Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ ان کو صرف وہی جانتا ہے اور جو کچھ خشکی اورتری میں ہے وہ سب جانتا ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا اور نہ ہی زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ ہے مگر وہ ان سب کو جانتا ہے۔ اور کوئی تر چیز نہیں اور نہ ہی خشک چیز مگر وہ ایک روشن کتاب میں ہے۔

{ وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ:اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔} تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے ’’یہ جو آیت میں فرمایا کہ ’’ غیب کی کنجیاں اللہہی کے پاس ہیں اُس کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا ‘‘ اس خصوصیت کے یہ معنی ہیں کہ ابتداء ً بغیر بتائے ان کی حقیقت دوسرے پر نہیں کھلتی۔(عنایۃ القاضی، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۹، ۴ / ۷۳) اور تفسیر صاوی میں ہے:یہ آیتِ کریمہ اس بات کے منافی نہیں کہ اللہتعالیٰ نے بعض انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْکو بعض چیزوں کا علمِ غیب عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان:غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتاسوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔(تفسیر صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۵۹، ۲ / ۵۸۶)

            علمِ غیب سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ حضرت امام ا حمد رضاخان کی کتاب ’’اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّہْ بِالْمَادَّۃِ الْغَیْبِیَّہْ ‘‘ (علم غیب کے مسئلے کا دلائل کے ساتھ تفصیلی بیان)اور فتاویٰ رضویہ کی 29ویں جلد میں موجود ان رسائل کا مطالعہ فرمائیں (1)’’اِزَاحَۃُ الْعَیْب بِسَیْفِ الْغَیْب ‘‘(علم غیب کے مسئلے سے متعلق دلائل اور بد مذہبوں کا رد ) (2) ’’خَالِصُ الْاِعْتقاد‘‘ (علم غیب سے متعلق120دلائل پر مشتمل ایک عظیم کتاب)

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّىۚ-ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠(۶۰)

 ترجمۂ کنزالایمان: اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ دن میں کماؤ پھر تمہیں دن میں اٹھاتا ہے کہ ٹھہرائی ہوئی میعاد پوری ہو پھر اسی کی طرف پھرنا ہے پھر وہ بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کماتے ہو اسے جانتا ہے پھر تمہیں دن کے وقت اٹھاتا ہے تاکہ مقررہ مدت پوری ہوجائے پھر اسی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے پھر وہ بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔

{ وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ:اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے۔}اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے کمالِ علم کابیان ہوا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی کمالِ قدرت کا بیان کیا جا رہاہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ  وہی اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے جو رات کے وقت تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے اور تمہاری قوتِ احساس زائل کر کے تمہیں میت کی طرح کر دیتا ہے  جس سے تم پر نیند مُسلَّط ہوجاتی ہے اور تمہارے تَصَرُّفات اپنے حال پر باقی نہیں رہتے۔ پھر وہ تمہیں دن کے وقت اٹھاتا ہے تاکہ تمہاری زندگی کی مقررہ مدت پوری ہوجائے اور تمہاری عمر اپنی انتہا کو پہنچے، پھر مرنے کے بعد آخرت میں اسی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں ان اعمال کی جزا ء دے گاجو کچھ تم دن رات کیا کرتے تھے۔

            یہاں آیت میں پہلے نیند مسلط کرنے اور اس کے بعد بیدار کرنے کابیان ہوا، اس میں قیامت قائم ہونے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر واضح دلیل ہے کہ جو رب عَزَّوَجَلَّ ا س چیز پر قادر ہے کہ روز مرہ سونے کے وقت

ایک طرح کی موت تم پر وارِدکرتا ہے جس سے تمہارے حواس اور ان کے ظاہری افعال جیسے دیکھنا، سننا، بولنا، چلنا پھرنا اور پکڑنا وغیرہ سب مُعَطَّل ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد پھر بیداری کے وقت وہی رب عَزَّوَجَلَّ تمام اعضاء کو ان کے تصرفات عطا فرما دیتا ہے اور وہ دیکھنا سننا، بولنا اور چلنا پھرنا وغیرہ شروع کر دیتے ہیں تو وہ رب عَزَّوَجَلَّ مخلوق کو ان کی حقیقی موت کے بعد زندگانی کے تصرفات عطا کر نے پر بھی قادر ہے ۔

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةًؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ(۶۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں کسی کو موت آتی ہے ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں اور وہ قصور نہیں کرتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور وہی اپنے بندوں پرغالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں کسی کو موت آتی ہے توہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔

{ وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ:اور وہی اپنے بندوں پرغالب ہے۔} یعنی اللہ تعالیٰبندوں کے تمام امور میں ہر طرح سے تصرف کرنے کی قدرت رکھتا ہے، وہی عطا کرتا اور وہی اپنی عطا روکتا ہے، وہی ملاتا اور وہی توڑتا ہے،وہی نفع و نقصان پہنچاتا ہے ،وہی عزت و ذلت دیتا ہے ،وہی زندگی اور موت دیتا ہے، اس کے فیصلے کو رد کرنے والا کوئی نہیں اور اس کے علاوہ اور کوئی جائے پناہ نہیں۔ (صاوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۶۱، ۲ / ۵۸۸)ایک اور مقام پراللہ تعالیٰارشاد فرماتا ہے:

’’ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَۚ-وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖؕ-یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ‘‘ (یونس:۱۰۷)

 ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سواکوئی تکلیف کو دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو اس کے فضل کو کوئی رد کرنے والانہیں۔اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔

{ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً: اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔} ان سے مراد وہ فرشتے ہیں جو بنی آدم کی نیکی او ربدی لکھتے رہتے ہیں ،انہیں کراماً کاتبین کہتے ہیں۔ ہر آدمی کے ساتھ دو فرشتے ہیں ،ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف۔ دائیں طرف کا فرشتہ نیکیاں لکھتا ہے اور بائیں طرف کافرشتہ برائیاں لکھتا ہے۔

گناہ کرنے والے غور کریں :

             بندوں کو چاہئے کہ غور کریں اور بدیوں اور گناہوں سے بچیں کیونکہ ہر ایک عمل لکھا جاتا ہے اور روزِ قیامت وہ نامۂ اعمال تمام مخلوق کے سامنے پڑھا جائے گا تو گناہ کتنی رسوائی کا سبب ہوں



Total Pages: 191

Go To