Book Name:Sirat ul Jinan Jild 3

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور میں انہیں ڈھیل دوں گا بیشک میری خفیہ تدبیر بہت مضبوط ہے۔

{وَ اُمْلِیْ لَهُمْ:اور میں انہیں ڈھیل دوں گا ۔} یعنی میں ان کی عمر لمبی کر دوں گا تاکہ یہ کفر اور گناہوں میں مزید آگے بڑھ جائیں اور گناہوں کی وجہ سے ان پر جلدی عذاب نازل نہیں کروں گا تاکہ ان کی توبہ اور رجوع کی کوئی صورت نہ رہے، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت مضبوط اور میری گرفت سخت ہے۔(تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۳، ۵ / ۴۱۸، روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۳، ۳ / ۲۸۸، ملتقطاً)

 گناہوں کے باوجود عمر لمبی ہو تو اسے بہتر نہ سمجھا جائے:

            یاد رہے کہ کفر اور گناہوں کے باوجود لمبی عمر ملنا، فوری عذاب نہ ہونا اور مَصائب و آلا م کانہ آنا ایسی چیز نہیں کہ جسے اپنے حق میں بہتر سمجھا جائے بلکہ توبہ نہ کرنے کی صورت میں یہی مہلت گناہوں میں اضافے اور تباہی و بربادی کا سبب بن جاتی ہے، ارشادِ رَبّانی ہے: ’’وَ  لَا  یَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  كَفَرُوْۤا  اَنَّمَا  نُمْلِیْ  لَهُمْ  خَیْرٌ  لِّاَنْفُسِهِمْؕ-اِنَّمَا  نُمْلِیْ  لَهُمْ  لِیَزْدَادُوْۤا  اِثْمًاۚ-وَ  لَهُمْ  عَذَابٌ  مُّهِیْنٌ‘‘ (آل عمران:۱۷۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور کافر ہرگز یہ گمان نہ رکھیں کہ ہم انہیں جومہلت دے رہے ہیں یہ ان کے لئے بہتر ہے ، ہم توصرف اس لئے انہیں مہلت دے رہے ہیں کہ ان کے گناہ اور زیادہ ہوجائیں اور ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔

             حضرت ابو بکرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں :ایک شخص نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے عرض کی: یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ، لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ ارشاد فرمایا ’’جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہوں۔ اس نے عرض کی:لوگوں میں سب سے بد تر کون ہے؟ ارشاد فرمایا ’’ جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برے ہوں۔(ترمذی، کتاب الفتن، ۲۲-باب منہ، ۴ / ۱۴۸، الحدیث: ۲۳۳۷)

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْاٚ-مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍؕ-اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(۱۸۴)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا سوچتے نہیں کہ ان کے صاحب کوجنون سے کچھ علاقہ نہیں وہ تو صا ف ڈر سنانے والے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا وہ غوروفکر نہیں کرتے کہ ان کے صاحب کے ساتھ جنون کا کوئی تعلق نہیں ، وہ تو صا ف ڈر سنانے والے ہیں۔

{مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ:ان کے صاحب کے ساتھ جُنون کا کوئی تعلق نہیں۔} کفارِ مکہ میں سے بعض جاہل قسم کے لوگ سرکارِ دو عالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی طرف جنون کی نسبت کرتے تھے، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ سیدُ الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے افعال کفار کے افعال سے جدا تھے کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ دنیا اور اس کی لذتوں سے منہ پھیر کر آخرت کی طرف متوجہ تھے ۔ اللہتعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور اس کا خوف دلانے میں شب و روز مشغول تھے، یوں نبیٔ  اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا عمل ان کے طریقے کے مخالف ہوا تو انہوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو مجنون سمجھا۔ حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ’’نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ رات کے وقت کوہِ صفا پر چڑھ کر قبیلے قبیلے کو پکارتے ہوئے فرماتے ’’اے بنی فلاں ! اے بنی فلاں ! اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے ڈراتے تو کفار میں سے کوئی کہتا کہ تمہارے صاحب مجنون ہیں ،رات سے لے کر صبح تک چلاتے رہتے ہیں اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے معمولات میں انہیں غورو تَفکر کرنے کی دعوت دی تا کہ انہیں معلوم ہو جائے کہ نبیٔ  اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کسی جنون کی وجہ سے نہیں بلکہ انہیں عذابِ الہٰی سے ڈرانے کے لئے پکارتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ وحی نازل ہوتے وقت رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر عجیب حالت طاری ہوتی، چہرہ مُتَغَیّر ہوجاتا، رنگ پیلا پڑ جاتا اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آپ پر غشی طاری ہو۔ یہ دیکھ کر جاہل لوگ آپ کی طرف جنون کی نسبت کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان جاہلوں کا رد کرتے ہوئے اس آیت میں فرمایا کہ میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَپر کسی قسم کا جنون نہیں یہ تو انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف بلاتے ہیں اور اپنے فصیح الفاظ کے ساتھ قطعی دلائل پیش کرتے ہیں ،ان کی فصاحت کا مقابلہ کرنے سے پوری دنیائے عرب عاجز آ چکی ہے۔ میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے اخلاق بہت عمدہ اور مُعاشرت بڑی پاکیزہ ہے،ان کی ہر عادت و خصلت انتہائی نیک ہے ہمیشہ اچھے کام کرتے ہیں اور اسی وجہ سے تمام عقلمندوں کے مُقتدا و پیشوا ہیں اور یہ بالکل بدیہی بات ہے کہ جو انسان عمدہ اور پاکیزہ شخصیت کا حامل ہو اسے مجنون قرار دینا کسی طرح بھی درست نہیں۔(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۴، ۲ / ۱۶۵، تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۴، ۵ / ۴۲۰)

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍۙ-وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْۚ-فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ(۱۸۵)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا انہو ں نے نگاہ نہ کی آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور جو جو چیز اللہ نے بنائی اور یہ کہ شاید ان کا وعدہ نزدیک آگیا ہو تو اس کے بعد اور کونسی بات پر یقین لائیں گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا انہو ں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت اور جو جو چیز اللہ نے پیدا کی ہے اس میں غور نہیں کیا؟ اور اس بات میں کہ شاید ان کی مدت نزدیک آگئی ہو تو اس (قرآن) کے بعد اور کونسی بات پر ایمان لائیں گے؟

{اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا:کیا انہو ں نے غور نہیں کیا ؟} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا ان کفار نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت اور جو جو چیز اللہ عَزَّوَجَلَّنے پیدا کی ہے اس میں غور نہیں کیا تاکہ وہ ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی قدرت و وحدانیت پر اِستدلال کرتے کیونکہ ان سب میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حکمت و قدرت کے کمال کی بے شمار روشن دلیلیں موجود ہیں اور کیا انہوں نے اس بات میں غور نہیں کیا کہ شاید ان کی موت کی مدت نزدیک آگئی ہو اور وہ کفر کی حالت میں مرنے کے بعد ہمیشہ کے لئے جہنمی ہوجائیں ؟ ایسے حال میں عقل مند پر لازم ہے کہ وہ سوچے، سمجھے اور دلائل پر نظر کرے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی رسالت اور قرآنِ عظیم کے کتابِ الہٰی ہونے پر ایمان لائے کیونکہ قرآنِ پاک کے بعد اور کوئی کتاب اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے بعد اور کوئی رسول آنے والا نہیں جس کا انتظار ہو کہ قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب اور حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ آخری نبی ہیں ،اگر ان پر ایمان نہیں لایا تو پھر کس پر ایمان لائے گا۔

 



Total Pages: 191

Go To