Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

{اَنِّیْ مَعَكُمْ:میں تمہارے ساتھ ہوں۔} آیت کے اس حصے کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جب فرشتے مسلمانوں کی مدد کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف وحی فرمائی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف وحی فرمائی کہ میں مسلمانوں کے ساتھ ہوں تم ان کی مدد کرو اور انہیں ثابت قدم رکھو۔ فرشتوں کے ثابت قدم رکھنےکا معنی یہ ہے کہ فرشتوں نے سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو خبر دی کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مدد فرمائے گا اور رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے مسلمانوں کو یہ خبر دے دی( جس سے مسلمانوں کے دل مطمئن ہو گئے اور وہ اس جنگ میں ثابت قدم رہے۔) دوسری تفسیر زیادہ قوی ہے کیونکہ اس کلام سے مقصود خوف زائل کرنا ہے کیونکہ فرشتے کفار سے نہیں ڈرتے محض مسلمان خوفزدہ تھے۔ (تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۱۲، ۵ / ۴۶۳)

{فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ:تو تم کافروں کی گردنوں کے اوپر مارو۔} ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور ایک قول یہ ہے کہ خطاب فرشتوں سے ہے۔ (بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۲، ۲ / ۱۹۷)

جنگِ بدر میں فرشتوں نے لڑائی میں باقاعدہ حصہ لیا تھا:

            مفسرین کی ایک تعداد کے مطابق جنگ ِ بدر میں فرشتوں نے باقاعدہ لڑائی میں حصہ لیا تھا ،یہاں ہم دو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے بیانات تحریر کرتے ہیں جن سے مفسرین کے ا س مَوقف کی تائید ہوتی ہے۔چنانچہ

             حضرت ابو داؤد مازنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو غزوۂ بدر میں حاضر ہوئے تھے ،فرماتے ہیں کہ ’’میں مشرک کی گردن مارنے کے لئے اس کے درپے ہوا لیکن اس کا سر میری تلوار پہنچنے سے پہلے ہی کٹ کر گر گیا تو میں نے جان لیا کہ اسے کسی اور نے قتل کیا ہے۔(مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی داود المازنی رضی اللہ عنہ، ۹ / ۲۰۲، الحدیث: ۲۳۸۳۹)

            حضرت سہل بن حُنَیف  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ’’غزوۂ بدر کے دن ہم میں سے کوئی تلوار سے مشرک کی طرف اشارہ کرتا تھا تو اس کی تلوار پہنچنے سے پہلے ہی مشرک کا سر جسم سے جدا ہو کر گر جاتا تھا۔(معرفۃ الصحابہ، سہل بن حنیف بن واہب بن العکیم، ۲ / ۴۴۱،  رقم: ۳۲۹۹)

            نوٹ:یاد رہے کہ غزوہ ٔبدر کا واقعہ  2 ھ   17 رمضانُ المبارک، بروز جمعہ صبح کے وقت پیش آیا تھا۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۱۲، ۲ / ۱۸۴)

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۚ-وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان:یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخا لفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کرے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ عذاب اس لیے ہواکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخا لفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کرے تو بیشک اللہ سخت سزا دینے والاہے۔

{ذٰلِكَ:یہ عذاب۔} یعنی غزوۂ بدر کے دن کفار کے دلوں میں رعب ڈالے جانے ،قتل اور قیدی ہونے کے عذاب کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے مخا لفت کی اور غزوۂ بدر کے دن جو عذاب ان پہ نازل ہوا یہ اُس عذاب کے مقابلے میں بہت تھوڑا ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ (تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۱۳، ۵ / ۴۶۴)

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان:یہ تو چکھو اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ کافروں کو آگ کا عذاب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ( سزا ہے) تواس کامزہ چکھواور اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ کافروں کے لئے آگ کا عذاب ہے۔

{ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ:یہ تو چکھو۔} یعنی اے کفار! غزوۂ بدر میں تمہارا قتل اور قید ہونا تو دنیا کی سزا ہے ،تم اس کا مزہ چکھو اور اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ آخرت میں کافروں کے لئے آ گ کا عذاب ہے۔ (جلالین، الانفال، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۱۴۸-۱۴۹، خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۱۴، ۲ / ۱۸۴، ملتقتاً)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو جب کافروں کے لام سے تمہارا مقابلہ ہو تو انہیں پیٹھ نہ دو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! جب کافروں کے لشکر سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرو۔

{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:اے ایمان والو!۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میدانِ جنگ میں مسلمان کافروں کو پیٹھ نہ دکھائیں اور یہ حکم اس وقت ہے کہ جب کفار مسلمانوں سے تعداد میں ڈبل ہوں اِس سے زیادہ نہ ہوں اور اگر کفار کی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں ڈبل سے زیادہ ہو تو پھر مسلمانوں کا پیٹھ پھیرکر بھاگنا ناجائز و حرام نہیں ہے۔ جمہور کے نزدیک ایک سو مسلمانوں کا دو سو کفار کے مقابلے سے بھاگنا کسی حال میں جائز نہیں ہے اور اگر کافر وں کی تعداد دو سو سے زیادہ ہو تو ان کے مقابلے سے بھاگنا اگرچہ جائز ہے لیکن صبر و اِستِقامت سے ان کے مقابلے میں ڈٹے رہنا بہتر اور افضل ہے۔ (تفسیر قرطبی، الانفال، تحت الآیۃ: ۱۶، ۴ / ۲۷۲، الجزء السابع)

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَىٕذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اس دن انہیں پیٹھ دے گا مگر لڑائی کا ہنر کرنے یا اپنی جماعت میں جاملنے کو تو وہ اللہ کے غضب میں پلٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا بری جگہ ہے پلٹنے کی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو اس دن لڑائی میں ہنر مندی کا مظاہرہ کرنے یا اپنے لشکر سے ملنے کے علاوہ کسی اور صورت میں انہیں پیٹھ دکھائے گا تو وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہوگا اور اس کا ٹھکاناجہنم ہے اور بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔

{وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَىٕذٍ دُبُرَهٗ:اور جو اس دن انہیں پیٹھ دکھائے گا۔} یعنی مسلمانوں میں سے جو جنگ میں کفار کے مقابلے سے بھاگا وہ غضبِ الہٰی میں گرفتار ہوا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے البتہ دو صورتیں ایسی ہیں جن میں وہ پیٹھ دکھا کر بھاگنے والا نہیں ہے۔

 



Total Pages: 191

Go To