Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

سورۂ اَنفال کے مضامین:

            اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں مالِ غنیمت کے احکام ، غزوۂ بدر کا تفصیلی واقعہ اور اس کی حکمتیں بیان کی گئیں اور مسلمانوں کو جنگ کے اصول سکھائے گئے ہیں۔اس کے علاوہ اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں۔

(1)اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا اور خوفِ خدا کی فضیلت بیان کی گئی۔

(2)…مکہ مکرمہ سے ہجرت کے وقت تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے خلاف کفار کی سازش اور اللہ تعالیٰ کا اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو کفار کی سازش سے محفوظ رکھنے کا بیان ہے۔

(3) … ہر چیز میں ضروری اسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم دیاگیا۔

(4) …مسلمانوں کو کفار کے ساتھ کئے ہوئے معاہدے پورے کرنے اور معاہدہ توڑنے پر ان کے ساتھ سختی کرنے کا حکم دیا گیا۔

(5) …کفار کے ساتھ جہاد کرنے کے مقاصد بیان کئے گئے۔

(6) …کفار کے دلوں میں دھاک بٹھانے کے لئے مسلمانوں کو جنگی ساز و سامان کی بھر پور تیاری کا حکم دیا گیا۔

(7) …اس سورت کے آخر میں قیدیوں کے بارے میں احکام اور مہاجرین و انصار کے مجاہدوں کے فضائل بیان کئے گئے۔

سورۂ اَعراف کے ساتھ مناسبت:

            سورۂ اَنفال کی اپنے سے ماقبل سورت ’’اعراف‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ اعراف میں مشہور رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے اپنی قوموں کے ساتھ حالات بیان کئے گئے تھے اور سورۂ اَنفال میں سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے اپنی قوم کے ساتھ حالات بیان کئے گئے ہیں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان:   اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحم والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:   اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والا ہے۔

یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِؕ -قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ۪-وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب تم سے غنیمتوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ و رسول ہیں تو اللہ سے ڈرو اور اپنے آ پس میں میل رکھو اور اللہ و رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے محبوب! تم سے اموالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ تم فرماؤ، غنیمت کے مالوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں تو اللہ سے ڈرتے رہو اور آ پس میں صلح صفائی رکھو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر تم مومن ہو۔

{ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ:اے حبیب! تم سے اموالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔} اَنفال، نَفَلْ کی جمع ہے اورا س سے مراد مالِ غنیمت ہے۔ (جمل، الانفال، تحت الآیۃ: ۱، ۳ / ۱۶۴)اور نَفَلْ  کوغنیمت اس لئے کہتے ہیں کہ یہ بھی محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عطا ہے۔ (بیضاوی، الانفال، تحت الآیۃ: ۱، ۳ / ۸۷)  شانِ نزول: اس آیت کے شانِ نزول سے متعلق مختلف روایات ہیں ، ان میں سے دو روایات یہاں ذکر کی جاتی ہیں :

(1)…حضرت ابو امامہ باہلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ، میں نے حضرت عبادہ بن صامت  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے آیتِ انفال کے نزول کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ’’یہ آیت ہم اہلِ بدر کے حق میں نازل ہوئی جب غنیمت کے معاملہ میں ہمارے درمیان اختلاف پیدا ہوا اور بدمزگی کی نوبت آگئی تو اللہ تعالیٰ نے معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکال کر اپنے رسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے سپرد کر دیا اور آپ نے وہ مال مسلمانوں میں برابر تقسیم کردیا۔(مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث عبادۃ  بن الصامت رضی اللہ عنہ، ۸ / ۴۱۰، الحدیث: ۲۲۸۱۱)

(2)… حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ سرورِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے غزوۂ بدر کے دن ارشاد فرمایا: ’’ جو تم میں سے یہ کام کر دکھائے اسے مالِ غنیمت میں سے یہ انعام ملے گا۔ چنانچہ نوجوان آگے بڑھ گئے اور عمر رسیدہ حضرات جھنڈوں کے پاس کھڑے رہے اور وہاں سے نہ ہٹے۔ جب اللہ تعالیٰ نے کافروں پر فتح عطا فرمائی تو بوڑھوں نے فرمایا: ’’ہم تمہارے پشت پناہ تھے، اگر تمہیں شکست ہو جاتی تو تم ہماری طرف آتے لہٰذا یہ نہیں کہ غنیمت تم لے جاؤ اور ہم خالی ہاتھ رہ جائیں۔ جوانوں نے اس بات سے انکار کیا اور کہا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ہمارا یہ حق مقرر فرمایا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی النفل، ۳ / ۱۰۲، الحدیث: ۲۷۳۷)

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ(۲)

ترجمۂ کنزالایمان:ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کویاد کیا جائے توان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔

{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ:ایمان والے وہی ہیں۔} اس سے پہلی آیت میں اللہتعالیٰ نے ایمان کی شرط کے ساتھ اپنی اور اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اطاعت کا حکم دیا کیونکہ کامل ایمان، کامل اطاعت کو مستلزم ہے۔ جبکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کامل ایمان والوں کے تین اوصاف بیان فرمائے ہیں۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲، ۲ / ۱۷۵-۱۷۶)

 



Total Pages: 191

Go To