Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: جب تم اپنے رب سے فریا د کرتے تھے تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزار فرشتوں کی قطار سے۔اور یہ تو اللہ نے کیا مگر تمہاری خوشی کو اور اس لیے کہ تمہارے دل چین پائیں اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریا د کرتے تھے تو اس نے تمہاری فریاد قبول کی کہ میں ایک ہزار لگاتار آنے والے فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کرنے والا ہوں۔ اور اللہ نے اس کوخوشخبری کیلئے ہی بنایا اور اس لیے کہ تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اور مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔

{اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ:یاد کروجب تم اپنے رب سے فریا د کرتے تھے ۔} شانِ نزول: حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ’’ غزوۂ بدر کے دن رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے مشرکین کو ملاحظہ فرمایا تو وہ ایک ہزارتھے اور آپ کے ساتھ تین سو اُنیس مرد تھے۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے قبلہ کی طرف منہ کیا اور اپنے بابرکت ہاتھ پھیلا کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے یہ دعا کرنے لگے ’’یا رب! عَزَّوَجَلَّ،تو نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما۔ یارب ! عَزَّوَجَلَّ، تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے وہ عنایت فرما ۔یارب! عَزَّوَجَلَّ، اگر تو اہلِ اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کردے گا تو زمین میں تیری پرستش نہ ہوگی ۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اسی طرح دعا کرتے رہے یہاں تک کہ مبارک کندھوں سے چادر شریف اُتر گئی۔ حضرت ابوبکر صدیق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حاضر ہوئے اور چادر مبارک شانۂ اقدس پر ڈال کر عرض کی: یا نَبِیَّ اللہ!اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ آپ کی مناجات کافی ہوگئی وہ بہت جلد اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔ اس پر یہ آیتِ شریفہ نازل ہوئی۔ (مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر۔۔۔ الخ، ص۹۶۹، الحدیث: ۵۸ (۱۷۶۳))

{اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُرْدِفِیْنَ: میں ایک ہزار لگاتار آنے والے فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کرنے والا ہوں۔} چنانچہ پہلے ایک ہزار فرشتے آئے پھر تین ہزار پھر پانچ ہزار۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  نے فرمایا کہ مسلمان اس دن کافروں کا تعاقب کرتے تھے اور کافر مسلمانوں کے آگے آگے بھاگتا جاتا تھا کہ اچانک اُوپر سے کوڑے کی آواز آتی اور سوار کا یہ کلمہ سنا جاتا تھا ’’ اَقْدِمْ حَیْزومُ‘‘ یعنی آگے بڑھ اے حیزوم (حیزوم حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے گھوڑے کا نام ہے) اور نظر آتا تھا کہ کافر گر کر مر گیا اور اس کی ناک تلوار سے اڑا دی گئی اور چہرہ زخمی ہوگیا۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے اپنے یہ معائنے بیان کئے تو حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ یہ تیسرے آسمان کی مدد ہے۔ (مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر۔۔۔ الخ، ص۹۶۹، الحدیث: ۵۸ (۱۷۶۳))

            نوٹ:غزوۂ بدر میں فرشتوں کے نزول سے متعلق مزید معلومات کے لئے سورۂ آلِ عمران آیت 124 کے تحت تفسیر ملاحظہ کیجئے۔

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان:جب اس نے تمہیں اونگھ سے گھیر دیا تو اس کی طرف سے چین تھی اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کردے اور شیطان کی ناپاکی تم سے دور فرما وے اور تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھائے اور اس سے تمہارے قدم جمادے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یاد کرو جب اس نے اپنی طرف سے تمہاری تسکین کے لئے تم پر اونگھ ڈال دی اور تم پر آسمان سے پانی اتارا تاکہ اس کے ذریعے وہ تمہیں پاک کردے اور تم سے شیطان کی ناپاکی کو دور کردے اور تمہارے دلو ں کو مضبوط کردے اور اس سے تمہارے قدم جمادے۔

{اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ:یاد کروجب اس نے تم پر اونگھ ڈال دی۔} حضرت عبداللہبن مسعود  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ غنودگی اگر جنگ میں ہو تو امن ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے اور نماز میں ہو تو شیطان کی طرف سے ہے۔ جنگ میں غنودگی کا امن ہونا اس سے ظاہر ہے کہ جسے جان کا اندیشہ ہواُسے نیند اور اونگھ نہیں آتی، وہ خطرے اور اِضطراب میں رہتا ہے ۔ شدید خوف کے وقت غنودگی آنا حصولِ امن اور زوالِ خوف کی دلیل ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ’’ جب مسلمانوں کو دشمنوں کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت سے جانوں کا خوف ہوا اور بہت زیادہ پیاس لگی تو ان پر غنودگی ڈال دی گئی جس سے انہیں راحت حاصل ہوئی ، تھکان اور پیاس دور ہوئی اور وہ دشمن سے جنگ کرنے پر قادر ہوئے۔ یہ اونگھ اُن کے حق میں نعمت تھی ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ’’ یہ اونگھ معجزہ کے حکم میں ہے کیونکہ یکبارگی سب کواونگھ آئی اور کثیر جماعت کا شدید خوف کی حالت میں اِس طرح یکبارگی اونگھ جانا خلاف ِعادت ہے۔( خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۱۱، ۲ / ۱۸۲)

{وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً:اور تم پر آسمان سے پانی اتارا ۔} غزوۂ بدر کے دن مسلمان ریگستان میں اُترے تو اُن کے اور اُن کے جانوروں کے پاؤں ریت میں دھنسے جاتے تھے جبکہ مشرکین اُن سے پہلے پانی کی جگہوں پر قبضہ کر چکے تھے ۔صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں سے بعض کو وضو کی اور بعض کو غسل کی ضرورت تھی اور اس کے ساتھ پیاس کی شدت بھی تھی۔ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ تمہارا گمان ہے کہ تم حق پر ہو، تم میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی ہیں اورتم اللہ والے ہو جبکہ حال یہ ہے کہ مشرکین غالب ہو کر پانی پر پہنچ گئے اور تم وضو اور غسل کئے بغیر نمازیں پڑھ رہے ہو تو تمہیں دشمن پر فتح یاب ہونے کی کس طرح امید ہے ؟شیطان کا یہ وسوسہ یوں زائل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بارش بھیجی جس سے وادی سیراب ہوگئی اور مسلمانوں نے اس سے پانی پیا، غسل اور وضو کئے، اپنی سواریوں کو پانی پلایا اور اپنے برتنوں کو پانی سے بھر لیا، بارش کی وجہ سے غبار بھی بیٹھ گیا اور زمین اس قابل ہوگئی کہ اس پر قدم جمنے لگے ، صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے دل خوش ہو گئے اور بارش کی نعمت کامیابی اور فتح حاصل ہونے کی دلیل ہوئی۔ (تفسیر بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۱، ۲ / ۱۹۷)

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓىٕكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: جب اے محبوب تمہارا رب فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت رکھو عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈالوں گا تو کافروں کی گردنوں سے اوپر مارو اور ان کی ایک ایک پورپر ضرب لگاؤ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یاد کرو اے حبیب! جب تمہارا رب فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت رکھو۔ عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈال دوں گا تو تم کافروں کی گردنوں کے اوپر مارو اور ان کے ایک ایک جوڑ پر ضربیں لگا ؤ۔

 



Total Pages: 191

Go To