Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

کے مطابق عطا فرما رہاہے تو یہ ان کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِستِدراج اور ڈھیل ہے ،پھر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے یہ آیت تلاوت فرمائی

’’ فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍؕ-حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان:پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیاجو انہیں کی گئی تھیں توہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس پرخوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا پس اب وہ مایوس ہیں۔‘‘ (مسند امام احمد، مسند الشامیین، حدیث عقبۃ بن عامر الجہنی، ۶ / ۱۲۲، الحدیث: ۱۷۳۱۳)

            حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’خدا کی قسم ! جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں وسعت عطا فرمائی اور اسے یہ خوف نہ ہو کہ کہیں اس میں اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی کوئی خفیہ تدبیر نہ ہو تو بے شک ا س کا عمل ناقص اور اس کی فکر کمزور ہے اور جس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وسعت روک لی اور اس نے یہ گمان نہ کیا کہ وسعت روکنے میں اس کے لئے کوئی بھلائی ہو گی تو بے شک ا س کا عمل ناقص اور ا س کی فکر کمزور ہے۔ (تفسیر قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳ / ۲۶۵، الجزء السادس)

            اس سے ان نام نہاد دانشوروں کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے جو کافروں کی ترقی دیکھ کر اسلام سے ہی ناراض ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں کی معیشت کا رونا روتے ہوئے انہیں کفار کی اندھی تقلید کادرس دیتے ہیں اور اسلامی شرم و حیا اور تجارت کے شرعی قوانین کو لات مارنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاؕ-وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۴۵)

  ترجمۂ کنزالایمان:   تو جڑ کاٹ دی گئی ظالموں کی اور سب خوبیوں سراہا اللہ رب سارے جہان کا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پس ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اورتمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔

{ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا:تو ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی۔} ارشاد فرمایا کہ ایمان کی بجائے کفر اختیار کرنے اور اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی بجائے گناہوں میں مصروف ہونے کی وجہ سے ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اور سب کے سب ہلاک کردیئے گئے ،ان میں سے کوئی باقی نہ چھوڑا گیا۔

{ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ:اورتمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔} یعنی اللہ تعالیٰ کی حمد ہے اس پر کہ اس نے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کی جڑ کاٹ دی ۔ اس آیت میں یہ بھی تعلیم ہے کہ لوگ ظالموں کی ہلاکت پر اللہ تعالیٰ کی حمد کریں اور ا س کا شکر بجا لائیں۔(تفسیر سمرقندی، الانعام، تحت الآیۃ: ۴۵، ۱ / ۴۸۵)

بے دینوں اور ظالموں کی ہلاکت اللہ تعالٰی کی نعمت ہے:

             اس سے معلوم ہوا کہ گمراہوں ،بے دینوں اور ظالموں کی ہلاکت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اس پر شکر کرنا چاہئے۔ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَاور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی سیرتِ مبارکہ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں چنانچہ

            ابو جہل کے قتل پر حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سجدۂ شکر ادا کیا ۔(سیرت حلبیہ، باب غزوۃ بدر الکبری، ۲ / ۲۳۶)

             عاشورہ کے دن نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے روزہ رکھنے کا حکم دیا کہ اس دن فرعون ہلاک ہوا۔ (مسلم، کتاب الصیام باب صوم یوم عاشوراء، ص۵۷۲، الحدیث: ۱۲۸(۱۱۳۰))

            حضرت ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یمامہ کی فتح اور مسیلمہ کذاب کے مرنے کی خبر ملنے پر سجدۂ شکر کیا اور حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے جب( خارجیوں کے درمیان) ذُو الثَّدِیَّہ یعنی دو پستانوں والے مرد کو مردہ پایا تو سجدہ ٔشکر کیا۔(فتح القدیر، کتاب الصلاۃ، باب سجود السہو، ۱ / ۴۵۷)

             لہٰذا مؤمن کی وفات پر ’’ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پڑھئے اور موذی کافر کی موت پر’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ‘‘ پڑھئے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ  اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖؕ-اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ(۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر اللہ تمہارے کان آنکھ لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے تو اللہ کے سوا کون خدا ہے کہ تمہیں یہ چیزیں لادے دیکھو ہم کس کس رنگ سے آیتیں بیان کرتے ہیں پھر وہ منہ پھیر لیتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ، (اے لوگو!) بھلا بتاؤ کہ اگر اللہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگادے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جوتمہیں یہ چیزیں لادے گا؟ دیکھو ہم کیسے بار بار نشانیاں بیان کرتے ہیں پھر (بھی) یہ لوگ منہ پھیر تے ہیں۔

{ قُلْ اَرَءَیْتُمْ:تم فرماؤ، (اے لوگو!) بھلا بتاؤ۔}یہاں توحید ِ باری تعالیٰ کی دلیل پیش کی جارہی ہے اور فرمایا جارہا ہے کہ  اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگادے  اور علم و معرفت کا تمام نظام درہم برہم ہوجائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کون معبود ہے جوتمہیں یہ چیزیں لادے گا؟ اس کا جواب یہی ہے کہ کوئی نہیں ، تو اب توحید پر قوی دلیل قائم ہوگئی کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی اتنی قدرت و اختیار والا نہیں تو عبادت کا مستحق صرف وہی ہے اور شرک بدترین ظلم وجرم ہے۔

{ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ:دیکھو ہم کیسے بار بار نشانیاں بیان کرتے ہیں۔}یعنی اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، آپ دیکھیں کہ کبھی ہم انہیں اپنی نعمتیں یاد دلا کر ایمان لانے کی ترغیب دیتے ہیں ، کبھی سابقہ امتوں پر آنے والے عذابات یاد دلا کر اور کبھی ا س بات سے ڈراتے ہیں کہ ہم چاہیں توان کے کانوں ،آنکھوں اور دلوں کو بے کار کر دیں اور کبھی ان کے سامنے اپنی اُلوہیت، قدرت اور وحدانیت پر دلائل پیش کرتے ہیں تاکہ یہ کسی طرح ایمان لے آئیں لیکن ان کا حال یہ ہے کہ یہ ان نشانیوں سے منہ پھیر لیتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ (البحر المحیط، الانعام، تحت الآیۃ: ۴۶، ۴ / ۱۳۵، ملخصاً)

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ(۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے اچانک یا کھلم کھلا تو کون تباہ ہوگا سوا ظالموں کے ۔

 



Total Pages: 191

Go To