Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

مسلمان کے اخروی خسارے کا سبب:

             قیامت کے دن کافر کا تویہ حال ہو گاجبکہ دنیا میں کئے گئے برے اعمال مسلمان کے لئے بھی اُخروی خسارے کا سبب بن سکتے ہیں چنانچہ حدیث میں ہے ،رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’چار آدمی ایسے ہیں کہ وہ جہنمیوں کی تکلیف میں اضافے کا سبب بنیں گے اوروہ کھولتے پانی اور آگ کے درمیان دوڑتے ہوئے ہلاکت وتباہی مانگتے ہوں گے۔ اُن میں سے ایک پر انگاروں کاصندوق لٹک رہا ہوگا، دوسرا اپنی آنتیں کھینچ رہا ہو گا، تیسرے کے منہ سے پیپ اور خون بہہ رہے ہوں گے اور چوتھا اپنا گوشت کھا رہا ہو گا۔ صندوق والے کے بارے میں جہنمی ایک دوسرے سے کہیں گے: ’’اس بدبخت کو کیا ہوا؟ اس نے تو ہماری تکلیف میں اور اضافہ کر دیا۔ صندوق والا یہ جواب دے گا ’’میں اس حال میں مرا کہ میری گردن پر لوگوں کے اموال کا بوجھ (یعنی قرض) تھا۔ پھر اپنی انتڑیا ں کھینچنے والے کے متعلق کہیں گے: اس بدبخت شخص کا معاملہ کیسا ہے جس نے ہماری تکلیف کو اور بڑھا دیا؟ تو وہ جواب دے گا ’’ میں کپڑوں کو پیشاب سے بچانے کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔ پھر جس کے منہ سے خون اور پیپ بہہ رہی ہو گی،اس کے بارے میں کہیں گے: اس بدنصیب کا معاملہ کیا ہے جس نے ہماری تکلیف کو اور زیادہ کر دیا؟ وہ کہے گا’’میں بدنصیب بری بات کی طرف متوجہ ہوکر اس طرح لذت اُٹھاتا تھا جیسا کہ جماع کی باتوں سے۔ پھر جو شخص اپنا گوشت کھا رہا ہوگا اس کے متعلق جہنمی کہیں گے: اس مردود کو کیا ہوا جس نے ہماری تکلیف میں مزید اضافہ کر دیا؟ تو وہ جواب دے گا ’’ میں بد بخت غیبت کر کے لوگوں کا گوشت کھاتا اور چغلی کرتا تھا۔(رسائل ابن ابی الدنیا، الصمت وآداب اللسان، باب الغیبۃ وذمہا، ۷ / ۱۳۲، رقم: ۱۸۷، حلیۃ الاولیاء، شفی بن ماتع الاصبحی، ۵ / ۱۹۰، رقم: ۶۷۸۶، الزواجر عن اقتراف الکبائر، الباب الثانی فی الکبائر الظاہرۃ، الکبیرۃ الثامنۃ والتاسعۃ بعد المائتین، ۲ / ۱۸-۱۹)

نفس یہ کیا ظلم ہے جب دیکھو تازہ جرم ہے            ناتواں کے سر پر اتنا بوجھ بھاری واہ واہ

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌؕ-وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور دنیا کی زندگی نہیں مگر کھیل کود اور بیشک پچھلا گھر بھلا ان کے لئے جو ڈرتے ہیں تو کیا تمہیں سمجھ نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور دنیا کی زندگی صرف کھیل کود ہے اور بیشک آخرت والا گھر ڈرنے والوں کے لئے بہتر ہے تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟

{ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ :اور دنیا کی زندگی صرف کھیل کود ہے۔} ارشاد فرمایا کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل کود ہے جسے بقا نہیں ، بہت جلد گزر جاتی ہے جبکہ نیکیاں اور طاعتیں اگرچہ مومنین سے دنیا ہی میں واقع ہوں لیکن وہ امور آخرت میں سے ہیں۔

            مفتی احمد یار خاں نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی ، چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ’’ دنیا کی زندگی وہ ہے جو نفس کی خواہشات میں گزر جائے اور جو زندگی آخرت کے لئے توشہ جمع کرنے میں صَرف ہو، وہ دنیا میں زندگی تو ہے مگر دنیا کی زندگی نہیں لہٰذا انبیاء و صالحین کی زندگی دنیا کی نہیں بلکہ دین کی ہے۔ غرضیکہ غافل اور عاقل کی زندگیوں میں بڑا فرق ہے۔ (نور العرفان، الانعام، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۲۰۸)

