Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

گے اللہ عَزَّوَجَلَّپناہ دے۔ اسی کے پیشِ نظر امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے زبان کی حفاظت کے متعلق فرمایا: حضرت عطا بن ا بی رباح رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : تم سے پہلے لوگ فضول کلام کو ناپسند کرتے تھے۔ وہ لوگ کتابُ اللہ، سنت ِ رسول، نیکی کی دعوت دینے، برائی سے منع کرنے اور اپنی ایسی حاجت جس کے سوا کوئی چارہ ہی نہ ہو کے علاوہ کلام کو فضول شمار کرتے تھے۔ کیا تم اس بات کا انکار کرتے ہو کہ تمہارے دائیں بائیں دو محافظ فرشتے کراماً کاتبین بیٹھے ہیں

’’ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ ‘‘(ق:۱۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔

            کیا تمہیں اس بات سے حیا نہیں آتی کہ تمہارا نامۂ اعمال جب کھولا جائے گا جو دن بھرصادر ہونے والی باتوں سے بھرا ہو گا، اور ان میں زیادہ تر وہ باتیں ہوں گی جن کا نہ تمہارے دین سے کوئی تعلق ہو گا نہ دنیا سے۔ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’میرے ساتھ کوئی شخص بات کرتا ہے ،اسے جواب دینا شدید پیاس کے وقت ٹھنڈے پانی سے زیادہ میری خواہش ہوتی ہے لیکن میں اس خوف سے اسے جواب نہیں دیتا کہ کہیں یہ فضول کلام نہ ہو جائے(احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللسان، بیان عظیم خطر اللسان وفضیلۃ الصمت، الآفۃ الثانیۃ فضول الکلام، ۳ /  ۱۴۱)۔[1]

{ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا: ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں۔} اِن فرشتوں سے مراد یا تو تنہا حضرت ملکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام ہیں،اس صورت میں جمع کالفظ (رُسُل) تعظیم کے لئے ہے یا حضرت ملکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام اور وہ فرشتے مراد ہیں جو ان کے مددگار ہیں۔ جب کسی کی موت کا وقت آتا ہے تو حضرت ملکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَاماللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے مددگاروں کو اس کی روح قبض کرنے کا حکم دیتے ہیں ، جب روح حلق تک پہنچتی ہے تو خود قبض فرماتے ہیں۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۱، ۲ / ۲۳)اور ان سب فرشتوں کی شان میں فرمایا کہ یہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے یعنی تعمیلِ حکم میں اُن سے کوتاہی واقع نہیں ہوتی اور ان کے عمل میں سستی اور تاخیر راہ نہیں پاتی بلکہ وہ اپنے فرائض ٹھیک وقت پر ادا کرتے ہیں۔

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّؕ-اَلَا لَهُ الْحُكْمُ- وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ(۶۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر پھیرے جاتے ہیں اپنے سچے مولیٰ اللہ کی طرف سنتا ہے اسی کا حکم ہے اور وہ سب سے جلد حساب کرنے والا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر انہیں اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا جو ان کا مالک ِ حقیقی ہے۔ سن لو، اسی کا حکم ہے اور وہ سب سے جلد حساب کرنے والا ہے۔

{ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ:پھر انہیں اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا۔} یعنی جب لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے تو فرشتے انہیں حساب کی جگہ میں اس اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی جزاء کی طرف لوٹائیں گے جو ان کے تمام امور کا حقیقی مالک ہے۔ اے لوگو! سن لو، قیامت کے دن بندوں کے درمیان اسی کا فیصلہ نافذ ہے کسی اور کا کوئی فیصلہ کسی بھی طرح نافذ نہیں ہو سکتا اور وہ انتہائی قلیل مدت میں تمام مخلوق کا حساب کرنے والا ہے۔ (روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۲، ۳ / ۴۶)

حساب ہونے سے پہلے اپنا محاسبہ کر لیا جائے:

            علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں ’’جب مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا اور اعمال کا حساب ہوناہے اور اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے ا س کے اعمال کا حساب لینا ہے تو عقلمند انسان پر لازم ہے کہ وہ حساب کے معاملے میں جرح ہونے سے پہلے ہی اپنے نفس کا محاسبہ کر لے کیونکہ انسان راہِ آخرت میں تاجر ہے، اس کی عمر اس کا مال و متاع ہے، اس کا نفع اپنی زندگی کو عبادات اور نیک اعمال میں صرف کرنا ہے اور ا س کا نقصان گناہوں اور معاصی میں زندگی بسر کرنا ہے اور ا س کا نفس اس تجارت میں اس کا شریک ہے اور نفس اگرچہ نیکی اور برائی دونوں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن یہ نیکی کے مقابلے میں گناہوں اور نفسانی خواہشات کی طرف زیادہ مائل اور متوجہ ہوتا ہے اس لئے اس کا محاسبہ کرنا انتہائی ضروری ہے (روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۲، ۳ / ۴۶)۔ [2]

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’انسان کو چاہئے کہ رات سوتے وقت ایک گھڑی مقرر کرے تاکہ وہ اپنے نفس سے اس دن کا سارا حساب کتاب لے سکے اور جس طرح کاروبار میں شریک شخص سے حساب کرتے وقت (انتہائی احتیاط اور) مبالغہ سے کام لیا جاتاہے اسی طرح اپنے نفس کے ساتھ حساب کرتے ہوئے بہت سی احتیاط کرنی چاہئے کیونکہ نفس بڑا مکار اور حیلہ ساز ہے، وہ اپنی خواہش کو انسان کے سامنے اطاعت کی شکل میں پیش کرتا ہے تاکہ انسان اسے بھی نفع شمار کرے حالانکہ وہ نقصان ہوتا ہے اور انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے نفس سے مباحات تک کا حساب لے کہ یہ تونے کیوں کیا، یہ تو نے کس کے لئے کیا اور اگراس میں کوئی عیب دیکھے تو اپنے نفس کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائے (لیکن افسوس کہ فی زمانہ) انسان کس طرح فارغ ہے کہ وہ اپنے نفس سے حساب نہیں لیتا، اگر انسان ہر گناہ پر اپنے گھر میں ایک پتھر بھی رکھتا جائے تو تھوڑے دنوں میں اس کا گھر پتھروں سے بھر جائے گا، اگر کراماً کاتبین اس انسان سے لکھنے کی مزدوری طلب کریں تو ا س کے پا س کچھ باقی نہ رہے گا۔ اگر انسان کبھی غفلت میں چند بار سُبْحَانَ اللہ پڑھتا ہے تو تسبیح ہاتھ میں لے کر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے میں نے یہ سو مرتبہ پڑھ لیا جبکہ سارا دن بیہودہ بکواسات کرتا پھرتا ہے انہیں شمار نہیں کرتا اور نہ ہی انہیں شمار کرنے کے لئے کوئی ایسی چیز ہاتھ میں لیتا ہے تاکہ ا سے معلوم ہو جائے کہ میں نے سارے دن میں کتنے گناہ کئے ہیں۔ اس صورتِ حال کے باوجود یہ سوچنا کہ میرا نیکیوں کا پلڑ اوزنی ہو جائے کتنی بے عقلی ہے! اسی لئے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’اس سے پہلے کہ تمہارے اعمال تولے جائیں تم اپنے اعمال کا خود جائزہ لے لو۔ اور اپنا محاسبہ کرنے میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی کیفیت یہ تھی کہ جب رات ہوتی تو اپنے پاؤں پر درے لگاتے اور کہتے کہ بتا تو نے آج کیا کیا۔ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :میں نے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو ایک دیوار کے پیچھے یہ کہتے ہوئے سنا ’’واہ واہ! لوگ تجھے امیرُ المؤمنین کہتے ہیں لیکن خدا کی قسم ! تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اور اس کے عذاب میں مبتلا ہونے کو تیار رہتا ہے۔(کیمیائے سعادت، رکن چہارم، اصل ششم در محاسبہ ومراقبہ، مقام سوم در محاسبات، ۲ / ۸۹۱-۸۹۲)

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًۚ-لَىٕنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ(۶۳)قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ



[1]     زبان کی حفاظت سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’جنت کی دو چابیاں‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ بہت مفید ہے۔

[2]     اعمال کا محاسبہ کرنے کی فضیلت،ترغیب اور اس سے متعلق دیگر معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’فکر مدینہ‘‘( مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔



Total Pages: 191

Go To