Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

۱۷۱)

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَاؕ-قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِـعُمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْۚ-هٰذَا بَصَآىٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(۲۰۳)وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہ لاؤ تو کہتے ہیں تم نے دل سے کیوں نہ بنائی۔ تم فرماؤ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب سے وحی ہوتی ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنا ہے اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے لیے  اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے حبیب! جب تم ان کے پاس نشانی نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے خود ہی کیوں نہ بنا لی؟ تم فرما ؤ: میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب کی طرف سے وحی بھیجی جاتی ہے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھول دینے والے دلائل ہیں اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

{وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ:اور جب قرآن پڑھا جائے۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی عظمت بیان فرمائی تھی کہ قرآنِ پاک کی آیات تو تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھول دینے والے دلائل ہیں اور ایمان لانے والے لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے اورا س آیت میں بتایا ہے کہ اس کی عظمت وشان کا تقاضا یہ ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنا جائے اور خاموش رہا جائے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ۵ / ۴۳۹)

            علامہ عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآنِ کریم پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارجِ نماز اُس وقت سننا اور خاموش رہنا واجب ہے۔ (مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ص۴۰۱)

امام کے پیچھے قرآن پڑھنے کی ممانعت:

            یاد رہے کہ اس آیتِ مبارکہ کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ، ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں خطبہ کو بغور سننے اور خاموش رہنے کا حکم ہے۔اور ایک قول یہ ہے کہ اس آیت سے نماز و خطبہ دونوں میں بغور سننے اور خاموش رہنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے ۔ جبکہ جمہور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماس طرف ہیں کہ یہ آیت مقتدی کے سننے اور خاموش رہنے کے باب میں ہے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ۲ / ۱۷۲، مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ص۴۰۱، ملتقطاً)

            خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت سے امام کے پیچھے قرآنِ پاک پڑھنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے اور کثیر احادیث میں بھی یہی حکم فرمایا گیا ہے کہ امام کے پیچھے قراء ت نہ کی جائے۔ چنانچہ

(1)… حضرت بشیر بن جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے نماز پڑھائی تو آپ نے کچھ لوگوں کو سنا کہ وہ نماز میں امام کے ساتھ قراء ت کررہے ہیں۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ’’ کیا ابھی تمہارے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ تم اس آیت کے معنی سمجھو۔ (تفسیر ابن جریر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ۶ / ۱۶۱)

(2)…حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم نماز پڑھنے لگو تو اپنی صفوں کو درست کرلو، پھر تم میں سے کوئی ایک امامت کروائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو۔ ایک روایت میں اتنا زائد ہے کہ اور جب وہ قراء ت کرے تو تم خاموش رہو۔ (مسلم، کتاب الصلاۃ، باب التشہد فی الصلاۃ، ص۲۱۴-۲۱۵، الحدیث: ۶۲-۶۳(۴۰۴))

(3)… حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں ، نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’امام اسی لئے ہوتا ہے کہ اس کی اِقتداء کی جائے پس جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قراء ت کرے تو خاموش رہو۔( ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنّۃ فیہا، باب اذا قرأ الامام فانصتوا، ۱ / ۴۶۱، الحدیث: ۸۴۶)

(4)… حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جس نے ایک رکعت بھی بغیر سورۂ فاتحہ کے پڑھی اس کی نماز نہ ہوئی مگر یہ کہ امام کے پیچھے ہو۔ (ترمذی، ابواب الصلاۃ، باب ما جاء فی ترک القراء ۃ خلف الامام۔۔۔ الخ، ۱ / ۳۳۸، الحدیث: ۳۱۳)

            نوٹ:یہاں ایک اور مسئلہ بھی یاد رکھیں کہ بعض لوگ ختم شریف میں مل کر زور سے تلاوت کرتے ہیں یہ بھی ممنوع ہے۔

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ(۲۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو زاری اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح اور شام اور غافلوں میں نہ ہونا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کروگڑگڑاتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے اور بلندی سے کچھ کم آواز میں ،صبح و شام، اور غافلوں میں سے نہ ہونا۔

{وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا:اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو گڑگڑاتے ہوئے۔} اس آیت میں خطاب رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے ہے اور اس خطاب میں امتِ مصطفٰی بھی داخل ہے کہ یہ حکم تمام مُکَلَّفِین کو عام ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ اس آیت میں ذکر سے مراد نماز میں قراء ت کرنا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ذکر میں تلاوت ِقرآن، دعا اور تسبیح و تہلیل وغیرہ تمام اَذکار شامل ہیں۔(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۵، ۲ / ۱۷۳، مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۵، ص۴۰۲، ملتقطاً)

             خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر دل میں کیا جائے یا درمیانی آواز میں ، حد سے زیادہ بلند آواز میں چیختے ہوئے نہ کیا جائے، نیز اللہ تعالیٰ کا ذکر عاجزی اورخوف کے ساتھ ہو۔ نیز ذِکْرُ اللہ  صبح و شام کیا جائے۔ بلند آواز سے اور آہستہ آواز سے ذکر کرنا دونوں کے بارے میں احادیث موجود ہیں ، اگر ذکر کرنے والے کو ریاکاری کا اندیشہ ہو یا نمازیوں اور آرام کرنے والوں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو تو آہستہ ذکر کیا جائے ورنہ بلند آواز سے کرنے میں حرج نہیں۔

{بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ:صبح اور شام۔} ان دونوں اوقات میں ذکر کرنا افضل ہے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ صبح کے وقت انسان نیند سے بیدار ہوتا ہے تو اس وقت ذکر کرنے سے اس کے نامۂ اعمال میں سب سے پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنا لکھا جائے گا اور شام کے وقت انسان سوتا ہے اور نیند ایک طرح کی موت ہے، لہٰذا اس وقت بھی ذکر کرنا مناسب ہے کہ ممکن ہے سوتے میں ہی انتقال ہو



Total Pages: 191

Go To