آخرت کو بھلا دینے والے دنیا داروں کی مثال:

            امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس بات کو بڑے پیارے انداز میں سمجھایا ہے چنانچہ کیمیائے سعادت میں ارشاد فرماتے ہیں :دنیا داروں کا دنیوی کاروبار میں مشغول ہو کر آخرت کو بھلا دینے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی گروہ کشتی میں سوار ہوا اور وہ کشتی کسی جزیرے پر جا کر رُکی، لوگوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ضروری حاجات سے فارغ ہونےکے لئے جزیرے پر اتر گئے۔ ملاح نے اعلان کیا: یہاں زیادہ دیر نہیں رکیں گے لہٰذا وقت ضائع کئے بغیر صرف طہارت وغیرہ سے فارغ ہو کر جلدی واپس پلٹیں۔ جزیرے میں اترنے کے بعد لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے:

(1)…کچھ لوگ جزیر ے میں سیر و سیاحت اور اس کے عجائبات دیکھنے میں ایسے مشغول ہوئے کہ انہیں کشتی میں واپس آنا یاد نہ رہا حتّٰی کے وہیں بھوک پیاس سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئے اور درندوں کی غذا بنے۔

(2)…عقلمند لوگ اپنی حاجات سے جلدی فارغ ہو کر کشتی میں اپنی من پسند جگہ پر آکر بیٹھ گئے۔

(3)…کچھ لوگ جزیرے کے انوار اور عجیب و غریب قسم کے پھولوں ، غنچوں ، شگوفوں ، وہاں کے پرندوں کے اچھے نغمات سنتے اور وہاں کے قیمتی پتھروں کو دیکھتے رہ گئے اور ان میں سے بعض ایسے بھی تھے کہ جنہوں نے صرف دیکھنے پر ہی اِکتفا نہ کیا بلکہ وہاں سے بہت سی چیزیں اپنے ساتھ ا ٹھا لائے۔ اب کشتی میں مزید جگہ تنگ ہوئی تو اپنے ساتھ لانے والی اشیاء کو کشتی میں رکھنے کی جگہ نہ پا سکے تو مجبوراً انہیں سروں پر اٹھانا پڑا۔ ابھی دو دن ہی گزرے تھے کہ ان اشیاء کی رنگت میں تبدیلی شروع ہو گئی اور خوشبو کی بجائے اب بدبو آنے لگی ،اب انہیں کہیں پھینکنے کی جگہ بھی نہ تھی نادم و پشیمان اسی طرح اپنے سروں پر اٹھانے پر مجبور تھے۔

            پہلے گروہ کی مثال کفار و مشرکین اور بد عقیدہ لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو کلی طور پر دنیا کے سپرد کر دیا اور اسی کے ہو کر رہ گئے ،اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت کوفراموش کر دیا، انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں محبوب رکھا۔

            دوسرا گروہ ان عقلمندوں کا تھا جسے مومنین سے تعبیر کیا گیا، وہ طہارت سے فارغ ہوتے ہی کشتی میں سوار ہوئے اور عمدہ سیٹوں کو پا لیا( یعنی جنت کے مستحق ہوئے۔)

         تیسرے گروہ کی مثال خطاکاروں کی ہے کہ انہوں نے ایمان کو تو محفوظ رکھا مگر دنیا میں ملوث ہونے سے بچ نہ سکے۔ (کیمیائے سعادت، عنوان سوم: معرفت دنیا، فصل چہارم، ۱ / ۹۵-۹۶، ملخصاً)

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ(۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان: ہمیں معلوم ہے کہ تمہیں رنج دیتی ہے وہ بات جو یہ کہہ رہے ہیں تو وہ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتیں تمہیں رنجیدہ کرتی ہیں تو بیشک یہ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں کاانکار کرتے ہیں۔

{ قَدْ نَعْلَمُ:ہم جانتے ہیں۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ اخنس بن شریق او ر ابوجہل کی آپس میں ملاقات ہوئی تو اخنس نے ابوجہل سے کہا، اے اَبُوالْحَکَمْ! (کفار ابوجہل کو اَبُوالْحَکَمْ کہتے تھے) یہ



Total Pages: 191

Go To