسے ناحق نہ مارو یہ تمہیں حکم فرمایا ہے کہ تمہیں عقل ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ، آؤ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں جو تم پر تمہارے رب نے حرام کیا وہ یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور مفلسی کے باعث اپنی اولاد قتل نہ کرو، ہم تمہیں اور انہیں سب کو رزق دیں گے اور ظاہری و باطنی بے حیائیوں کے پاس نہ جاؤ اور جس جان (کے قتل) کو اللہ نے حرام کیا ہے اسے ناحق نہ مارو۔ تمہیں یہ حکم فرمایا ہے تاکہ تم سمجھ جاؤ۔

{ قُلْ تَعَالَوْا:تم فرماؤ آؤ۔} یہاں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وہ حقیقی حلت و حرمت کے متعدد احکام بیان فرمائے ہیں جو خود اُس خالقِ کائنات نے عطا فرمائے ہیں۔ اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے 9چیزوں کی حرمت بیان فرمائی ہے (1) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔ (2) ماں باپ کے ساتھ بھلائی نہ کرنا۔ (3) مفلسی کے باعث اپنی اولاد قتل کرنا۔ (4) بے حیائی کے کام کرنا چاہے ظاہری ہوں یا باطنی۔ (5) ناحق قتل کرنا۔ (6) یتیم کے مال میں بے جا تَصَرُّف کرنا۔ (7) ناپ تول میں کمی کرنا۔ (8) ناحق بات کہنا۔ (9)اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کئے ہوئے عہد کو پورا نہ کرنا۔ اس کا بیان یہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ کیونکہ یہ کائنات کا بدترین جھوٹ اور صریح ناشکری و احسان فراموشی ہے۔ ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو کیونکہ تم پر ان کے بہت سے حقوق ہیں ، اُنہوں نے تمہاری پرورش کی، تمہارے ساتھ شفقت اور مہربانی کا سلوک کیا، تمہاری ہر خطرے سے نگہبانی کی، اُن کے حقوق کا لحاظ نہ کرنا اور اُن کے ساتھ حسنِ سلوک کا ترک کرنا حرام ہے۔ معلوم ہوا کہ ماں باپ اگرچہ کافر ہوں ان کے ماں باپ ہونے کی حیثیت سے جو حقوق ہیں انہیں ادا کرنا ضروری ہے۔ اس احسان میں والدین کے ساتھ تمام قسم کے اچھے سلوک داخل ہیں۔ ان کا ادب، لحاظ، ان پر ضرورت کے وقت مال خرچ کرنا،مسلمان ہونے کی صورت میں بعد ِ وفات ان کیلئے ایصالِ ثواب سب داخل ہیں۔

{ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ:اپنی اولاد قتل نہ کرو۔} اس میں اولاد کو زندہ درگور کرنے اور مار ڈالنے کی حرمت بیان فرمائی گئی جس کا اہلِ جاہلیت میں دستور تھا کہ وہ بارہا فقر و تنگدستی کے اندیشے سے اولاد کومار ڈالتے تھے، انہیں بتایا گیا کہ روزی دینے والا تواللہ عَزَّوَجَلَّ ہے جو تمہیں اور انہیں سب کو روزی دے گا تو پھر تم کیوں قتل جیسے شدید جُرم کا ارتکاب کرتے ہو۔

عورتوں کے حقوق سے متعلق اسلام کی حسین تعلیمات:

            اس آیت میں ان لوگوں سے خطاب ہے جو غریبی کی وجہ سے لڑکے لڑکیوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور جو مالدار شرم و عار کی وجہ سے اپنی لڑکیوں کو قتل کرتے تھے ان کا ذکر دوسری آیات میں ہے۔ ان کے مقابلے میں اسلام کی تعلیمات کس قدر حسین ہیں اور اسلام نے بچیوں اور عورتوں کوکیسے حقوق عطا فرمائے اس کیلئے صرف درج ذیل 3 حدیثوں کا مطالعہ فرمالیں۔

(1)…حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے  ارشاد فرمایا: ’’ جس شخص کی بیٹی ہو تو وہ اسے زندہ درگور نہ کرے، اُسے ذلیل نہ سمجھے اور اپنے بیٹے کو اس پر ترجیح نہ دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ (ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی فضل من عال یتیماً، ۴ / ۴۳۵، الحدیث: ۵۱۴۶)

(2)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’جس کی تین بیٹیا ں یا تین بہنیں ہوں ، یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے معاملے میں اللہ تعالیٰسے ڈرے تو اس کے لئے جنت ہے۔ (ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی النفقۃ علی البنات والاخوات، ۳ / ۳۶۷، الحدیث: ۱۹۲۳)

(3)… حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص تین بیٹیوں یا بہنوں کی اس طرح پرورش کرے کہ ان کو ادب سکھائے اور ان سے مہربانی کا برتاؤ کرے یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں بے نیاز کردے (مثلاً ان کا نکاح ہو جائے ) تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت واجب فرما دیتا ہے۔ یہ ارشادِ نبوی سن کر ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: ’’اگر کوئی شخص دو لڑکیوں کی پرورش کرے ؟ تو ارشاد فرمایا: اس کے لئے بھی یہی اجر و ثواب ہے۔ ‘‘(راوی فرماتے ہیں ) یہاں تک کہ اگر لوگ ایک کا ذکر کرتے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاس کے بارے میں بھی یہی فرماتے۔( شرح السنہ، کتاب البر والصلۃ، باب ثواب کافل الیتیم، ۶ / ۴۵۲، الحدیث: ۳۳۵۱)

 



Total Pages: 191

Go To