Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

لیتے کس گنتی شمار میں ہیں ! یہ کتاب والے دل میں خوب جانتے ہیں کہ قرآن حق ہے (مگر) تَعَصُّب کی پٹی (ان کی) آنکھوں پر بندھی ہے کہ ہٹ دھرمی سے مکرے جاتے ہیں تو تجھے کیوں شک پیدا ہو کہ اُن کی سننا چاہے، تیرے رب کا کلام صدق وعدل میں بھرپور ہے کل تک جو اُس پر تجھے کامل یقین تھا آج کیا اُس میں فرق آیا کہ اُس پر اعتراض سننا چاہتا ہے کیا خدا کی باتیں کوئی بدل سکتا ہے، یہ نہ سمجھنا کہ میرا کوئی مقال (یعنی قول)، کوئی خیال خدا سے چھپ رہے گا، وہ سنتا جانتا ہے، دیکھ اگر تونے اُن کی سنی تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں گے، (اے نادان!تو) کیا یہ خیال کرتا ہے کہ ان (گمراہ لوگوں ) کا علم دیکھوں (کہ) کہاں تک ہے، یہ کیا کہتے ہیں ارے اُن کے پاس علم کہاں وہ تو اپنے اوہام کے پیچھے لگے ہوئے اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں جن کا تھل نہ بیڑا ،جب اللہ واحد قہار کی گواہی ہے کہ اُن کے پاس نری مہمل اٹکلوں کے سوا کچھ نہیں تو اُن کو سننے کے کیا معنی؟ سننے سے پہلے وہی کہہ دے جو تیرے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تعلیم فرمایا کہ ’’شیطان تو جھوٹا ہے‘‘ اور اس گھمنڈ میں نہ رہنا کہ مجھ کو کیا گمراہ کریں گے میں تو راہ پر ہوں تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اُس کی راہ سے بہکے گا اور کون راہ پر ہے، (اگر) تُو پورا راہ پرہوتا ہے تو بے راہوں کی سننے ہی کیوں جاتا حالانکہ تیرا رب فرما چکا ’’چھوڑ دے اُنہیں اور اُن کے بہتانوں کو۔ تیرے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ فرما چکے ’’اُن سے دُور رہو اور ان کو اپنے سے دور کرو کہیں وہ تم کو بہکانہ دیں کہیں وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں۔(مسلم، باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء۔۔۔ الخ، ص۹، الحدیث: ۷(۷))

            بھائیو! ایک سہل بات ہے اس پر غور فرمالو۔ تم اپنے ربعَزَّوَجَلَّ، اپنے قرآن اور اپنے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَپر سچا ایمان رکھتے ہو یا مَعَاذَاللہ اس میں کچھ شک ہے! اور جسے شک ہوا سے اسلام سے کیا علاقہ(یعنی تعلق) وہ ناحق اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر مسلمانوں کو کیوں بدنام کرے اور اگر سچا ایمان ہے تو اب یہ فرمائیے کہ ان کے لکچروں نداؤں میں آپ کے ربعَزَّوَجَلَّ، قرآن، نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاور ایمان کی تعریف ہوگی یا مذمت۔ ظاہر ہے کہ دوسری ہی صورت ہوگی اور اسی لئے تم کو بلاتے ہیں کہ تمہارے منہ پر تمہارے خدا، نبی، قرآن اور دین کی توہین وتکذیب کریں۔اب ذرا غور کرلیجئے کہ ایک شریر نے زید کے نام اشتہار دیا کہ فلاں وقت فلاں مقام پر میں بیان کروں گا کہ تیرا باپ حرامی بچہ اور تیری ماں زانیہ تھی، خدا کے لئے انصاف، کیا کوئی غیرت والا، حمیت والا اور انسانیت والا جبکہ اُسے اس بیان سے روک دینے، باز رکھنے پر قادر نہ ہو اسے سننے جائے گا۔ خدا کی قسم !ہر گز نہیں ، کسی بھنگی چمار سے بھی یہ نہ ہوسکے گا پھر ایمان کے دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھو کہ اللہ  ،رسول اور قرآنِ عظیم کی توہین، تکذیب اور مذمت سخت تر ہے یا ماں باپ کی گالی۔ ایمان رکھتے  ہو تو اُسے اِس سے کچھ نسبت نہ جانو گے۔ پھر کون سے کلیجے سے اُن جگر شگاف ، ناپاک، ملعون بہتانوں ، افتراؤں ، شیطانی اٹکلوں اور ڈھکوسلوں کو سننے جاتے ہو، بلکہ حقیقت اورـــ انصاف کی بات تو یہ ہے کہ وہ جو کچھ بکتے اور اللہ، رسول اور قرآنِ عظیم کی تحقیر کرتے ہیں ان سب کاباعث یہ سننے والے ہیں ، اگر مسلمان اپنا ایمان سنبھالیں ، اپنے رب، قرآن اور رسول کی عزت عظمت پیشِ نظر رکھیں اور ایکا کرلیں کہ وہ خبیث لکچر ،گندی ندائیں سننے کوئی نہ جائے گا جو وہاں موجود ہو وہ بھی فوراً وہی مبارک ارشاد کا کلمہ کہہ کر کہ ’’تو جھوٹا ہے‘‘ چلا جائے گا تو کیا وہ دیواروں پتھروں سے اپنا سر پھوڑیں گے؟ تو تم سن سن کر کہلواتے ہو ،نہ تم سنو نہ وہ کہیں ، پھر انصاف کیجئے کہ اُس کہنے کا وبال کس پر ہوا۔علماء فرماتے ہیں ’’ہٹے کٹے جوان تندرست جو بھیک مانگنے کے عادی ہوتے اور اسی کو اپنا پیشہ بنالیتے ہیں اُنہیں دینا ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر شَہ دینی ہے، لوگ نہ دیں تو جھک ماریں اور محنت مزدوری کریں۔ بھائیو! جب اِس میں گناہ کی امداد ہے تو اُس میں تو کفر کی مدد ہے۔ قرآنِ عظیم کی نصِ قطعی نے ایسی جگہ سے فوراً ہٹ جانا فرض کردیا اور وہاں ٹھہرنا فقط حرام ہی نہ فرمایا بلکہ سنو تو کیا ارشاد کیا۔ رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:

