Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

کامل ایمان والوں کے تین اوصاف:

            اس آیت میں اپنے ایمان میں سچے اور کامل لوگوں کا پہلا وصف یہ بیان ہوا کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کویاد کیا جائے تو اُن کے دل ڈر جاتے ہیں۔

            اللہ تعالیٰ کاخوف دو طرح کا ہوتا ہے: (1) عذاب کے خوف سے گناہوں کو ترک کر دینا۔ (2)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے جلال، اس کی عظمت اور اس کی بے نیازی سے ڈرنا۔ پہلی قسم کا خوف عام مسلمانوں میں سے پرہیز گاروں کو ہوتا ہے اور دوسری قسم کا خوف اَنبیاء و مُرسَلین، اولیاءے کاملین اور مُقَرَّب فرشتوں کو ہوتا ہے اور جس کااللہ تعالیٰ سے جتنا زیادہ قرب ہوتاہے اسے اتنا ہی زیادہ خوف ہوتا ہے۔ (تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۲، ۵ / ۴۵۰ ملتقطاً)

             جیسا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ میں تم سب سے زیادہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت رکھنے والا ہوں۔(بخاری، کتاب الایمان، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: انا اعلمکم باللہ، ۱ / ۱۸، الحدیث: ۲۰)

خوفِ خدا سے متعلق آثار:

            حضرت حسن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک مرتبہ درخت پر پرندے کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اے پرندے! تیرے لئے کتنی بھلائی ہے کہ تو پھل کھاتا اور درخت پر بیٹھتا ہے کاش! میں بھی ایک پھل ہوتا جسے پرندے کھا لیتے۔ (کتاب الزہد  لابن مبارک، باب تعظیم ذکر اللہ عزّوجل، ص۸۱، رقم: ۲۴۰)

             حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں ’’ میں نے حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو دیکھا کہ آپ نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر فرمایا: کاش! میں ایک تنکا ہوتا۔ کاش! میں کچھ بھی نہ ہوتا۔ کاش! میں پیدا نہ ہوا ہوتا۔ کاش! میں بھولا بسرا ہوتا۔ (کتاب الزہد  لابن مبارک، باب تعظیم ذکر اللہ عزّوجل، ص۷۹، رقم: ۲۳۴)

             حضرت عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جس مومن بندے کی آنکھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے آنسو نکلے، خواہ وہ مچھر کے سر جتنا ہو، پھر وہ آنسو رخسار کے سامنے کے حصے کو مس کرے تو اللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کی آگ حرام کر دیتا ہے (ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الحزن والبکاء، ۴ / ۴۶۷، الحدیث: ۴۱۹۷)۔[1]

            دوسرا وصف یہ بیان ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیات سن کر اُن کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ یہاں ایمان میں زیادتی سے ایمان کی مقدار میں زیادتی مراد نہیں بلکہ اس سے مراد ایمان کی کیفیت میں زیادتی ہے۔

             تیسرا وصف یہ بیان ہو اکہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ یعنی وہ  اپنے تمام کام اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کر دیتے ہیں،  اس کے علاوہ کسی سے امید رکھتے ہیں اور نہ کسی سے ڈرتے ہیں۔(خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲، ۲ / ۱۷۶)

توکل کا حقیقی معنی اور توکل کی فضیلت:

             امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’توکل کا یہ معنی نہیں کہ انسان اپنے آپ کو اور اپنی کوششوں کو مُہمَل چھوڑ دے جیساکہ بعض جاہل کہتے ہیں بلکہ توکل یہ ہے کہ انسان ظاہری اسباب کو اختیار کرے لیکن دل سے ان اَسباب پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت ،اس کی تائید اور اس کی حمایت پر بھروسہ کرے ۔ (تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۳ / ۴۱۰) اس کی تائید اس حدیث پاک سے بھی ہوتی ہے چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ایک شخص نے عرض کی :یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ،میں اپنے اونٹ کو باندھ کر توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ کر توکل کروں ؟ ارشاد فرمایا ’’تم اسے باندھو پھر توکل کرو۔ (ترمذی، کتاب صفۃ یوم القیامۃ، ۶۰-باب، ۴ / ۲۳۲، الحدیث: ۲۵۲۵)

            اور توکل کی فضیلت کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ میری امت میں سے ستر ہزار بغیر حساب جنت میں جائیں گے اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو منتر جنتر نہیں کرتے ، فال کے لیے چڑیاں نہیں اڑاتے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ پر بھروسہ کرتے ہیں۔( بخاری، کتاب الرقاق، باب ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ، ۴ / ۲۴۰، رقم۶۴۷۲)

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ(۳)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیئے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کریں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو نماز قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں۔

{ اَلَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ:وہ جو نماز قائم رکھتے ہیں۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کامل ایمان والوں کے جو تین اوصاف بیان کئے یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر کے وقت ڈر جانا، تلاوت ِقرآن کے وقت ایمان زیادہ ہونا اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا، ان تینوں کا تعلق قلبی اعمال سے تھا جبکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اُن کے دو اوصاف ایسے بیان فرمائے ہیں کہ جن کا تعلق ظاہری اعضاء کے اعمال سے ہے، پہلا وصف یہ ارشاد فرمایا کہ’’وہ جو نماز قائم رکھتے ہیں ‘‘ نماز قائم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ فرض نمازوں کو ان کی تمام شرائط و ارکان کے ساتھ اُن کے اوقات میں ادا کرنا۔ دوسرا وصف یہ ارشاد فرمایا کہ ’’اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مال اس جگہ خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم ارشاد فرمایا، اس میں زکوٰۃ، حج، جہا د میں خرچ کرنا اور نیک کاموں میں خرچ کرنا سب داخل ہے (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۳، ۲ / ۱۷۷)۔ [2]

اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: یہی سچے مسلمان ہیں ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور عزت کی روزی۔

 



[1]    دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کرنے کی ترغیب پانے اور اس سے متعلق دیگر چیزوں کی معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’خوفِ خدا‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ مفید ہے۔

[2]    اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے فضائل اور احکام وغیرہ کی معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب ’’ضیائے صدقات‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔



Total Pages: 191

Go To