Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں۔

{اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ:بیشک سب جانوروں میں بدتر۔} یعنی مخلوقِ خدا میں سے روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدتر وہ ہیں جونہ حق سنتے ہیں ، نہ حق بات بولتے ہیں اور نہ حق کو سمجھتے ہیں۔ کان اور زبان و عقل سے فائدہ نہیں اُٹھاتے بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ یہ دیدہ ودانستہ بہرے گونگے بنتے اور عقل سے دشمنی کرتے ہیں۔ شانِ نزول: حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں ’’ یہ آیت بنی عبدالدار بن قُصَیْ کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ جو کچھ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ لائے ہم اُس سے بہرے گونگے اندھے ہیں ،یہ سب لوگ جنگ ِاُحد میں قتل ہوگئے اور ان میں سے صرف دو شخص حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت سویبط بن حرملہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  ایمان لائے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۲، ۲ / ۱۸۸)

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْؕ-وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ(۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی جانتا تو انہیں سنادیتا اور اگر سنا دیتا جب بھی انجام کا ر منہ پھیر کر پلٹ جاتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر اللہان میں کچھ بھلائی جانتا تو انہیں سنا دیتا اور اگروہ انہیں سنا دیتا تو بھی وہ روگردانی کرتے ہوئے پلٹ جاتے۔

{وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا:اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی جانتا۔ } بعض مفسرین نے فرمایا کہ اہلِ مکہ حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے یہ فرمائش کرتے کہ آپ ہمارے سامنے قُصَی کو زندہ کر دیں کیونکہ وہ بابرکت بزرگ ہے، اگر اس نے آپ کی نبوت کی گواہی دے دی تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اگر ان کی خواہش کے مطابق ہم قُصَی کو زندہ کر دیتے اور وہ اس کا کلام سن لیتے تو بھی وہ روگردانی کرتے ہوئے پلٹ جاتے۔ (تفسیر بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۳، ۲ / ۲۰۲) یہاں خیر سے مراد صدق و رغبت ہے یعنی اگراللہ عَزَّوَجَلَّان لوگوں کے دلوں میں قبولِ حق کا سچا جذبہ اور رغبت جانتا یعنی پاتا تو انہیں سنادیتا یعنی ان کے مطلوبہ معجزات انہیں دکھا دیتا اور حق سنا دیتا لیکن چونکہ ان کے دلوں میں وہ صدق و رغبت موجود ہی نہیں لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں ان کے مطلوبہ معجزات نہ دکھائے اور اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں دکھا بھی دیتا تو یہ منہ پھیر لیتے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(۲۴)

 ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو اللہ ورسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ اسی کی طرف تمہیں اٹھایا جائے گا۔

{ اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ:اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو۔}اس آیت میں واحد کا صیغہ ’’دَعَا‘‘ اس لئے ذکر کیا گیا کہ  حضور سید المرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا بلانا اللہ عَزَّوَجَلَّ  ہی کا بلانا ہے۔( خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۴، ۲ / ۱۸۸)

رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ جب بھی بلائیں تو ان کی بارگاہ میں حاضر ہونا ضروری ہے:

            اس آیت سے ثابت ہو اکہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ جب بھی کسی کو بلائیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ آپ کی بارگاہ میں حا ضر ہو جائے چاہے وہ کسی بھی کام میں مصروف ہو۔ بخاری شریف میں ہے،حضرت ابوسعید بن معلی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں مسجدِ نبوی میں نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے رسُولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے بلایا، لیکن میں آپ کے بلانے پر حاضر نہ ہوا ۔ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) میں نے حاضرِ خدمت ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ

’’اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو جایا کروجب وہ تمہیں بلائیں۔(بخاری، باب ما جاء فی فاتحۃ الکتاب، ۳ / ۱۶۳، الحدیث: ۴۴۷۴)

            ایسا ہی واقعہ ایک اور حدیث میں ہے، حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَحضرت اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرف تشریف لائے اور انہیں آواز دی ’’اے اُبَی! حضرت اُبَی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی طرف دیکھا لیکن کوئی جواب نہ دیا، پھر مختصر نماز پڑھ کر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکَیا رسول اللہ‘‘ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’وَعَلَیْکَ السَّلَامْ‘‘ اے اُبَی! جب میں نے تمہیں پکارا تو جواب دینے میں کونسی چیز رکاوٹ بنی۔ عرض کی:یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’کیا تم نے قرآنِ پاک میں یہ نہیں پایا کہ

’’اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے۔

            عرض کی: ہاں یا رسول اللہ ! اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آئندہ ایسا نہ ہو گا۔(ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل فاتحۃ الکتاب، ۴ / ۴۰۰، الحدیث: ۲۸۸۴)

{لِمَا یُحْیِیْكُمْ:اس چیز کے لئے جو تمہیں زندگی دیتی ہے۔} زندگی دینے والی چیز کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس  سے ا یمان مراد ہے کیونکہ کافر مردہ ہوتا ہے ا یمان سے اس کوزندگی حاصل



Total Pages: 191

Go To