’’ وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ  ﳲ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعًا‘‘(النساء:۱۴۰)

یعنی بے شک اللہ تم پر قرآن میں حکم اتار چکا کہ جب تم سنو کہ خدا کی آیتو ں سے انکار ہوتا اور اُن کی ہنسی کی جاتی ہے تو ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھو جب تک وہ اور باتوں میں مشغول نہ ہوں اور تم نے نہ مانا اور جس وقت وہ اللہ کی آیات پر اعتراض کر رہے ہیں وہاں بیٹھے تو جب تم بھی انہیں جیسے ہو، بیشک اللہ تعالیٰ منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔

            دیکھو قرآن فرماتا ہے ،ہاں تمہارا رب رحمٰن فرماتا ہے جو ایسے جلسوں میں جائے ایسی جگہ کھڑا ہو وہ بھی انہیں کافروں آریوں پادریوں کی مثل ہے۔

            آہ آہ حرام تو ہر گناہ ہے یہاں تو اللہ واحد قہار یہ فرما رہا ہے کہ وہاں ٹھہرے تو تم بھی انہیں جیسے ہو۔ مسلمانو! کیا قرآنِ عظیم کی یہ آیات تم نے منسوخ کردیں یا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اس سخت وعید کو سچا نہ سمجھے یا کافروں جیسا ہونا قبول کرلیا۔ اور جب کچھ نہیں تو اُن جمگھٹوں کے کیا معنی ہیں جو آریوں پادریوں کے لکچروں نداؤں پر ہوتے ہیں اُن جلسوں میں شرکت کیوں ہے جو خدا، رسول اور قرآن پر اعتراضوں کیلئے کئے جاتے ہیں۔ بھائیو! میں نہیں کہتا قرآن فرماتا ہے کہ ’’ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ ‘‘ تم بھی ان ہی جیسے ہو۔‘‘ اُن لکچروں پر جمگھٹ والے اُن جلسوں میں شرکت والے سب اُنہیں کافروں کے مثل ہیں ، وہ علانیہ بک کر کافر ہوئے یہ زبان سے کلمہ پڑھیں اور دل میں خدا، رسول اورقرآن کی اتنی عزت نہیں کہ جہاں اُن کی توہین ہوتی ہو وہاں سے بچیں تو یہ منافق ہوئے جب تو فرمایا کہ اللہ اُنہیں اور اِنہیں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا کہ یہاں تم لکچر دو اور تم سنو۔

            مسلمان اگر قرآنِ عظیم کی اس نصیحت پر عمل کریں تو ابھی ابھی دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے سب بازار ٹھنڈے ہوئے جاتے ہیں ، ملک میں ان کے شور وشر کا نشان نہ رہے گا ،جہنم کے کندے شیطان کے بندے آپس ہی میں ٹکرا ٹکرا کر سر پھوڑیں گے، اللہ، رسول اور قرآنِ عظیم کی توہینوں سے مسلمانوں کا کلیجا پکانا چھوڑیں گے، اور اپنے گھر بیٹھ کر بکے بھی تو مسلمانوں کے کان تو ٹھنڈے رہیں گے۔ (فتاوی رضویہ، ۱ / ۷۸۱-۷۸۵، ملخصاً)

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْـٕدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ(۱۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس لیے کہ اس کی طرف ان کے دل جھکیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں اور اسے پسند کریں اور گناہ کمائیں جو انہیں گناہ کمانا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تاکہ آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے دل ان بناوٹی باتوں کی طرف مائل ہوجائیں اور تاکہ وہ ان باتوں کوپسند کرلیں اور وہ اُسی گناہ کا ارتکاب کریں جس کے یہ خودمرتکب ہیں۔

{ وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْـٕدَةُ:اور اس لیے کہ اس کی طرف دل جھکیں۔}اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا کہ انسانوں اور جنوں میں سے جو مردود ہیں وہ  ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کے لئے بناوٹی



Total Pages: 191

Go To