Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

اولاد سے پیدا کیا۔

{ وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ:اور اے حبیب! تمہارا رب بے پروا ہے، رحمت والا ہے۔} اس آیت سے یہ درس بھی ہوسکتا ہے کہ اے لوگو! اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں جو ایمان اور اعمالِ صالحہ کی دعوت دیتا ہے اور کفر و شرک اور بد اعمالیوں سے منع فرماتا ہے تو یہ نہ سمجھو کہ اِس میں اُس کا کوئی فائدہ ہے بلکہ وہ تو غنی ہے، اسے کسی کی کوئی حاجت نہیں البتہ چونکہ وہ رحمت والا ہے اس لئے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے اور تمہیں تمہارے بھلے کی باتیں بتاتا ہے ورنہ اگروہ چاہے تو تم سب کو فنا کردے اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے جیسے بہت سی قوموں کو اس نے فنا کردیا یا جیسے تم دوسروں کے بعد اس دنیا میں آئے اسی طرح تمہارے بعد دوسرے آجائیں گے تو اس دنیوی زندگی اور مال و متاع پر غرور نہ کرو۔

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍۙ-وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ(۱۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے ضرور آنے والی ہے اور تم تھکا نہیں سکتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور آنے والی ہے اور تم (اللہ کو)عاجز نہیں کرسکتے۔

{ اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ:بیشک جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے چاہے وہ قیامت ہو یا مرنے کے بعد اُٹھنا یا حساب یا ثواب و عذاب۔ یہ سب چیزیں ضرور آئیں گی مگر اپنے وقت پر، تم دیر سے دھوکہ مت کھاؤ بلکہ اس سے بچنے کے اسباب جمع کرو کیونکہ نہ ہم مجبور ہیں نہ جھوٹی خبر دینے والے اور نہ تم طاقت ور کہ ہم سے مقابلہ کر کے بچ سکو لہٰذا مقابلہ نہ کرو بلکہ خوف کرو۔

موت سے غافل رہنے والوں کو نصیحت:

            اس آیتِ کریمہ میں موت سے غافل رہنے والوں کے لئے بھی بہت عبرت ہے کیونکہ ہر انسان سے موت کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور یہ بہر صورت آکر ہی رہے گی۔ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور دیگر بزرگانِ دین رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم موت کو بکثرت یاد کیا کرتے اور لوگوں کو اس کی یاد دلایا کرتے تھے ، چنانچہ

            حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: جب میں اپنی آنکھیں جھپکتا ہوں تو مجھے یہ گمان ہوتا ہے کہ میری پلکیں ملنے سے پہلے میری روح قبض کر لی جائے گی۔ میں جب نظر اٹھاتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ نظر نیچی کرنے سے پہلے میرا وصال ہو جائے گا،میں جب کوئی لقمہ منہ میں ڈالتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ لقمہ گلے سے اترتے وقت میرے لئے موت کا سبب بن جائے گا۔اے آدم کی اولاد! اگر تم عقل رکھتے ہو تو اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کرو۔ اس ذات کی قسم !جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ’’ اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍۙ-وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ‘‘بیشک جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور آنے والی ہے اور تم (اللہ عَزَّوَجَلَّ) کو عاجز نہیں کرسکتے۔(در منثور، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۳۴،۳ / ۳۶۱-۳۶۲، شعب الایمان، الحادی والسبعون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۷ / ۳۵۵، الحدیث: ۱۰۵۶۴)

            حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے خطبہ میں ارشاد فرماتے تھے ’’ کہاں گئے وہ لوگ جن کے چہرے خوبصورت تھے اور چمکتے تھے اور وہ اپنی جوانیوں پر فخر کرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ بادشاہ جنہوں نے شہر تعمیر کئے اور ان کے گرد دیواریں بنا کر ان کو محفوظ کیا؟ کہاں ہیں وہ جو لڑائی کے میدان میں غالب آتے تھے؟ زمانے نے انہیں کمزور اور ذلیل کردیا اور وہ قبروں کی تاریکیوں میں چلے گئے، جلدی جلدی کرو اور نجات تلاش کرو ،نجات تلاش کرو۔(احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثانی فی طول الامل وفضیلۃ قصر الامل۔۔۔ الخ، ۵ / ۲۰۱)

            حضرت سمیط رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ اے اپنی طویل صحت پر دھوکے میں مبتلا شخص! کیا تونے کسی کو بیماری کے بغیر مرتے ہوئے نہیں دیکھا؟ اے وہ شخص! جو طویل مہلت کی وجہ سے دھوکے میں ہے! کیا تو نے کسی کو سامان کے بغیر گرفتار نہیں دیکھا؟ اگر تو اپنی عمر کی طوالت کے بارے میں سوچے تو سابقہ لذتیں بھول جائے، تم لوگ صحت کے دھوکے میں ہو یا عافیت کے دھوکے میں ، زیادہ دن گزارنے پر اکڑتے ہو یا موت سے بے خوف ہو یا موت کے فرشتے پر تمہیں جرأت ہے، بے شک جب موت کا فرشتہ آئے گا تو تمہاری مالی ثَروت اور تمہاری جماعت تمہیں نہیں بچاسکے گی، کیا تم نہیں جانتے کہ موت کی گھڑی سختیوں اور ندامت کی گھڑی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو موت کے بعد کے لیے عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو موت کے آنے سے پہلے اپنے نفس کو ترس کی نگاہ سے دیکھے۔(احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثانی فی طول الامل وفضیلۃ قصر الامل۔۔۔ الخ، ۵ / ۱۹۹)

            اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ اپنی موت کو یاد رکھے اور موت کے بعد کے لئے تیاری کرتا رہے۔ اٰمین[1]

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌۚ-فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ-مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اے میری قوم تم اپنی جگہ پر کام کیے جاؤ میں اپنا کام کرتا ہوں تو اب جاننا چاہتے ہو کس کا رہتا ہے آخرت کا گھر بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ، اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کرتے رہو، میں اپنا کام کرتا ہوں تو عنقریب تم جان لو گے کہ آخرت کے گھر کا (اچھا) انجام کس کے لئے ہے؟ بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔

{ اِعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ:تم اپنی جگہ پر عمل کرتے رہو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ کفارِ مکہ سے فرما دیں کہ تم اپنی مرضی سے وہی اعمال کرتے رہو جو کر رہے ہو اور اپنے کفر و سرکشی پر قائم رہو جبکہ میں تمہاری طرف سے پہنچنے والی اذیتوں پر صبر کر کے، اسلام پر قائم رہ کر اور نیک اعمال پر ہمیشگی اختیار کر کے اپنا کام کرتا ہوں تو عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ آخرت کے گھر کا اچھا انجام کس کے لئے ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر و شرک کرنے والے فلاح نہیں پاتے۔ (روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۳۵، ۳ / ۱۰۸)

            یاد رہے کہ اس آیت میں جو فرمایا گیا کہ ’’تم اپنی جگہ پر عمل کرتے رہو‘‘ اس میں کفر یا گناہ کی اجازت نہیں بلکہ اظہارِ غضب کے لئے ا س طرح فرمایا گیا، جیسے ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

 



[1]     اپنے دل میں موت کی یاد مضبوط کرنے کے لئے کتاب’’موت کا تصور‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ کرنا فائدہ مند ہے۔



Total Pages: 191

Go To