Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

(1)… کسی جنگی حکمتِ عملی کی وجہ سے پیچھے ہٹنا مثلاً پیچھے ہٹ کر حملہ کرنا زیادہ مؤثِّر ہو یا خطرناک جگہ سے ہٹ کر محفوظ جگہ سے حملہ کرنے کا قصد ہو تو اس صورت میں وہ پیٹھ دکھا کر بھاگنے والا نہیں ہے۔

(2)… اپنی جماعت میں ملنے کے لئے پیچھے ہٹنا مثلاً مسلمان فوجیوں کا کوئی فرد یا گروہ مرکزی جماعت سے بچھڑ گیا اور وہ اپنے بچاؤ کیلئے پَسپا ہو کر مرکزی جماعت سے ملا تو یہ بھی بھاگنے والوں میں شمار نہ ہو گا۔

جنگِ اُحد اور جنگِ حُنَین میں پسپائی اختیار کرنے والے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا حکم:

             جنگِ احد اور جنگِ حنین میں جن صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے قدم اکھڑ گئے تھے وہ اس آیت کی وعید میں داخل نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں جنگِ احد میں پسپائی اختیار کرنے والے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی عام معافی کا اعلان فرما دیا:

’’اِنَّ  الَّذِیْنَ  تَوَلَّوْا  مِنْكُمْ  یَوْمَ  الْتَقَى  الْجَمْعٰنِۙ-اِنَّمَا  اسْتَزَلَّهُمُ  الشَّیْطٰنُ  بِبَعْضِ   مَا  كَسَبُوْاۚ-وَ  لَقَدْ  عَفَا  اللّٰهُ  عَنْهُمْ ‘‘ (آل عمران: ۱۵۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک تم میں سے وہ لوگ جو اس دن بھاگ گئے جس دن دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا ،انہیں شیطان ہی نے ان کے بعض اعمال کی وجہ سے لغزش میں مبتلا کیا اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرما دیا ہے۔

             یونہی جنگِ حنین میں جن صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے ابتداء ًپسپائی اختیار کی ان کے مومن رہنے کی گواہی خود قرآن میں موجود ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کے قدم جمائے اور ان پر اپنا سکینہ اتارا، ارشاد باری تعالیٰ ہے

’’ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا‘‘(التوبہ : ۲۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھراللہ نے اپنے رسول پر اور اہلِ ایمان پر اپنی تسکین نازل فرمائی اور اس نے (فرشتوں کے) ایسے لشکر اتارے جو تمہیں دکھائی نہیں دیتے تھے ۔

            جو اس طرح کے واقعات کو لے کر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی شان میں گستاخی کرے اور ان پر زبانِ طعن دراز کرے وہ بڑا بدبخت ہے کہ ان کی معافی کا اعلان ربُّ العالَمین عَزَّوَجَلَّخود فرماچکا ہے۔

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ۪-وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰىۚ-وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱۷)ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھا انعام عطا فرمائے بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔ یہ تو لو اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ اللہکافروں کا داؤں سست کرنے والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہنے انہیں قتل کیا اور اے حبیب! جب آپ نے خاک پھینکی تو آپ نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی اور اس لئے تا کہ مسلمانوں کواپنی طرف سے اچھا انعام عطا فرمائے۔ بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔یہ حق ہے اور یہ کہ اللہ کافروں کے مکرو فریب کو کمزور کرنے والا ہے۔

{فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ:تو تم نے انہیں قتل نہیں کیا۔} شانِ نزول: جب مسلمان جنگِ بدر سے واپس ہوئے تو ان میں سے ایک کہتا تھا کہ میں نے فلاں کو قتل کیا، دوسرا کہتا تھا میں نے فلاں کو قتل کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ اس قتل کو تم اپنے زور ِبازو اور طاقت و قوت کی طرف منسوب نہ کرو کہ یہ درحقیقت اللہ عَزَّوَجَلَّکی امداد اور اس کی تَقْوِیَت اور تائید ہے۔(تفسیر بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷، ۲ / ۱۹۹)

ہر اچھے کام کی نسبت اللہ تعالٰی کی طرف کی جائے:

             اس آیت سے معلوم ہوا کہ اچھے اور نیک کام کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہئے اور جب انسان کوئی اچھا اور نیک کام کرے تو اس پر فخر نہیں کرنا چاہئے کیونکہ نیک کام بندہ خود نہیں کرتا بلکہ جو بھی نیک کام کرتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی توفیق شاملِ حال ہوتو ہی کرتا ہے۔

{وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى:اور اے محبوب! جب آپ نے خاک پھینکی تو آپ نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔} شانِ نزول: اس آیت کے شانِ نزول سے متعلق جمہور مفسرین کا مختار قول یہ ہے کہ جب کفار اور مسلمانوں کی فوجیں ایک دوسرے کے سامنے ہوئیں تورسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ایک مٹھی خاک کافروں کے چہرے پر ماری اور فرمایا ’’شَاہَتِ الْوُجُوْہ‘‘ یعنی ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں۔ وہ خاک تمام کافروں کی آنکھوں میں پڑی اور صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم بڑھ کر انہیں قتل اور گرفتار کرنے لگے۔ کفارِ قریش کی شکست کا اصل سبب خاک کی وہ مٹھی تھی جو تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے پھینکی تھی۔ اس موقع پراللہتعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

’’ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے حبیب!جب آپ نے خاک پھینکی تو وہ آپ نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔( تفسیر طبری، الانفال، تحت الآیۃ: ۱۷، ۶ / ۲۰۳، قرطبی، الانفال، تحت الآیۃ: ۱۷، ۴ / ۲۷۶، الجزء السابع)

             اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس واقعے کی منظر کشی کرتے ہوئے کیا خوب فرماتے ہیں :

میں ترے ہاتھوں کے صدقے کیسی کنکریاں تھیں وہ           جن سے اتنے کافروں کا دفعتاً منھ پھر گیا

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُۚ-وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْۚ-وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْۚ-وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْــٴًـا وَّ لَوْ كَثُرَتْۙ-وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠(۱۹)

 



Total Pages: 191

Go To